منتظر ِ امام کا مرتبہ و مقام
گزشتہ دروس میں عرض ہوا کہ زمانہ غیبت امت کے لیے ایک کمال ہے۔ غیبت صرف بارہویں امام کے ساتھ مختص نہیں بلکہ تقریبا تمام امتوں نے زمانہ غیبت گزارا ہے ۔ روایات میں وارد ہوا ہے
گزشتہ دروس میں عرض ہوا کہ زمانہ غیبت امت کے لیے ایک کمال ہے۔ غیبت صرف بارہویں امام کے ساتھ مختص نہیں بلکہ تقریبا تمام امتوں نے زمانہ غیبت گزارا ہے ۔ روایات میں وارد ہوا ہے
ترجمہ:جو کوئی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے عاجزی و فروتنی کرے گا تو خدواند عالم اسے بلند کرے گا اور جو کوئی تکبر کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے پست کرے گا۔
لفظ صدق کےمعنی:کسی شئی کےاندر بذاتہ قوت کا پایاجانا، سچ کےبرخلاف جھوٹ ہے۔(( ابن فارس ،مقائیس اللغہ ج۳،ص۳۳۹ ))
شیخ طوسىؒ نے اپنى كتاب ’’ تہذیب الاحكام ‘‘ میں امام حسن عسكرىؑ سے اس روایت كو نقل كیا ہے۔ امام حسن عسكرىؑ فرماتے ہیں
ماہ رمضان ایک منظم برنامہ کے تحت اللہ تعالیٰ کی بندگی ہے۔ ماہِ رمضان میں عبادتِ طمع اور عبادتِ خوف جہنم ہے۔
خداوند متعال کے شکر گزار ہیں جس نے یہ علمی دسترخوان نصیب کیا۔ ان نورانی ذوات سے فیض و برکات حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔
الکافی کی جس حدیث مبارک کو ہم محورِ گفتگو قرار دے رہے ہیں اس کو « حدیثِ نُوَمَہ» کہتے ہیں ۔
بیان ہوا کہ غیبت تکامل کا ایک مرحلہ ہے جو بشریت نے طے کرنا ہے۔ غیبت محرومیت یا عِقاب نہیں بلکہ بشریت کے شرف اور اس کی تکمیل کا باعث ہے۔
بیان ہوا کہ امام زمانؑ کا غیبت اختیار کرنا اللہ تعالی کی طرف سے ہے لیکن غیبت کے طولانی ہونے کی وجہ امت ہے۔
امام علیؑ کے دور میں اسلامی ریاست کی حدود ایران و افریقہ تک پھیل گئیں تھیں جن پر عثمانی حکمران متعین تھے۔