(شرح فصوص الحکم، قیصری)
درّس: استاد حیدر ضیائی
تدوین: سید محمد حسن رضوی
(فصّ شیثی)
کتاب فصوص الحکم ۲۷ فصوص پر مشتمل ہے۔ ہر باب میں ایک انسانِ کامل کے بارے میں اس کی شخصیت میں نمایاں ترین خاص صفت کے لحاظ سے بحث کی گئی ہے۔ اس اعتبار سے پوری کتاب میں ۲۷ ابواب میں انسانِ کامل کے ۲۷ اوصاف کو زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ پہلا باب فصِ حکمتِ الٰہیہ فی کلمہ آدمیہ کے بارے میں تھا جس میں حضرت آدمؑ کی مناسبت سے خلافتِ الٰہیہ کے بارے میں بحث کی گئی تھی۔ دوسرے باب حکمت نفث فی کلمہ شیثیہ میں اللہ سبحانہ کی عطایا اور عنایات و بخشش کو موضوعِ بحث قرار دیا گیا ہے۔
لفظ نفث
نَفَث کے معنی دمیدن یعنی پھونکنا یا دَم کرنا ہیں۔ آہستگی سے دَم کرنے کو نفث کہتے ہیں، جیساکہ عموماً دعا کرنے والے دَم کرتے ہیں۔ اس دم کرنے کو نفث سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو دعا پڑھ کر کسی نبات یا پودے یا سیب پر دَم کرتے ہیں اور کسی مریض کو دیتے ہیں اور وہ مریض اسے استعمال کر کے شفایاب ہو جاتا ہے۔ اس عمل کو نفث کہتے ہیں ۔
ابن عربی کہتے ہیں کہ جب ہابیلؑ قتل ہوئے تو حضرت آدمؑ ان کے غم میں شدید غمزدہ ہو گئے۔ باری تعالیٰ نے ہابیلؑ کے بدلے جناب آدمؑ کی تسلی کے لیے حضرت شیثؑ عطا فرمایا۔ حکمت ِنفثیہ کا کلمہ شیثیہ کے ساتھ گہرا تعلق ہے، کیونکہ دَم عطا کا موجب بنتا ہے ، اسی مناسبت سے حضرت شیثؑ بھی حضرت آدمؑ کے لیے ایک الٰہی عطا تھے ۔ عبرانی زبان میں شیث کے معنی ’’ہبۃ اللہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا عطیہ کے ہیں ۔ہبہ یعنی دینا ، عطا کرنا۔
اللہ تعالیٰ کے عطایا کی اقسام
اللہ تعالیٰ کی عطایا و بخشش کو فاعل اور قابل کے اعتبار سے دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ فاعل کے اعتبار سے عطایا دو اقسام میں تقسیم ہوتے ہیں:
۱۔ عطایا ذاتی
۲۔ عطایا اسمائی
قابل کے اعتبار سے عطیات و عطایا کی درج ذیل دو اقسام ہیں:
۱۔ مانگی گئی عطایا
۲۔ بغیر مانگے عطایا
مانگی گئی عطایا تین اقسام میں تقسیم ہوتی ہیں:
۱۔ سوالِ لفظی، یعنی قولی و لفظی طور پر مانگنا
۲۔ سوالِ حالی، حال و حلیہ سے مانگنا
۳۔ سوالِ استعدادی، استعداد و قابلیت کا مانگنا
پہلے فاعل کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی بخششیں اور عطایا بیان کی جاتی ہیں اور اس کے بعد قابل کے اعتبار سے عطایا کے بیان کی طرف منتقل ہوں گے۔
عطایائے اسمائی و ذاتی:
فاعل کے اعتبار سے عطایا و عطیات کو درج ذیل دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
۱۔ عطایائے ذاتیہ:
یہ وہ عطائیں ہیں جو بغیر کسی واسطے کے ملتی ہیں۔ اس میں اللہ کے اسماءِ ذات کا دخل ہے۔ وہ اسماء جن میں ذاتِ الٰہی کا پہلو غالب ہوتا ہے، جیسے اللہ، ربّ، سبوح اور قدوس۔ یہ عطائیں انسان کو اس کے اپنے خاص وجودی راستے سے براہِ راست نصیب ہوتی ہیں۔
۲۔ عطایائے اسمائیہ:
یہ وہ عطائیں ہیں جو کسی واسطے کے ذریعے ملتی ہیں۔ یہ واسطہ کبھی معلم ہوتا ہے، کبھی مرشد، کبھی اقطاب میں سے کوئی قطب اور کبھی فرشتہ۔ اس قسم میں ایک خاص اسمِ الٰہی واسطہ بنتا ہے، جیسے اسمِ غفار، اسمِ رحیم یا اسمِ قہار وغیرہ۔ ہر اسم کی عطا دوسرے اسم کی عطا سے مختلف ہوتی ہے۔
