جنگ نہروان کے بعد دہشت گردوں کے حملے
جنگ نہروان کے بعد امیرالمومنینؑ شام جانے کا ارادہ رکھتے تھے اور فرمایا کہ اللہ تعالی نے تمہیں خوارج کے خلاف نصرت عطا کی اب شام جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہو، اشعث بن قیس اور دیگر افراد نے کہا
جنگ نہروان کے بعد امیرالمومنینؑ شام جانے کا ارادہ رکھتے تھے اور فرمایا کہ اللہ تعالی نے تمہیں خوارج کے خلاف نصرت عطا کی اب شام جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہو، اشعث بن قیس اور دیگر افراد نے کہا
امام علیؑ کا دورِ حکومت اگرچے جنگوں اور باہمی تنازعات سے پُر ہے لیکن اگر سیرتِ علیؑ کا مطالعہ کیا جائے تو وحدتِ اسلامی کے قیام کے لیے امام علیؑ کی انتھک اور کثیر کاوشیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔
معاشروں کے اوپر ایک خلیفہ ،امام یا حاکم کے ضروری ہونے میں شیعہ اور سنی ہر دو قائل ہیں اختلاف صرف اس بات کا ہے کہ وہ امام اللہ تعالی بناۓ گا یا امت خود بناۓ گی۔برادران اہل سنت کے نزدیک معاشروں پر ایک حاکم کا ہونا ایک فقہی مسئلہ ہے۔ لیکن عملی طور پر اس مسئلے کے ساتھ اصول دین سے بھی بڑھ کر برتاؤ کرتے ہیں۔اہل سنت اس تضاد کا شکار کیوں ہوۓ اس تحریر میں اختصار کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے۔
سقیفہ بنی ساعدہ قبیلہ انصار کی ایک بیٹھک تھی جہاں انصار کے مختلف قبائل اٹھتے بیٹھتے تھے اور مختلف امور میں میٹنگز کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی رحلت کے بعد خلافت کے مسائلہ پر چند مہاجرین و انصار یہاں جمع ہوئے
۳۷ ھ جنگ صفین کے اختتام پر شام کے باغیوں کے سرغنہ کی جانب سے ایک سازشی چال چلی گئی جس کے نتیجہ میں لشکرِ امام علیؑ میں بے بصیرت و بے شعور طبقہ انتشار و پراگندگی کا شکار ہو گیا جو آنے والے دنوں میں خوارج کے نام سے پہچانا گیا۔
جنگ صفین میں صحابہ کرام کی ایک بڑی تعداد شہادت سے ہمکنار ہوئی۔ تعجب آور بات یہ ہے کہ شہید ہونے والے بھی صحابہ تھے اور قاتلین و باغی بھی صحابہ تھے۔ یہاں یہ سوال ابھرتا ہے کہ آخر کیسے تمام صحابہ عادل ہو سکتے ہیں
۳۵ ھ کو جب امام علیؑ کے ہاتھوں میں زمامِ حکومت آئی تو آپؑ نے متعدد سابقہ حکمران برطرف کر دئیے اور ان کی جگہ عدالت کے معیار کے تحت نئے والی و حاکم مقرر کیے
امام علیؑ منصبِ حکومت پر فائز ہونے کا موقع دیا اور بالآخر لوگوں کے شدید اصرار اور حجت کے تمام ہونے کی بناء پر امام علیؑ کو بارِ خلافت اپنے کندھوں پر اٹھانا پڑا۔
انسان کی خلقت ایک ہدف کے تحت ہوئی ہے۔ وہ ہدف تکامل یا لقاء الہی ہے۔ ظاہر ہے اس ہدف تک پہنچنا آسان کام نہیں۔ انسانوں کے اس ہدف تک پہنچنے کے لیے اللہ تعالی نے انبیاء مبعوث فرماۓ ہیں۔
شیعہ و سنی کتب میں رسول اللہ ﷺ کی معتبر احادیث میں وارد ہوا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے امام علیؑ کو ناکثین ، قاسطین اور مارقین سے جنگ لڑنے کی خبر دی تھی۔