الحمد لولیّہ
(علم عرفان، کتاب: تمہید القواعد ابن ترکہ) مقدمہِ کتاب تدریس: آیت اللہ حیدر ضیائی تدوین: سید محمد حسن رضوی الحمد
(علم عرفان، کتاب: تمہید القواعد ابن ترکہ) مقدمہِ کتاب تدریس: آیت اللہ حیدر ضیائی تدوین: سید محمد حسن رضوی الحمد
گزشتہ قسط میں بیان ہوا کہ ولایت فقیہ پر ہمارے پاس تین دلیلیں ہیں۔ ان میں سے پہلی دلیل محض(خالص) عقلی دلیل ہے۔ محض عقلی دلیل سے مراد وہ دلیل ہے جس کے تمام مقدمات عقلی ہیں۔ دلیل پر حکم عقل نے لگایا ہے ، دین کے نقلی منابع سے استفادہ نہیں کیا گیا۔
راہِ شہادت پر ثابت قدمی سے گامزن رہنا اور دنیا کے جھمیلوں میں دین کى آباد کارى کے راستوں میں قدم رکھنا ’’ خیال سے حقیقت کا ایک سفر ‘‘ ہے جس کا اختتام راہِ الہٰى پر اپنے وجود کو قربان کرنے دینے
جنگ نہروان کے بعد امیرالمومنینؑ شام جانے کا ارادہ رکھتے تھے اور فرمایا کہ اللہ تعالی نے تمہیں خوارج کے خلاف نصرت عطا کی اب شام جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہو، اشعث بن قیس اور دیگر افراد نے کہا
امام علیؑ کا دورِ حکومت اگرچے جنگوں اور باہمی تنازعات سے پُر ہے لیکن اگر سیرتِ علیؑ کا مطالعہ کیا جائے تو وحدتِ اسلامی کے قیام کے لیے امام علیؑ کی انتھک اور کثیر کاوشیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔
حکومت کے لغوی معنی فرمان جاری کرنے یا حکمرانی کرنے کے ہیں۔ اور اصطلاح میں حکومت سے مراد عمومی طور پر ملکی سیاست کا ڈھانچہ ہوتا ہے۔ مفکرین سیاسی حکومت کو مختلف جہات سے تقسیم کرتے ہیں۔ ایک تقسیم بر اساس تعداد حاکم ہے۔
ارسطو ۳۸۴سال قبل از مسیح یونان کے شہر استاگیرا میں پیدا ہوۓ۔ سترہ سال کی عمر میں افلاطون کی اکیڈمی میں داخل ہوۓ۔ ارسطو کے فلسفہ سیاسی میں افلاطون کے نظریات کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے
ولایت فقیہ امامت کی جزوی بحث ہے۔ اگر ہمارے لیے امامت ثابت ہو جاۓ تو جزوی طور پر ولایت فقیہ بھی ثابت ہو جاتی ہے۔ اس لیے ولایت فقیہ کی دلیلیں بھی وہی دلیلیں ہیں جو نبوت اور امامت کی ضرورت ثابت کرنے کے لیے پیش کی جاتی ہیں۔
یونانی فلاسفہ کے نظریات ہر دور میں توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ سیاسی مفکرین آج بھی ان کے نظریات سے خود کو بے نیاز نہیں سمجھتے۔ افلاطون ان افراد میں سے ہے ہیں جن سے اسلامی فلاسفہ بھی متاثر ہوۓ بغیر نہیں رہ سکے۔
مسلمانوں کے درمیان اختلافی ترین موضوع امامت رہا ہے۔ اس مسئلے پر کئی جنگیں و کشت کشتار ہوا۔ امت کا حاکم کون ہوگا؟ امت کس کی قیادت میں چلے؟ یہ وہ مسئلہ ہے جس پر امت شیعہ سنی میں تقسیم ہو جاتی ہے۔