استجابت ِدعا
بعض اوقات عطائیں دعا اور درخواست پر موقوف ہوتی ہیں ۔کچھ خاص لوگ اللہ سے درخواست صرف اس لیے کرتے ہیں کیونکہ اللہ کا حکم ہے: ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُم ، مجھ سے مانگو میں قبول کروں گا۔ یہ خاص لوگ باری تعالیٰ کے لیے یہ فیصلہ نہیں کرتے کہ کیا ملے اور کیا نہ ملے، بلکہ وہ صرف اللہ کے حکم کی تعمیل میں دعا مانگتے ہیں اور کس جزا یا ذاتی مقصد کے پیچھے نہیں ہوتے۔
نَفَسِ رحمانی اور تخلیق ِکائنات
نَفَسِ رحمانی کو صادرِ نخستین بھی کہا جاتا ہے ۔ نفسِ رحمانی وہ تخلیقی قوت ہے جو اعیانِ ثابتہ پر پھیلی ہوئی ہے اور انہیں خارجی وجود عطا کرتی ہے ۔
اعیانِ ثابتہ:
اس سے مراد ذات الہٰی و صُقع ربوبی میں اشیاء کا وجودِ علمی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو تمام اشیاءِ کا علم ہے اور اسی وجودِ علمی کے عین مطابق ہر شیء خارج میں وجود و تحقق پاتی ہے۔ ذاتِ الہٰی میں اشیاء کے وجودِ علمی کو فیض اقدس اور اشیاء کے وجودِ خارجی کو فیض ِمقدس کہتے ہیں، مثلاً ایک انجینئر پہلے اپنے ذہن میں کسی عمارت کا نقشہ بناتا ہے جو کہ وجودِ علمی یا فیض اقدس ہے اور پھر اس نقشے کے مطابق عمارت تعمیر کرتا ہے جو کہ وجودِ خارجی یا فیض مقدس ہے۔ وجودِ علمی ہمیشہ وجودِ خارجی پر مقدم ہوتا ہے ۔
اہلِ ذوق اور اہل کشف
اہلِ ذوق وہ لوگ ہیں جن کے پاس حقائق صرف معلومات کی حد تک نہیں بلکہ چکھنے اور محسوس کرنےکی حد تک ہوتے ہیں۔ جاننے اور پانے یعنی دارا بودن میں بڑا فرق ہے۔ اہل کِشف و شہود فیض حاصل کرتے وقت پہچان لیتے ہیں کہ یہ عطا اللہ کی ذات سے ہے یا کسی صفت کے واسطے سے۔ یہ بلند مقام افراد اور اقطاب کا ہے جن کے پورے وجود یعنی روح، قلب اور نفس پر اللہ کی تجلیات طاری ہوتی ہیں اور ان کے چہروں سے نضرۃ النعیم یعنی اس نعمت کی رونقیں ظاہر ہوتی ہیں۔ حضرت شیثؑ کی شخصیت اللہ کی صفت ِجود و عطاء کا مظہر ہے۔ لہٰذا ابن عربی نے فصّ آدمی کے فوراً بعد حکمت ِنفثیہ یعنی فص شیثؑ کو بیان کیا ہے۔
قابل کے اعتبار سے عطایا
اللہ تعالی کی عطایا قابل یعنی بندے کی قابلیت کے لحاظ سے ہوتی ہے جنہیں دو اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
۱۔ مانگنے کی وجہ سے ملنے والا عطیات
۲۔ بغیر مانگے نصیب ہونے والے عطیات
۱۔ مانگے گئے عطیات:
یہاں مانگنے سے مراد لفظی طور پر مانگنا ہے جس کی تین قسمیں بنتی ہیں:
الف: لفظی طور پر مانگنا
ب: ظاہری حالت سے مانگنا
ج: استعداد و قابلیت سے مانگنا
کبھی انسان کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ وہ التجائیں کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے اور اس سے زبان سے مانگتا ہے، جیساکہ نماز میں ہم قولی عبادت انجام دیتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں بعض اوقات ہماری ظاہر حالت سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ عبادت میں مصروف ہے جسے عبادتِ حالی کہتے ہیں، جیساکہ حالت ِرکوع سے نماز کا علم ہو جانا۔ رکوع کی حالت میں زبان سے سبحانِ رَبّي العظیم وبحمده کی تسبیح ایک عبادت ہے اور رکوع میں جانا ایک الگ عبادت۔ اسی طرح سجدہ میں ہے کہ سجدہ میں خاک پر پیشانی رکھنا ایک عبادتِ حالی ہے جبکہ سبحان ربّي الأعلیٰ وبحمده کی تسبیح قولی عبادت ہے۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا اور بخشش و عنایت مانگے اور سوال کیے بغیر نہیں ہوتا۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کچھ مانگنا تین طرح سے ہو سکتا ہے:
