الحاد ایک باطل نظریہ
الحاد عربی زبان کا لفظ ہے جس کے حروفِ اصلی ’’ل-ح-د‘‘ ہیں۔ قدیمی عربی لغات کے مطابق اس لفظ کے معنی ایک طرف جھکاؤ ، مائل ہونے اور دینِ الہٰی سے انحراف
الحاد عربی زبان کا لفظ ہے جس کے حروفِ اصلی ’’ل-ح-د‘‘ ہیں۔ قدیمی عربی لغات کے مطابق اس لفظ کے معنی ایک طرف جھکاؤ ، مائل ہونے اور دینِ الہٰی سے انحراف
۱۔ یوم مبعث سال کے تمام دنوں سے افضل اور عظیم و بابرکت ترین دن ہے۔ ہمیں اس دن کو یاد اور اس کی عظمت کو مجسم کرنا چاہئے۔
حقیقی ولایت کا مالک اللہ تعالی ہے۔ اللہ تعالی نے اپنی طرف سے یہ ولایت انبیاء کرام اور اپنے اولیاء کرام کو عطا کی ہے۔ پس اللہ تعالی اور نبی کی ولایت قابل مقائسہ نہیں ہے۔
بیان ہوا کہ ہماری بحث ولایت کی اس قسم میں ہے جو حکومت اور مدیریت کے معنی میں ہے۔ کسی بھی معاشرے کے اوپر حکومت اور اس کی مدیریت کا مسئلہ سب سے اہم ہوتا ہے۔
ولایت قرآن کریم کی اصطلاح ہے۔ اس لفظ کے دیگر مشتقات بھی قرآن کریم میں وارد ہوۓ ہیں۔ ولایت کا معنی افراد کاباہمی طور پر شدید ارتباط رکھنا ہے۔
گزشتہ درس میں بیان ہوا کہ بعثت کے بنیادی دو اہداف ہیں۔ معاشروں کی اسلامی تعلیمات کی اساس پر تعلیم و تربیت کرنا اور ان پر عادلانہ نظام قائم کرنا۔
گزشتہ درس میں بیان ہوا کہ ایک بعثت درونی ہے جو نبی کی ذات میں ایجاد ہوتی ہے۔ اور دوسری بعثت بیرونی نتیجہ ہے اس پہلی بعثت کا جو معاشرے میں وجود میں آتی ہے
انسان کی خلقت ایک ہدف کے تحت ہوئی ہے۔ وہ ہدف تکامل یا لقاء الہی ہے۔ ظاہر ہے اس ہدف تک پہنچنا آسان کام نہیں۔ انسانوں کے اس ہدف تک پہنچنے کے لیے اللہ تعالی نے انبیاء مبعوث فرماۓ ہیں۔
شیعہ و سنی کتب میں رسول اللہ ﷺ کی معتبر احادیث میں وارد ہوا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے امام علیؑ کو ناکثین ، قاسطین اور مارقین سے جنگ لڑنے کی خبر دی تھی۔
گزشتہ تحریروں میں ہم نے آزادی انسان، عبودیت اور قانون کے بارے میں مختصر طور پر جانا۔ یہاں پر ایک سوال ابھرتا ہے کہ ان سب ابحاث کا ولایت فقیہ سے کیا تعلق ہے؟