شہادت… خیال سے حقیقت کا ایک سفر
راہِ شہادت پر ثابت قدمی سے گامزن رہنا اور دنیا کے جھمیلوں میں دین کى آباد کارى کے راستوں میں قدم رکھنا ’’ خیال سے حقیقت کا ایک سفر ‘‘ ہے جس کا اختتام راہِ الہٰى پر اپنے وجود کو قربان کرنے دینے
راہِ شہادت پر ثابت قدمی سے گامزن رہنا اور دنیا کے جھمیلوں میں دین کى آباد کارى کے راستوں میں قدم رکھنا ’’ خیال سے حقیقت کا ایک سفر ‘‘ ہے جس کا اختتام راہِ الہٰى پر اپنے وجود کو قربان کرنے دینے
ولایت فقیہ امامت کی جزوی بحث ہے۔ اگر ہمارے لیے امامت ثابت ہو جاۓ تو جزوی طور پر ولایت فقیہ بھی ثابت ہو جاتی ہے۔ اس لیے ولایت فقیہ کی دلیلیں بھی وہی دلیلیں ہیں جو نبوت اور امامت کی ضرورت ثابت کرنے کے لیے پیش کی جاتی ہیں۔
مسلمانوں کے درمیان اختلافی ترین موضوع امامت رہا ہے۔ اس مسئلے پر کئی جنگیں و کشت کشتار ہوا۔ امت کا حاکم کون ہوگا؟ امت کس کی قیادت میں چلے؟ یہ وہ مسئلہ ہے جس پر امت شیعہ سنی میں تقسیم ہو جاتی ہے۔
سوال:وحدت کا ضروری ہونا اور اختلاف کو ختم کرنے پر جو زور دیا جاتا ہے اور تنقید کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ امّ المؤمنین حضرت عائشہ نے خلیفہِ برحق امام علیؑ کی بیعت نہیں کی
کلمہِ سادات آیات و روایات میں نسب کے معنی میں نہیں آیا بلکہ کسی بھی قوم کے سردار یا سربراہ کو سید کہا جاتا تھا اور آج بھی یہ کلمہ عربی زبان میں اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے
ولایت فقیہ عقلی ادلہ سے بہت آسانی سے ثابت کی جاسکتی ہے۔ لیکن روایات سے اثبات کے لیے لمبی بحث درکار ہے جس میں سند، متن، معانی اور حجیت کو ثابت کرنا پڑتا ہے۔
تناسخ کی بحث اہمیت کی حامل بحث ہے۔ تناسخ کی دو قسمیں کی جاتی ہیں:
ماضی کےآئینہ میں دورِ صحابہ کو مشاہدہ کیجیےجہاں کئی توہین کے واقعات انجام پا چکے ہیں ۔ ان میں سے بعض کیسز اور مقدمات کی مختصر رُوداد پیش خدمت ہے۔
امام حسین علیہ السلام کے بعد کاروانِ حسینی کی سب سے عظیم اور شجاع ترین شخصیت امام سجاد علیہ السلام تھے۔ ہمارے معاشروں میں امام سجاد علیہ السلام کی شخصیت کو عموما مسخ اور تحریف کر کے پیش کیا جاتا ہے
زمانہ غیبت میں مسلمانوں کے اجتماعی و سیاسی امور کے حوالے سے علماء کرام کے دو متقابل نظریات ہیں۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ علماء پر مسلمین کے اجتماعی امور سنبھالنے کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ دوسرا نظریہ کہتا ہے کہ جس طرح انبیاء پر معاشروں کی اصلاح کرنا واجب ہے اسی طرح علماء پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مسلمین کے اجتماعی امور کی اصلاح کریں۔