الف: سوالِ لفظی
ب: سوالِ حالی
ج: سوالِ استعدادی
سوالِ استعدادی سے مراد مخلوق کا اپنی اندر استعداد رکھنا اور اس استعداد کے مطابق اللہ تعالیٰ کو اسے عطا کرنا اور نوازنا ہے۔
الف: سوالِ لفظی کی دو اقسام
زبان سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مانگنا دو قسم کا ہوتا ہے:
۱۔ معین و مخصوص چیز مانگنا
۲۔ غیر معین مانگنا
معین و مخصوص چیز کا مانگنا، جیسے بندہ زبان سے کہے کہ اے اللہ مجھے علم دے، اے اللہ میری روزی میں وسعت دے، اے اللہ مجھے صحت دے وغیرہ۔ جبکہ غیر معین سوال سے یہ مراد ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے زبان سے تقاضا کرے لیکن مانگی جانے والی چیز کو معین نہ کرے،بلکہ وہ اسے مبہم و غیر معین رکھے، مثلاً کہے: اے اللہ جو میرے حق میں بہتر ہے وہ مجھے عطا فرما۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ پیسہ دے، مال دے، مقام دے یا صحت دےوغیرہ، بلکہ وہ کہتا ہے کہ جس میں میرا نفع و صلاح ہے وہ عطا فرما۔
زبان سے مانگنے کی وجہ:
جب اللہ تعالیٰ اپنی عنایات و عطیات بغیر مانگے عطا کر دیتا ہے تو آخر کیا وجہ ہے کہ اولیاءِ الہٰی اس قدر آہ و زاری اور گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ کے حضور مطالبات کرتے ہیں اور مادی و معنوی ہر شیء اس کی ذات سے مانگتے ہیں؟! اس کے جواب میں عرض کرتے ہیں کہ اولیاءِ الہٰی قرآن کریم میں وارد ہونے والے حکم الہٰی ’’اُدعُونِي، مجھ سے مانگو‘‘ کی تکمیل کی خاطر گریہ و آہ و بکاء کر کر کے اس سے مانگتے ہیں۔ اطاعت الہٰی اصل سبب ہے جس کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے حضور تقاضا کرتے ہیں۔ ورنہ اعیانِ ثابتہ کا علم رکھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی قضاء وقدر پر راضی اور آمادہ ہیں۔
صحیفہ سجادیہ کی دعائیں میں کثرت سے عطا کر، عطا کر کا تذکرہ ہے جس سے مقصود ان چیزوں کا حصول نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم اُدعُونِي کی تکمیل و اطاعت کرنا ہے۔ پس فرمانِ الہٰی پر لبیک کہتے ہوئے اس کی بارگاہ میں سوال کرتے ہیں۔ انہیں اس سے غرض نہیں ہوتی کہ یہ چیز انہیں ملتی ہیں یا نہیں ملتی کیونکہ ان کا مقصد حکمِ اُدعُونِي پر عمل کرنا ہوتا ہے۔
اس کے مقابلے میں وہ لوگ ہیں جن کی تمام تر توجہ اس بات پر ہوتی ہے کہ باری تعالیٰ سے اپنی مراد حاصل کر لیں، چاہے وہ صحت ہو، رزق کی وسعت ہو یا عاقبت کی بہتری وغیرہ۔ ان سب امور کا تعلق یا تو دنیاوی اور امورِ استعجالی سےہے یا پھر جہنم کی آگ سے نجات اور جنت میں داخل ہونے یعنی امورِ غیر استعجالی ہیں۔ یہ عطیات کی یہ مختلف اقسام فاعل اور قابل کے لحاظ سے ہے ۔
