جنگ صفین میں شہید ہونے والے صحابہ کرام
جنگ صفین میں صحابہ کرام کی ایک بڑی تعداد شہادت سے ہمکنار ہوئی۔ تعجب آور بات یہ ہے کہ شہید ہونے والے بھی صحابہ تھے اور قاتلین و باغی بھی صحابہ تھے۔ یہاں یہ سوال ابھرتا ہے کہ آخر کیسے تمام صحابہ عادل ہو سکتے ہیں
جنگ صفین میں صحابہ کرام کی ایک بڑی تعداد شہادت سے ہمکنار ہوئی۔ تعجب آور بات یہ ہے کہ شہید ہونے والے بھی صحابہ تھے اور قاتلین و باغی بھی صحابہ تھے۔ یہاں یہ سوال ابھرتا ہے کہ آخر کیسے تمام صحابہ عادل ہو سکتے ہیں
۳۵ ھ کو جب امام علیؑ کے ہاتھوں میں زمامِ حکومت آئی تو آپؑ نے متعدد سابقہ حکمران برطرف کر دئیے اور ان کی جگہ عدالت کے معیار کے تحت نئے والی و حاکم مقرر کیے
امام علیؑ منصبِ حکومت پر فائز ہونے کا موقع دیا اور بالآخر لوگوں کے شدید اصرار اور حجت کے تمام ہونے کی بناء پر امام علیؑ کو بارِ خلافت اپنے کندھوں پر اٹھانا پڑا۔
نہج البلاغہ میں متعدد جگہ امام علیؑ نے حضرت عثمان سے متعلق اپنے موقف کو بیان کیا ہے اور عالم اسلام اٹھنے والے فتنوں کی بیخ کنی کے لیے حتی الامکان سعی و کوشش کرتے ہوئے نورانی کلمات ارشاد فرمائے ہیں۔
معاویہ بن مغیرہ بن ابی العاص کا شمار ان بدترین دشمنانِ اسلام میں ہوتا ہے جنہیں رسول اللہ ﷺ کے حکم سے خصوصی طور پر قتل کیا گیا اور اس کے شر سے عالم اسلام کو نجات عطا کی گئی۔
امام علیؑ نے اپنے دور حکومت میں معقل بن قیس سے مختلف کی خدمات لیں اور معقل نے بھی انتہائی جانفشانی کے ساتھ اپنے آپ کو امام علیؑ کے توقعات کے مطابق سرخرو کیا۔
سب سے پہلے ہم جس کتاب سے احادیث کو پیش کر رہے ہیں وہ رجال الکشی ہے جوکہ علم رجال کی سب سے قدیمی اور معتبر ترین کتب میں سے ہے۔
علم رجال میں ایک بحث یہ وارد ہوئی ہے کہ جب رجالی کسی راوی کی جرح کرتا ہے یا کسی کی عدالت کو بیان کرتا ہے تو کیا اس کے لیے جرح و تعدیل کا سبب بیان کرنا ضروری ہے؟
وثوق کا لفظ وثق سے ہے جس کے لغوی معنی اعتماد کرنے کے ہیں۔(( راغب اصفہانی، حسین بن محمد، المفردات فی غریب القرآن، ج۱، ص۵۱۲۔))
ابو المعزاء حُمید بن مثّنی کی توثیق قدماء میں سے نجاشی اور طوسی نے کی ہے اور انہی کے اقوال کی بناء پر متأخر علماء رجال نے ان کی وثاقتِ خاص کو ذکر کیا ہے۔