منتظر ِ امام کا مرتبہ و مقام
گزشتہ دروس میں عرض ہوا کہ زمانہ غیبت امت کے لیے ایک کمال ہے۔ غیبت صرف بارہویں امام کے ساتھ مختص نہیں بلکہ تقریبا تمام امتوں نے زمانہ غیبت گزارا ہے ۔ روایات میں وارد ہوا ہے
گزشتہ دروس میں عرض ہوا کہ زمانہ غیبت امت کے لیے ایک کمال ہے۔ غیبت صرف بارہویں امام کے ساتھ مختص نہیں بلکہ تقریبا تمام امتوں نے زمانہ غیبت گزارا ہے ۔ روایات میں وارد ہوا ہے
الکافی سے مہدویت کے موضوع پر وارد ہونے والے ابواب اور ان میں موجود احادیث کی شرح پیش کی جا رہی تھی۔ انہی احادیث میں سے ایک حدیث اس موضوع پر ہے کہ غیبت کے زمانے میں عبادات انجام دینا
گزشتہ دروس میں عرض ہوا کہ زمانہ غیبت امت کے رُشد و ارتقاء کا زمانہ ہے۔ اس زمانے کے مومنین ایمان کے اعلی ترین درجات پر فائز ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس زمانے کے مومنین کو دیکھنے کی حسرت کی۔
اللہ تعالی کے شکر گزار ہیں جس نے ہمیں روایات آئمہ اطہارؑ کو پڑھنے کی توفیق عطا فرمائی۔ مرحوم کلینی کی کتاب الکافی سے غیبت امام زمانؑ کے موضوع پر ہم پہنچے ہیں۔ دعا کرتے ہیں
خداوند متعال کے شکر گزار ہیں جس نے یہ علمی دسترخوان نصیب کیا۔ ان نورانی ذوات سے فیض و برکات حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔
الکافی کی جس حدیث مبارک کو ہم محورِ گفتگو قرار دے رہے ہیں اس کو « حدیثِ نُوَمَہ» کہتے ہیں ۔
بیان ہوا کہ غیبت تکامل کا ایک مرحلہ ہے جو بشریت نے طے کرنا ہے۔ غیبت محرومیت یا عِقاب نہیں بلکہ بشریت کے شرف اور اس کی تکمیل کا باعث ہے۔
بیان ہوا کہ امام زمانؑ کا غیبت اختیار کرنا اللہ تعالی کی طرف سے ہے لیکن غیبت کے طولانی ہونے کی وجہ امت ہے۔
امامؑ کی غیبت تشکیکی ہے یعنی بعض اوقات غیبت شدید تر ہے اور بعض اوقات غیبت میں شدت نہیں بلکہ کم ہے، مثلاً امامؑ ظاہر ہیں
الکافی مکتبِ تشیع کا قدیم ترین حدیثی مأخذ ہے جوکہ زمانہِ امامت کے ساتھ متصل ہے۔ الکافی امام مہدیؑ کے چار نوابِ اربعہ کے دور میں لکھی گئی