اگر یہ سوال اُبھرے کہ بعض دعائیں کلی طور پر مانگی جاتی ہیں، مثلاً اے اللہ ہر خیر ہمیں عطا فرما دے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تو ہمیشہ خیر عطا کرتا ہے پھر ایسی صورت میں ہماری ان دعاؤں کا کیا فائدہ ہے؟! اس کے جواب میں عرض کرتے ہیں کہ بے شک اللہ ہمیشہ وہی کرتا ہے جو خیر ہے، لیکن اس کا ارادہ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ اس سے مانگتے رہیں اور اس کے سامنے عجز، محتاجی، فقر اور اپنے گناہ گار اور بے کس و لاچار ہونے کا اظہار کرتے رہیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے شرط رکھی ہے کہ میں تمہارے حق میں بہتر چیز اس وقت عطا کروں گا جب تم اسے مانگو گے۔ پس دُعا اس لیے ہے تاکہ عبد و بندہ کا سوال وجود میں آئے اور وہ اس کی بارگاہ میں خاضع و عاجز نظر آئے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کبھی اپنے بندوں کے لیے برائی، شر یا نقصان نہیں چاہتا۔
استجابت ِالہٰی کی اقسام:
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جب بھی سوال کیا جائے تو ذاتِ باری تعالیٰ کی جانب سے اجابت ہوتی ہے۔ یہ اجابت و قبولیت دو قسم کی ہے:
۱۔ استجابتِ لبیکی: یعنی اللہ کا بندے کو جواب دینا۔
۲۔ استجابت تکمیلی: یعنی خواہش کی تکمیل، جو مانگا وہ مل گیا۔
۱۔ استجابت ِلبیکی:
استجابت ِلبیکی یعنی اللہ کا بندے کو جواب دینا جوکہ ایک یقینی امر ہے جس میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں ہے۔ البتہ استجابت تکمیلی جس میں مانگنے والے کی مراد پوری کی جاتی ہے مصلحت یا حکمت ِالہٰی کے مطابق ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے جب عبد نے مانگا اس وقت عطا کرنا اس کی مصلحت میں نہیں تھا یا بعض روایات کے مطابق اللہ تعالیٰ مومن کے نالہ اور پکار کو پسند کرتا ہے، اس لیے اسے فوری نہیں دیتا۔ اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ جب ہماری کوئی دعا فوراً پوری ہو جاتی ہے تو ہم اللہ تعالیٰ سے غافل ہو کر اپنے کاموں میں اس مصروف ہو جاتے ہیں کہ گویا ہمارا پھر اللہ سبحانہ سے کوئی کام نہیں ہے۔ ایسی صورت میں اللہ اللہ کہنا اور آہ و تضرع ہم سے چھن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہمارا اللہ اللہ کہنا تکرار ہوتا رہے۔
روایات اہل بیتؑ میں وارد ہوا ہے کہ حق تعالیٰ سے دعا اور مناجات کے مقام پر کوئی بھی ہاتھ خالی واپس نہیں پلٹتا۔ دعا اللہ تعالیٰ کی جانب سے لبیک اور قبولیت کے ساتھ متصل ہے۔ اس لیے وارد ہوا ہے کہ دعا کرنے کے بعد اپنے ہاتھوں کو اپنے سر اور چہرے پر ملنا چاہیے؛ کیونکہ دعا کرنے اور مانگنے والے نے پا لیا ہے اور حاصل کر لیا ہے جس کی وجہ سے اب یہ ہاتھ بابرکت ہو گئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی پسند کا مطلب اللہ تعالیٰ کا نعوذ باللہ محتاج ہونا نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب اللہ سبحانہ کا اس عمل کے ذریعے ہمیں بلند و با کمال کرنا ہے۔ جنابِ مولوی نے مثنوی میں ان دونوں باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے:
وہ شخص ایک رات اللہ کہہ رہا تھا،
تاکہ اس کے ذکر سے اس کے لب شیریں ہو جائیں
شیطان نے اس سے کہا: اے سخت رو، خاموش ہو جا
اے بہت زیادہ بولنے والے، آخر کب تک یہ کہتا رہے گا؟
تو نے اتنی بار اللہ پکارا
اللہ کی طرف سے ایک بار بھی لبیک کی آواز آئی؟!!
