ذخیرہ اندوزی فقہ جعفریہ کی نظر میں

تحریر: سید محمد حسن رضوی

قدیم زمانے سے انسانی معاشرے احتکار یعنی ذخیرہ اندوزی اور اس کے منفی اثرات کا شکار ہیں جس کی روک تھام کے لیے آسمانی شرائع اور مختلف حکومتوں میں قوانین ایجاد کیے  گئے۔ احتکار عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی حبس ، جمع اور ذخیرہ کرنے کے ہیں۔ اردو میں اس کا ترجمہ ذخیرہ اندوزی کیا جاتا ہے۔ ہر دور میں اجناس اور لوگوں کی ضرورت کی اشیاء کو زیادہ منافع حاصل کرنے کی غرض سے ذخیرہ کرنا اور مہنگا بیچنے کا جرم انجام دیا جا رہا ہے جس کی ظلمت سے پورا انسانی معاشرہ تکلیف اور سختی میں مبتلا ہوتا ہے۔ خصوصا آج کے دور میں اس کی شرح گذشتہ زمانے کی نسبت سے بہت بڑھ چکی ہے۔ آج کے دور میں ادویات، علاج معالجے کی چیزیں، بجلی ، تیل ، گندم، اینٹیں، پتھر ، سریہ وغیرہ غرض ہر وہ چیز جو معاشرے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کو منہ مانگی قیمت حاصل کرنے یا کسی معاشرے کو ضعف و ناتوانی کا شکار کرنے کے لیے عالمی سطح پر پابندیوں کے نام سے ذخیرہ اندوزی/احتکار کا جرم انجام دیا جاتا ہے۔

فقہِ جعفری میں ذخیرہ اندوزی/احتکار کے بارے میں حکم شرعی متعدد معتبر احادیث میں وارد ہوا ہے جن سے فقہاءِ امامیہ نے استنباط کر کے حکم شرعی بیان کیا ہے۔ اس مسئلہ میں فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس بارے میں بنیاد دو قول پائے جاتے ہیں:

۱۔ مشہور فقہاء اصلِ احتکار کے حرام ہونے کے قائل ہیں۔

۲۔ فقہاء کی ایک جماعت جیسے شیخ مفید، شیخ طوسی، صاحبِ جواہر کے نزدیک احتکار مکروہ ہے جو بعض دیگر اسباب کی وجہ سے حرام ہو سکتا ہے۔

مشہور فقہاء کی حرمت پر دلیل معتبر احادیث مثل صحیحِ سالم حنّاط و صحیحِ عبید اللہ حلبی، انسانی نفوس کی حفاظت، قاعدہ عُسر و حرج و قاعدہ لا ضرر، اجماع اور حاکم کا محتکر کو خرید و فروخت پر مجبور کرنا ہیں۔

اس کے مقابلے میں کراہتِ احتکار کے قائل فقہاء کی دلیل اصالتِ اباحہ، قاعدہ ’’الناس مسلطون على أموالهم ، لوگوں کا اپنے مال پر مسلط ہونا‘‘ اور بعض دیگر معتبر احادیث ہیں جو کراہت پر دلالت کرتی ہیں۔

ذخیرہ اندوزی کی حرمت یا کراہت کی شرائط:

تمام فقہاء متفق ہیں کہ ذخیرہ اندوزی کا حکم چاہے اسے حرام قرار دیا جائے یا مکروہ اس وقت جاری ہو گا جب اس میں تین شرائط پائی جائیں:

۱۔ شیء کا محبوس کرنا۔

۲۔ لوگوں کو اس کی حاجت ہونا۔

۳۔  لوگوں کی ضرورت کو پورا کرنے کی مقدار میں فروخت کرنے والے کا نہ ہونا۔

اگر یہ تین شرائط موجود نہ ہو تو ذخیرہ اندوزی حرام نہیں ہے۔ بعض فقہاء نے بعض دیگر شرائط جیسے مہنگا بیچنے کے لیے مال کو ذخیرہ کرنا، قلت کے ایام میں تین دن اور ایامِ وسعت میں چالیس دن کی ذخیرہ اندوزی اور محتکر یعنی ذخیرہ اندوزی کرنے والے کا سب مال خرید لینے کی شرائط کو معتبر قرار دیا ہے۔ اکثر فقہاء قائل ہیں کہ احتکار کا تعلق فقط غذا و خوراک سے ہے جبکہ بعض فقہاء نے ذخیرہ اندوزی/احتکار کے دائرہ کو وسعت دی ہے اور ہر اس شیء کے احتکار کو ممنوع قرار دیا ہے جس کی ضرورت عامۃ الناس کو پیش آتی ہے۔

