عقائدی اور سیاسی پہلو

اسلامی سیاست, سیاسی شبہات, شبہات کے جوابات, عقائدی اور سیاسی پہلو, موضوعات, ولایت فقیہ

زمانہ غیبت میں دین کی تعطیل کا نظریہ

زمانہ غیبت میں مسلمانوں کے اجتماعی و سیاسی امور کے حوالے سے علماء کرام کے دو متقابل نظریات ہیں۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ علماء پر مسلمین کے اجتماعی امور سنبھالنے کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ دوسرا نظریہ کہتا ہے کہ جس طرح انبیاء پر معاشروں کی اصلاح کرنا واجب ہے اسی طرح علماء پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مسلمین کے اجتماعی امور کی اصلاح کریں۔

اسلامی سیاست, سیاسی شبہات, شبہات کے جوابات, عقائدی اور سیاسی پہلو, موضوعات, ولایت فقیہ

اصل ضابطہ عدم ولایت

اصل یہ ہے کہ اللہ تعالی کے علاوہ کسی کو ولایت حاصل نہیں ہے۔ اسے اصلِ عدم ولایت سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ شیعہ مکتب اور اس کے نظریات کو سمجھنے کے لیے اس اصل کا سمجھنا بہت ضروری ہے۔ شیعہ قائل ہے کہ ولایت حقیقی طور پر اللہ تعالی کو حاصل ہے اور کسی ذات کو اس وقت تک ولی نہیں مانا جاۓ گا جب تک قطعی طور پر ثابت نہ ہو جاۓ کہ اس ذات کو اللہ تعالی کی طرف سے ولایت حاصل ہے۔

اسلامی سیاست, سیاسی شبہات, شبہات کے جوابات, عقائدی اور سیاسی پہلو, موضوعات, ولایت فقیہ

(حصہ دوم) ولایت فقیہ پر عقل و نقل سے مرکب دلیل

ولایت فقیہ بدیہی امر ہے۔ ولایت فقیہ پر دلیل کے نام سے جو مطالب پیش کئے جاتے ہیں در اصل وہ مؤیدات ہیں۔ ہم تلفیقی دلیل کے ذیل میں صرف مقدمات کو قارئین کے سامنے بیان کر رہے ہیں۔

اصول سیاست, سیاسی شبہات, شبہات کے جوابات, عقائدی اور سیاسی پہلو, موضوعات

ولایت فقیہ اور ضرورتِ قانون و نظم

غیر اللہ کے لیے اصل عدمِ ولایت ہے۔ اس لیے اگر ہم اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور ذات کے لیے ولایت ثابت کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں قطعی دلیل لانا ہوگی۔ ولی فقیہ کو جو ولایت حاصل ہے وہ حکومت کرنے، معاشرے کی مدیریت کرنے کے معنی میں ہے۔ اس ولایت پر ہمارے پاس تین قسم کی قطعی دلیلیں ہیں۔ پہلی دلیل محض(خالص) عقلی ہے۔

اسلامی سیاست, سیاسی شبہات, شبہات کے جوابات, عقائدی اور سیاسی پہلو, موضوعات, ولایت فقیہ

نظریہ ولایت فقیہ حملوں کی زد میں

عقلی اور روائی دلیل سے مرکب دلیل جسے تلفیقی دلیل کہا جاتا ہے کو گزشتہ اقساط میں اجمالی طور پر بیان کیا گیا۔ اس تحریر میں دلیل پر ابھرنے والے چند سوالات کے جواب دئیے جائیں گے۔

اسلامی سیاست, سیاسی شبہات, شبہات کے جوابات, عقائدی اور سیاسی پہلو, موضوعات, ولایت فقیہ

امامت و خلافت اہل تشیع کی نظر میں

شیعہ نظریہ امامت کو قرآن کریم اور صحیح السند روایات سے ثابت کرتے ہیں۔ مخالفین شیعہ پر اعتراض کرتے ہیں کہ نظریہ امامت شیعہ کتب سے ثابت نہیں ہے ۔ ان کے بقول شیعہ کتابوں میں بھی چند ضعیف السند روایات ہیں جن سے نظریہ امامت ثابت ہوتا ہے۔ حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے۔ معترضین صرف وہ روایات لے آتے ہیں جو ضعیف ہیں صحیح السند روایات نہیں لے آتے۔

اسلامی سیاست, سیاست امام علی از نہج البلاغہ, سیاسی شبہات, شبہات کے جوابات, عقائدی اور سیاسی پہلو, موضوعات, ولایت فقیہ

امامت و خلافت اہل سنت کی نظر میں

معاشروں کے اوپر ایک خلیفہ ،امام یا حاکم کے ضروری ہونے میں شیعہ اور سنی ہر دو قائل ہیں اختلاف صرف اس بات کا ہے کہ وہ امام اللہ تعالی بناۓ گا یا امت خود بناۓ گی۔برادران اہل سنت کے نزدیک معاشروں پر ایک حاکم کا ہونا ایک فقہی مسئلہ ہے۔ لیکن عملی طور پر اس مسئلے کے ساتھ اصول دین سے بھی بڑھ کر برتاؤ کرتے ہیں۔اہل سنت اس تضاد کا شکار کیوں ہوۓ اس تحریر میں اختصار کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے۔

اسلامی سیاست, سیاسی شبہات, شبہات کے جوابات, عقائدی اور سیاسی پہلو, موضوعات, ولایت فقیہ

شیعہ نظریات کی علمی ترقی

دین اسلام نے علم ِنافع حاصل کرنے کا درس دیا ہے۔ روایات اہل بیتؑ میں علم ِغیر نافع سے پناہ مانگنے کی تلقین وارد ہوئی ہے۔ افسوس کے ساتھ بعض افراد علم غیر نافع کی تلاش میں رہتے ہیں

اسلامی سیاست, سیاسی شبہات, شبہات کے جوابات, عقائدی اور سیاسی پہلو, موضوعات, ولایت فقیہ

کلمہ ولی فقیہ میں ولی سے مراد

گزشتہ قسط میں بیان ہوا کہ ولی فقیہ کی ولایت سے مراد ولایت تکوینی یا ولایت بر تشریع نہیں۔ فقیہ کو وہ مقام و منزلت و فضیلت حاصل نہیں ہے جو امام معصوم کو حاصل ہوتی ہے۔ اور نا ہی فقیہ خود سے کوئی قانون وضع کر سکتا ہے۔ وہ صرف ولایت تشریعی رکھتا ہے۔ اس معنی میں کہ الہی قانون اور دین کے تابع رہ کر معاشرے کی سرپرستی کرے۔

اسلامی سیاست, سیاسی شبہات, شبہات کے جوابات, عقائدی اور سیاسی پہلو, موضوعات, ولایت فقیہ

ولی فقیہ کی شرائط اور ذمہ داریاں

گزشتہ قسط میں بیان ہوا کہ ولایت فقیہ سے مراد یہ نہیں ہے کہ فقیہ کو ولایت تکوینی حاصل ہے۔ ولایت فقیہ میں فقیہ صرف دین الہی کے مقررات کا محافظ ہوتا ہے اور جس طرح سے شریعت میں وارد ہوا ہے اس کو نافذ کر کے معاشرے کی مدیریت کرتا ہے۔

Scroll to Top