ذہانت کا امتحان
آخر كار كوئى بھى شاگرد رسول اللہ ﷺ كے اس سوال كا اطمىنان بخش جواب نہ دے سكا جس كسى نے بھى جواب دیا موردِ قبول رسول اللہ ﷺ نہ ہوا۔ وہ سوال جو رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے کیا تھا
آخر كار كوئى بھى شاگرد رسول اللہ ﷺ كے اس سوال كا اطمىنان بخش جواب نہ دے سكا جس كسى نے بھى جواب دیا موردِ قبول رسول اللہ ﷺ نہ ہوا۔ وہ سوال جو رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے کیا تھا
رسول اللہ ﷺ اور ان كے اصحاب اپنى سواريوں سے نيچے اترے اور سب نے سامان سفر كھول ديا۔ اس كے بعد سب لوگوں نے آپس ميں يہ فيصلہ كيا ايك گوسفند ذبح كر كے اس كا گوشت تيار كيا جائے۔
ایک دن رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے پوچھا کہ کیا تم لوگ جاننا چاہوگے کہ تم میں سے بد ترین لوگ کون ہیں؟ اصحاب نے عرض كى يا رسول اللہ: جى ہاں!
رسول اللہ ﷺ نے فرمايا: تم ميں سے بد ترين لوگ وہ ہیں جو:
امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ قوم بنى اسرائيل کا ايك شخص تين سال دعا كرتا رہا كہ اس كو خدا بيٹا عطا كرے ليكن اس كى دعا قبول نہ ہوئى۔ اس نے خدا كى بارگاہ ميں عرض كى كہ اے خدا كيا
{اسلامی داستانیں: داستان نمبر ۱۱۶} ترجمه: عون نقوی شیخ محمد بن یعقوب کلینی نے اپنی سند سے نقل کیا ہے:
رسول اكرم ﷺ اونٹ پر سوار ہو كر كسى جنگ پر نكل رہے تھے كہ ايك عربى انكى خدمت ميں حاضر ہوا اور اونٹ كو روك كر رسول اللہ ﷺسے پوچھا كہ مجھے كوئى ايسا عمل بتائيں كہ ميں جنت ميں پہنچ جاؤں۔
ایک دن اللہ تعالی نے حضرت موسى ؑپر وحى نازل كى اور پوچھا كہ اے موسى ؑ كيا توجانتا ہے كہ سب بندوں ميں سے ميں نے صرف تمہیں ہی کلیم كيوں بنايا ہے؟