امام باقرؑ اور معتزلہ فرقے کا امام
جنگ جمل میں دونوں طرف لشکر آمادہِ جنگ ہو گئے اور صفیں بچھ گئیں تو امام علیؑ نے آخری حجت تمام کرنے کے لیے اپنے لشکر والوں کے سامنے پیشکش کی
جنگ جمل میں دونوں طرف لشکر آمادہِ جنگ ہو گئے اور صفیں بچھ گئیں تو امام علیؑ نے آخری حجت تمام کرنے کے لیے اپنے لشکر والوں کے سامنے پیشکش کی
آخر كار كوئى بھى شاگرد رسول اللہ ﷺ كے اس سوال كا اطمىنان بخش جواب نہ دے سكا جس كسى نے بھى جواب دیا موردِ قبول رسول اللہ ﷺ نہ ہوا۔ وہ سوال جو رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے کیا تھا
رسول اللہ ﷺ اور ان كے اصحاب اپنى سواريوں سے نيچے اترے اور سب نے سامان سفر كھول ديا۔ اس كے بعد سب لوگوں نے آپس ميں يہ فيصلہ كيا ايك گوسفند ذبح كر كے اس كا گوشت تيار كيا جائے۔
امام كاظم ؑاپنے كھىت ميں كام كر رہے تھے ۔وہ كھىت كى زمىن مىں ہمہ تن مصروف تھے ۔ان كاسارا جسم پسينے مىں ڈوبا ہواتھا۔اسى اثنا مىں على بن ابى حمزہ نامى اىك شخص امام كے قرىب آیا
حجِ بيت اللہ سے واپسى كے بعد ايك شخص اپنى اور اپنے ساتھيوں كے متعلق روداد سفر امام صادقؑ كو سنا رہا تھا۔ خصوصاً وہ اپنے ساتھيوں ميں سے ايك شخص كى بڑى تعريف كر رہا تھا
ايك شخص نے ابوذر غفارىؓ سے التماس كى كہ مجھے نصیحت كرو، حضرت ؓ نے فرمايا كہ جس چيز كو سب سے زيادہ پسند كرتے ہو اس كے ساتھ بدى مت كرنا۔ اس شخص نے كہا كہ كيا ايسا ممكن ہے
امام: ظاہرى آنكھيں اس كو نہيں ديكھ سكتيں البتہ قلوب نے حقيقتِ ايمان كى وجہ سے اس كاديدار كيا ہے۔ اللہ تعالیک کی پاک ذات کو قياس اور تشبيہ سے نہيں پہچانا جا سكتا، نہ حواس اسے درك كر سكتےہيں
ايك دن امام صادقؑ كے صحابى مسعدہ آپؑ كے پاس تشريف لاۓ اور عرض كى: يا مولا كيا وجہ ہے كہ تارك صلوة كو تو كافر كہا گيا ہے لیکن زانى اور شراب خور يا اس قسم كے گناہ كرنے والے كو كافر نہيں كہا گيا؟
ایک دن رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے پوچھا کہ کیا تم لوگ جاننا چاہوگے کہ تم میں سے بد ترین لوگ کون ہیں؟ اصحاب نے عرض كى يا رسول اللہ: جى ہاں!
رسول اللہ ﷺ نے فرمايا: تم ميں سے بد ترين لوگ وہ ہیں جو:
امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ قوم بنى اسرائيل کا ايك شخص تين سال دعا كرتا رہا كہ اس كو خدا بيٹا عطا كرے ليكن اس كى دعا قبول نہ ہوئى۔ اس نے خدا كى بارگاہ ميں عرض كى كہ اے خدا كيا