امام صادق اور ان کے شاگرد
اس محفل میں امامؑ کے جلیل القدر و شاگرد موجود تھے۔ امام توحید اور خداشناسی پر درس دے رہے تھے۔ مجلس کے دوران ایک شخص نے کہا:اللہ اکبر۔ امامؑ نے فرمایا کہ اے شخص کیا تو بتا سکتاہے
اس محفل میں امامؑ کے جلیل القدر و شاگرد موجود تھے۔ امام توحید اور خداشناسی پر درس دے رہے تھے۔ مجلس کے دوران ایک شخص نے کہا:اللہ اکبر۔ امامؑ نے فرمایا کہ اے شخص کیا تو بتا سکتاہے
امام صادقؑ: قائم وہ ہیں جو زمین کو جس طرح سے وہ ظلم و جور سے پر ہوگی، عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ وہ عصرِ فترت (جس عصر میں امام موجود نہ ہو) میں ہونگے۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ اس زمانے میں آۓ تھے جب رسول موجود نہ تھے
ہشام بن احمر کہتے ہیں کہ امام کاظمؑ نے مجھ سے فرمایا: کیا تمہیں علم ہے کہ کوئی اہل مغرب میں سے مدینہ آیا ہو؟ میں نے عرض کی: نہیں! امام نے فرمایا کہ ایک شخص آیا ہے۔ آؤ اس کو ملنے جاتے ہیں
مسافر نامی شخص کہتا ہے کہ جب ہارون بن مسیب نے محمد بن جعفر سے جنگ کی ٹھان لی تو امام رضاؑ نے مجھے فرمایا: مسیب کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ کل جنگ پر مت جاۓ اگر گیا تو بہت بری طرح سے شکست کھاۓ گا
امام صادقؑ کے کرام نامی شاگرد کہتے ہیں کہ ایک دن میں نے قسم کھائی کہ جب تک قائم آل محمدؑ کا ظہور نہیں فرماتے تب تک دن میں کبھی بھی غذا نہیں کھاؤں گا اور روزہ رکھونگا۔
عبید اللہ بن سلیمان وقت کے طاغوت کے وزیر تھے۔ ایک دن خبرچین نے وزیر کو اطلاع دی کہ حضرت مہدیؑ کے کچھ وکیل ہیں۔ جو ان کی نمائندگی میں مختلف علاقوں کے شیعوں سے سہم امام وصول کرتے ہیں
شیعیان مصر میں سے ایک شخص سہم امام کے اموال لے کر مکہ آیا۔ اس وقت تک امام حسن عسکریؑ شہادت پا چکے تھے۔ اب یہ شخص سہم امام کس کے حوالے کرے اس بارے میں اختلاف ہو گیا۔
محمد بن یوسف کہتے ہیں کہ میری مقعد پر ایک پھوڑا پیدا ہو گیا تھا۔ میں متعدد طبیبوں کے باس گیا لیکن کوئی نتیجہ نہ ملا۔ تقریبا تمام طبیب مجھے جواب دے چکے تھے کہ اس پھوڑے کا علاج ہمارے پاس نہیں۔
چھٹے عباسی خلیفہ امین کی حکومت ساقط ہونے کے بعد عالم اسلام کی قلمرو ساتویں طاغوتی عباسی خلیفہ مامون نے سنبھال لی۔ مامون نے ایک خط کے ذریعے امام رضاؑ کو مدینہ سے خراسان آنے کی دعوت دی۔
مسافر نامی شخص کہتا ہے کہ جب ہارون بن مسیب نے محمد بن جعفر سے جنگ کی ٹھان لی تو امام رضاؑ نے مجھے فرمایا: مسیب کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ کل جنگ پر مت جاۓ اگر گیا