منتظر ِ امام کا مرتبہ و مقام
گزشتہ دروس میں عرض ہوا کہ زمانہ غیبت امت کے لیے ایک کمال ہے۔ غیبت صرف بارہویں امام کے ساتھ مختص نہیں بلکہ تقریبا تمام امتوں نے زمانہ غیبت گزارا ہے ۔ روایات میں وارد ہوا ہے
گزشتہ دروس میں عرض ہوا کہ زمانہ غیبت امت کے لیے ایک کمال ہے۔ غیبت صرف بارہویں امام کے ساتھ مختص نہیں بلکہ تقریبا تمام امتوں نے زمانہ غیبت گزارا ہے ۔ روایات میں وارد ہوا ہے
تحریر: سید محمد حسن رضوی امام مہدیؑ کے ظہور اور ان کے عدل و انصاف کے ساتھ عالمی حکومت کے
اگر مغربی تفکر سے پوچھیں کہ اگر آپ کو پوری دنیا کا نظام دے دیا جاۓ تو آپ دنیا کے لیے کیا کریں گے؟ اس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں کی مادی ضروریات پوری کریں گے۔
الکافی سے مہدویت کے موضوع پر وارد ہونے والے ابواب اور ان میں موجود احادیث کی شرح پیش کی جا رہی تھی۔ انہی احادیث میں سے ایک حدیث اس موضوع پر ہے کہ غیبت کے زمانے میں عبادات انجام دینا
گزشتہ دروس میں عرض ہوا کہ زمانہ غیبت امت کے رُشد و ارتقاء کا زمانہ ہے۔ اس زمانے کے مومنین ایمان کے اعلی ترین درجات پر فائز ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس زمانے کے مومنین کو دیکھنے کی حسرت کی۔
تدریس: آیت اللہ رضا عابدینی تدوین: عون نقوی گزشتہ دروس میں عرض ہوا کہ زمانہ غیبت امت کے لیے ایک
اللہ تعالی کے شکر گزار ہیں جس نے ہمیں روایات آئمہ اطہارؑ کو پڑھنے کی توفیق عطا فرمائی۔ مرحوم کلینی کی کتاب الکافی سے غیبت امام زمانؑ کے موضوع پر ہم پہنچے ہیں۔ دعا کرتے ہیں
الکافی مکتبِ تشیع کا قدیم ترین حدیثی مأخذ ہے جوکہ زمانہِ امامت کے ساتھ متصل ہے۔ الکافی امام مہدیؑ کے چار نوابِ اربعہ کے دور میں لکھی گئی اور اسی وقت عالم تشیع میں نشر ہو گی۔
خداوند متعال کے شکر گزار ہیں جس نے یہ علمی دسترخوان نصیب کیا۔ ان نورانی ذوات سے فیض و برکات حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔
الکافی کی جس حدیث مبارک کو ہم محورِ گفتگو قرار دے رہے ہیں اس کو « حدیثِ نُوَمَہ» کہتے ہیں ۔