الحاد ایک باطل نظریہ
الحاد عربی زبان کا لفظ ہے جس کے حروفِ اصلی ’’ل-ح-د‘‘ ہیں۔ قدیمی عربی لغات کے مطابق اس لفظ کے معنی ایک طرف جھکاؤ ، مائل ہونے اور دینِ الہٰی سے انحراف
الحاد عربی زبان کا لفظ ہے جس کے حروفِ اصلی ’’ل-ح-د‘‘ ہیں۔ قدیمی عربی لغات کے مطابق اس لفظ کے معنی ایک طرف جھکاؤ ، مائل ہونے اور دینِ الہٰی سے انحراف
ولایت قرآن کریم کی اصطلاح ہے۔ اس لفظ کے دیگر مشتقات بھی قرآن کریم میں وارد ہوۓ ہیں۔ ولایت کا معنی افراد کاباہمی طور پر شدید ارتباط رکھنا ہے۔
گزشتہ درس میں بیان ہوا کہ بعثت کے بنیادی دو اہداف ہیں۔ معاشروں کی اسلامی تعلیمات کی اساس پر تعلیم و تربیت کرنا اور ان پر عادلانہ نظام قائم کرنا۔
گزشتہ درس میں بیان ہوا کہ ایک بعثت درونی ہے جو نبی کی ذات میں ایجاد ہوتی ہے۔ اور دوسری بعثت بیرونی نتیجہ ہے اس پہلی بعثت کا جو معاشرے میں وجود میں آتی ہے
اللہ تعالیٰ پاک و منزہ ہے ، اللہ تعالیٰ ظاہر ہے ۔ سورج خود مخفی نہیں ہے لیکن شدتِ روشنی کی وجہ سے سورج کو دن کے وقت دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔
عقائد و افکار انسان کی زندگی کا وہ اہم ترین سرمایہ ہے جس کی اساس پر اس کی زندگی اور آخرت ہر دو بگڑتی یا سنوارتی ہے ۔
عوام الناس اولیاء اللہ سے ایک بنیادی فرق رکھتے ہیں، اکثر عوام کی نبضِ روح ضعیف ہے وہ مادیات یا عالم مادیات سے تجاوز نہیں رکھتے۔
لغت میں قدرت کا معنی ملکیت میں ہونا اور غنی ہونا یا ایک شیء کا اپنی آخری حد تک پہنچنا ہے۔ راغب اصفہانی کے مطابق قدرت کو اگر انسان کے ساتھ متصف کیا جائے
علمی دنیا میں اللہ تعالیٰ کے ما سوا کو ’’عالم‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ کائنات کے وجود و تحقق کے بارے میں جب بحث کی جاتی ہے
قرآن کریم میں اللہ سبحانہ کی صفات و اسماء کا کثرت سے تذکرہ وارد ہوا ہے۔ یہ اسماء و صفات الفاظ و کتابت کی صورت میں ہمارے سامنے تحریر ہیں