جنگ نہروان کے بعد دہشت گردوں کے حملے
جنگ نہروان کے بعد امیرالمومنینؑ شام جانے کا ارادہ رکھتے تھے اور فرمایا کہ اللہ تعالی نے تمہیں خوارج کے خلاف نصرت عطا کی اب شام جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہو، اشعث بن قیس اور دیگر افراد نے کہا
جنگ نہروان کے بعد امیرالمومنینؑ شام جانے کا ارادہ رکھتے تھے اور فرمایا کہ اللہ تعالی نے تمہیں خوارج کے خلاف نصرت عطا کی اب شام جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہو، اشعث بن قیس اور دیگر افراد نے کہا
امام علیؑ کا دورِ حکومت اگرچے جنگوں اور باہمی تنازعات سے پُر ہے لیکن اگر سیرتِ علیؑ کا مطالعہ کیا جائے تو وحدتِ اسلامی کے قیام کے لیے امام علیؑ کی انتھک اور کثیر کاوشیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔
امام حسین علیہ السلام کے بعد کاروانِ حسینی کی سب سے عظیم اور شجاع ترین شخصیت امام سجاد علیہ السلام تھے۔ ہمارے معاشروں میں امام سجاد علیہ السلام کی شخصیت کو عموما مسخ اور تحریف کر کے پیش کیا جاتا ہے
اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتِ اسلامیہ کے سیاسی و اجتماعی ہدایت کے نظام کا نام ’’امامت‘‘ ہے جس کے پانچویں حاکم و ہادی اور الہٰی حکمران ’’امام محمد باقرؑ‘‘ ہیں جن کی ولادت با سعادت معروف قول کے مطابق ۵۷ ھ اور رجب المرجب کی پہلی تاریخ کو مدینہ منورہ میں ہوئی اور۷ ذی الحجہ ۱۱۴ ھ میں ہشام بن عبد الملک
گزشتہ درس میں بیان ہوا کہ ایک بعثت درونی ہے جو نبی کی ذات میں ایجاد ہوتی ہے۔ اور دوسری بعثت بیرونی نتیجہ ہے اس پہلی بعثت کا جو معاشرے میں وجود میں آتی ہے۔ نبی کی ذات جب اندر سے منقلب ہوتی ہے تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرے میں انقلاب وجود میں آتا ہے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا ہدف کیا ہے؟ بعثت کی ضرورت کیا ہے؟ کیا انسانی معاشرے نبی کے بعثت کے بغیر کمال کی طرف نہیں بڑھ سکتے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا اس تحریر میں جواب دیا جاۓ گا۔
کتاب: ولايت فقيه، آيت الله جوادى آملى تدريس: سيد محمد حسن رضوی تدوين: عون نقوی امام حسینؑ کی حیات طیبہ
ترتیب و تنظیم: سید محمد حسن رضوی 06/12/2025 عیدِ اللہ اکبر: عید غدیر ، عیداللہ اکبر ہے اور باقی سب
آپ مکتب تشیع کے آٹھویں امام ہیں۔ حکومتی سطح پر اجاگر ہوۓ اس لیے تاریخ میں آپ کی امامت کا وسیع بیان وارد ہوا ہے۔ ہمارے پاس زندگانی امام کے بہت سے پہلو موجود ہیں جو تاریخ میں وارد ہوۓ ہیں ظاہر ہے ان سب کی توضیح ہمارے بس سے باہر ہے اس لیے ہم امامؑ کی زندگی کے صرف ایک پہلو کو سامنے رکھتے ہیں۔ یہ پہلو امامؑ کی امامت کا پہلو ہے۔ امامؑ کی امامت کا پہلو یعنی سیاسی پہلو۔ کیونکہ مکتب تشیع میں امامت و سیاست میں کوئی فرق نہیں۔
امام جعفر صادقؑ کے دور کے سیاسی حالات کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس دور کے سیاسی حکمران یعنی بنو امیہ کی سیاست کو سمجھنا ہوگا۔ جب تک اس منحوس خاندان کو نہیں سمجھتے بقیہ آئمہ معصومینؑ کی زندگانی کو بھی بہتر طور پر درک نہیں کر سکتے۔ بنو امیہ کی تاریخ مسلمانوں کے لیے بہت درد بھری ہے۔ یہ لوگ ابتداء اسلام میں مسلمانوں کے بدترین دشمن رہے بعد میں فتح مکہ کے موقع پر جب گردن پر تلوار لٹکتی ہوئی دیکھی تو مجبورا اسلام لے آۓ
سیاست کا کلمہ عربی زبان کا لفظ ہے جو فارسی اور اردو میں عام الاستعمال ہے۔ اس لفظ کے معنی میں جتناب ابہام پیدا کیا گیا ہے شاید ہی اس کی نظیر کسی اور جگہ ہمیں دکھائی دیتی ہو۔ اسلامی متون اور روائی نصوص میں یہ لفظ ہمیں کثرت سے دکھائی دیتا ہے جس کی وجہ سے بعض اوقات یہ شائبہ پایا جاتا ہے کہ شاید دین اسلام میں بھی سیاست کو وہی معنی ہے جو معاشروں میں اقتدار کی کرسی کے پیچھے دین فروخت کرنے والے مراد لیتے ہیں !! لہٰذا ضروری ہے کہ ہم سیاست کے حقیقی معنی کو سیاست کے تحریف شدہ معنی سے جدا طور پر جانیں اور احادیث کی روشنی میں اس کے حقیقی معنی سے آشنائی پیدا کریں تاکہ اسلامی معنی سیاست اور الہٰی سیاستدان کی معرفت حاصل کی جا سکے۔