ذخیرہ اندوزی کا تعلق چار اجناس سے

اکثر فقہاء کرام احادیث جیسے حدیثِ مؤثق غیاث بن ابراہیم اور اجماع کی بناء پر احتکار کا مورد صرف چار اجناس  یعنی گندم، جَو، کھجور اور کشمش کو قرار دیتے ہیں اور بعض نے ان چار میں نمک اور تیل کا اضافہ کیا ہے۔ آیت اللہ خوئی اور بعض فقہاء نے احتکار کا مورد ہر وہ  خوراک قرار دی ہے جو کسی علاقہ میں اکثر بیشتر استعمال کی جاتی ہے۔ ان کے مقابلے میں بعض فقہاء قائل ہیں ہر وہ شیء جو معاشرے کی ضرورت ہو اور اس کو ذخیرہ کرنے سے لوگوں کو ضرر پہنچتا ہو وہ ذخیرہ اندوزی حرام ہے، چاہے وہ بجلی گیس پٹرول وغیرہ ہو یا کھانے پینے کی اشیاء ہو۔

ذخیرہ اندوزی کرنے والے کی سزا

فقہِ جعفری میں ذخیرہ اندوزری کرنے والا/محتکر دنیا و آخرت ہر دو جگہ سزا کا مستحق قرار پاتا ہے۔ دین اسلام نے ذخیرہ اندوزی/احتکار کے جرم کو قابو کرنے کے لیے حاکم کی ذمہ داری لگائی ہے کہ وہ محتکر کو مجبور کرے کہ وہ اپنا مال بیچنے کے لیے بازار میں لائے اور ایسی قیمت معین کرے جو لوگوں کی قوتِ خرید سے باہر نہ ہو۔ اگر محتکر اس قدر زیادہ  قیمت رکھتا ہے کہ لوگ خرید نہ سکیں تو حاکم خود ایسی قیمت کا تعین کرے گا جس سے محتکر کو بھی نقصان نہ ہو اور لوگوں کی قوتِ خرید کے دائرہ میں ہو۔ اگر ذخیرہ اندوزی کرنے کی وجہ سے معاشرے کو ایسا ضرر پہنچتا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی ہلاکت ہو جاتی ہے یا نا قابل برداشت تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو فساد فی الارض یا قتل نفس محترم کے عنوان کی وجہ سے ذخیرہ اندوزی کی سزا قتل یا پھانسی تجویز کی جا سکتی ہے۔

عالمی منڈی میں ذخیرہ اندوزی کی تعریف

الہٰی قانون کے مقابلے میں ریاستوں میں حکومتی سطح پر بشر کا بنایا ہوا قانون ہے جو اپنے آپ کو کسی مذہب یا کسی تفکر کے تابع نہیں سمجھتا اور اپنی صوابدید پر قانون ایجاد کرتا ہے۔ ایسے قوانین کو قانونِ وضعی کہتے ہیں۔ فقہ جعفری اور قانونں وضعی میں احتکار کے بعض پہلو مشترک ہیں اور بعض جہات سے اختلاف پایا جاتا ہے۔ قانون وضعی یعنی ممالک کے حکومتی و ریاستی قوانین کے مطابق احتکار سے مراد ایک کمپنی یا ایک ادارہ یا ایک شخص کا کسی مصنوعات کو تنہا صادر کرنا اور خود ان کی قيمت معین کرنا ہے ، بازار میں کوئی دوسرا ان مصنوعات کو صادر کرنے والا نہ ہوجس کی وجہ سے تمام لوگ یا ادارے مجبور ہوں کہ وہ اس مصنوعات کو فقط اسی ادارہ یا کمپنی سے خریدیں۔ قانونِ وضعی میں احتکار کا دارمدار بازار میں فروخت ہونے والی مصنوعات پر ہے۔ بازار سے مراد وہ جگہ ہے جہاں اشیاء یا خدمات کی خرید و فروخت کے لیے دکاندار اور گاہگ آپس میں ملتے ہیں۔ یہ مکان مادی بھی ہو سکتا ہے اور فرضی بھی جیساکہ انٹرنیٹ کی دنیا ہے۔اس اعتبار سے احتکار کی مختلف قسمیں سامنے آتی ہیں، مثلاً احتکارِ تام، احتکار قلیل وغیرہ۔ احتکارِ تام میں ایک بیچنے والا ہوتا ہے جس کا کوئی اور متبادل نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ بازار پر قابض ہو جاتا ہے۔ قانونِ وضعی نے احتکار کو ممنوع قرار دیا ہے اور محتکر کے لیے شدید سزائیں رکھیں ہیں۔ممالک کے قومی سطح پر بننے والے آئین اور قوانین میں احتکار کو ممنوع قرار دیا گیا ہے اور اس کی سزا کو معین کیا گیا ہے۔

Scroll to Top