کتاب کا مقدمہ
اللہ تعالیٰ پاک و منزہ ہے ، اللہ تعالیٰ ظاہر ہے ۔ سورج خود مخفی نہیں ہے لیکن شدتِ روشنی کی وجہ سے سورج کو دن کے وقت دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ پاک و منزہ ہے ، اللہ تعالیٰ ظاہر ہے ۔ سورج خود مخفی نہیں ہے لیکن شدتِ روشنی کی وجہ سے سورج کو دن کے وقت دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔
عقائد و افکار انسان کی زندگی کا وہ اہم ترین سرمایہ ہے جس کی اساس پر اس کی زندگی اور آخرت ہر دو بگڑتی یا سنوارتی ہے ۔
قرآن کریم میں اللہ سبحانہ کی صفات و اسماء کا کثرت سے تذکرہ وارد ہوا ہے۔ یہ اسماء و صفات الفاظ و کتابت کی صورت میں ہمارے سامنے تحریر ہیں
اسماءِ الہٰی کا موضوع انتہائی اہمیت کا حامل موضوع ہے کیونکہ اسماءِ الہٰی انسان اور خدا کے درمیان بنیادی رکن کی حیثیت رکھتے ہیں۔
فصوص الحکم میں ۲۷ فصوص ہیں۔ ہر فص ایک انسان کامل سے متعلق ہے جس میں اس نبی ؑ سے متعلق خصوصیات کو ذکر کیا گیا ہے۔
فصوص الحکم کے عظیم شارح داؤد قیصری کا تحریر کردہ مقدمہ جوکہ بارہ فصلوں پر مشتمل ہے کو بتوفیق الہٰی ہم مطالعہ کر چکے ہیں۔
cقرآن کریم کی روش یہ ہے کہ مخالف نظریہ کو کامل معنی کے ساتھ نقل کرتا ہے اور اس کا جواب دیتا ہے، مثلاً قرآن کریم نے ابلیس اور کفار کے نظریات کا تذکرہ کیا ہے
اسماءِ الہٰی کے لیے ظاہر ہے اور باطن بھی۔ پس اسم باطن شامل ہے غیبِ مطلق کے لیے وحدتِ حقیقی کو اور اعیانِ ثابتہ کو۔ اعیانِ ثابتہ مظہر ہیں اسمِ باطن کے۔
عودِ روح یعنی روح کا پلٹنا ۔ہم معادِ جسمانی کے قائل ہیں نہ کہ فقط روح کے پلٹنے کے اگرچے جسم کی خصوصیت کے بارے میں بحث ہے جوکہ جدا موضوع ہے۔
مسائل علم سے مراد وہ تصدیقات و قضایا ہیں جو موضوع ومحمول سے مرکب ہوتے ہیں اور موضوع ’’موضوع علم‘‘ میں سے ہوتا ہے