وحدت اسلامی اور اختلاف امام علی کی نگاہ میں
امام علیؑ کا دورِ حکومت اگرچے جنگوں اور باہمی تنازعات سے پُر ہے لیکن اگر سیرتِ علیؑ کا مطالعہ کیا جائے تو وحدتِ اسلامی کے قیام کے لیے امام علیؑ کی انتھک اور کثیر کاوشیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔
امام علیؑ کا دورِ حکومت اگرچے جنگوں اور باہمی تنازعات سے پُر ہے لیکن اگر سیرتِ علیؑ کا مطالعہ کیا جائے تو وحدتِ اسلامی کے قیام کے لیے امام علیؑ کی انتھک اور کثیر کاوشیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔
حکومت کے لغوی معنی فرمان جاری کرنے یا حکمرانی کرنے کے ہیں۔ اور اصطلاح میں حکومت سے مراد عمومی طور پر ملکی سیاست کا ڈھانچہ ہوتا ہے۔ مفکرین سیاسی حکومت کو مختلف جہات سے تقسیم کرتے ہیں۔ ایک تقسیم بر اساس تعداد حاکم ہے۔
ارسطو ۳۸۴سال قبل از مسیح یونان کے شہر استاگیرا میں پیدا ہوۓ۔ سترہ سال کی عمر میں افلاطون کی اکیڈمی میں داخل ہوۓ۔ ارسطو کے فلسفہ سیاسی میں افلاطون کے نظریات کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے
یونانی فلاسفہ کے نظریات ہر دور میں توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ سیاسی مفکرین آج بھی ان کے نظریات سے خود کو بے نیاز نہیں سمجھتے۔ افلاطون ان افراد میں سے ہے ہیں جن سے اسلامی فلاسفہ بھی متاثر ہوۓ بغیر نہیں رہ سکے۔
غیر اللہ کے لیے اصل عدمِ ولایت ہے۔ اس لیے اگر ہم اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور ذات کے لیے ولایت ثابت کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں قطعی دلیل لانا ہوگی۔ ولی فقیہ کو جو ولایت حاصل ہے وہ حکومت کرنے، معاشرے کی مدیریت کرنے کے معنی میں ہے۔ اس ولایت پر ہمارے پاس تین قسم کی قطعی دلیلیں ہیں۔ پہلی دلیل محض(خالص) عقلی ہے۔
بیان ہوا کہ ہماری بحث ولایت کی اس قسم میں ہے جو حکومت اور مدیریت کے معنی میں ہے۔ کسی بھی معاشرے کے اوپر حکومت اور اس کی مدیریت کا مسئلہ سب سے اہم ہوتا ہے۔ اگر حکومت اور مدیریت اچھی ہو تو معاشرہ ارتقاء کے مراحل کو تیزی سے طے کرتا ہے اور اگر بری ہو تو معاشرہ جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔
گزشتہ درس میں بیان ہوا کہ ایک بعثت درونی ہے جو نبی کی ذات میں ایجاد ہوتی ہے۔ اور دوسری بعثت بیرونی نتیجہ ہے اس پہلی بعثت کا جو معاشرے میں وجود میں آتی ہے۔ نبی کی ذات جب اندر سے منقلب ہوتی ہے تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرے میں انقلاب وجود میں آتا ہے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا ہدف کیا ہے؟ بعثت کی ضرورت کیا ہے؟ کیا انسانی معاشرے نبی کے بعثت کے بغیر کمال کی طرف نہیں بڑھ سکتے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا اس تحریر میں جواب دیا جاۓ گا۔
ولی امر مسلمین امام خامنہ ای دام ظلہ العالی عصرِ حاضر کی معروف ترین شخصیت ہیں ۔آپ رہبر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم اسلامی مفکر بھی ہیں۔ آپ کی شخصیات کے مختلف پہلو ہیں۔ لیکن جس پہلو کی طرف بہت کم لوگ متوجہ ہیں وہ اسلامی مفکر ہونا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ان کی شخصیت کے اس پہلو کی طرف مسلمین توجہ نہ کریں تو یہ ان کے ساتھ ظلم ہوگا۔
کتاب: ولايت فقيه، آيت الله جوادى آملى تدريس: سيد محمد حسن رضوی تدوين: عون نقوی امام حسینؑ کی حیات طیبہ
کتاب: ولايت فقيه، آيت الله جوادى آملى تدريس: سيد محمد حسن رضوی تدوين: عون نقوی مدینہ فاضلہ کے اندر تیسری