ولایت کے مراتب
حقیقی ولایت کا مالک اللہ تعالی ہے۔ اللہ تعالی نے اپنی طرف سے یہ ولایت انبیاء کرام اور اپنے اولیاء کرام کو عطا کی ہے۔ پس اللہ تعالی اور نبی کی ولایت قابل مقائسہ نہیں ہے۔
حقیقی ولایت کا مالک اللہ تعالی ہے۔ اللہ تعالی نے اپنی طرف سے یہ ولایت انبیاء کرام اور اپنے اولیاء کرام کو عطا کی ہے۔ پس اللہ تعالی اور نبی کی ولایت قابل مقائسہ نہیں ہے۔
بیان ہوا کہ ہماری بحث ولایت کی اس قسم میں ہے جو حکومت اور مدیریت کے معنی میں ہے۔ کسی بھی معاشرے کے اوپر حکومت اور اس کی مدیریت کا مسئلہ سب سے اہم ہوتا ہے۔
شیعہ و سنی کتب میں رسول اللہ ﷺ کی معتبر احادیث میں وارد ہوا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے امام علیؑ کو ناکثین ، قاسطین اور مارقین سے جنگ لڑنے کی خبر دی تھی۔
ہر قوم و ملت کے خوشی اور غمی کے ایام ہوتے ہیں۔ دین اسلام ایک کامل اور جامع دین مکتب ہے جوکہ انسانیت کو ایک نظر سے دیکھتا ہے
قرآن کریم میں اللہ سبحانہ کی صفات و اسماء کا کثرت سے تذکرہ وارد ہوا ہے۔ یہ اسماء و صفات الفاظ و کتابت کی صورت میں ہمارے سامنے تحریر ہیں
رسول اللہ ﷺ قطب الاقطاب ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اقطاب متعدد ہیں۔ اسماء الہٰی میں سے ہر اسم کی دو صورتیں ہیں: ایک صورت ’’علمِ الہٰی‘‘ میں ہے
واحد سے کچھ صادر نہیں ہوتا سوائے واحد کے۔ اس قاعدہ کا اطلاق فقط اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے۔ حتی عقل اول پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا ہے کیونکہ عقل اول ممکن ہے۔
اہل لغت نے تصریح کی ہے کہ کلمہِ اسم یا تو ’’س-م-و‘‘ یعنی سمو سے بنا ہے یا ’’و-س-م‘‘ یعنی وسم سے مشتق ہے۔’’ سِمُوٌّ‘‘کا مطلب علوّ و بلندی ہے