وہ شکستہ دل ہو گیا اور سر رکھ کر سو گیا
خواب میں اس نے حضرت خضرؑ کو دیکھا
انہوں نے کہا: اے شخص! تو ذکر سے کیوں رک گیا؟
تو نے جس کو پکارا، اس سے اب پشیمان کیوں ہے؟
اس نے کہا: مجھے لبیک کا جواب نہیں آتا
مجھے ڈر ہے کہ کہیں میں درِ الٰہی سے دھتکارا ہوا نہ ہوں
حضرت خضرؑ نے کہا: خدا نے مجھ سے یہ کہا ہے
کہ جاؤ اور اس آزمائے ہوئے بندے سے کہو
کہ تیرا وہ اللہ کہنا ہی ہمارا لبیک ہے
تیری وہ تڑپ، سوز اور درد ہی ہمارا پیغام رسان ہے
دعا کے لیے ہاتھ بلند کرنے کی توفیق ہر کسی کو نہیں ملتی
قبلہ رخ کھڑے ہونا اور پیشانی خاک پر رکھنا
یہ توفیق ہر کسی کو نہیں ملتی
حضرت خضرؑ نے کہا: خدا نے مجھ سے یہ کہا ہے
کہ جاؤ اور اس سے کہو کہ
تیرا وہ اللہ کہنا ہی ہماری لبیک ہے
تیری وہ تڑپ اور سوز ہی ہمارا قاصد ہے
تیری یہ حیلہ گریاں اور تدبیریں
یہ ہماری کشش تھی جس نے تیرے پاؤں کی زنجیریں کھول دیں
تیرا خوف اور تیری محبت ہمارا ہی لطف و کرم ہے
تیرے ہر یا ربّ کے نیچے ہماری کئی لبیک چھپی ہوئی ہیں
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اُدعُوني أَستَجِبۡ لَکُمۡ
مجھ سے دعا کرو، میں قبول کروں گا۔
ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے:
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِی عَنِّی فَإِنِّی قَرِیبٌ أُجِیبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ.
اور جب میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں تو میں قریب ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں۔
آیت کریمہ میں أُجِیۡبُ بندے کے سوال پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے لبیک ہے جو کبھی ردّ نہیں ہوتا۔ یہ کہنا کہ ہماری خواہش کیوں پوری نہیں ہوتی تو یہ ایک الگ بحث ہے۔ روایات کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب فوراً آتا ہے لیکن انسان کی خواہش فوراً پوری نہ ہونے میں مصلحت درکار ہے۔ مصلحت سے مراد فقط شخصی مصلحت نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے مدنظر پورے نظام کی مصلحت ہوتی ہے۔ اس مصلحت درج ذیل صورتیں بنتی ہیں:
۱۔ بعض اوقات انسان کی خواہش کے پورے ہونے میں مصلحت موجود نہیں ہے۔ بندہ کی صلاح اسی میں ہے کہ اس کی خواہش ہر گز پوری نہ ہو۔
۲۔ بعض اوقات مصلحت موجود ہے کہ عبد کی خواہش پوری کی جائے۔ البتہ مصلحت کا تقاضا ہوتا ہے کہ اسے فوری عطا نہ کیا جائے، کیونکہ اگر فوراً دے دیا جائے تو انسان اپنے روز مرہ امور میں لگ ہو جائے گا اور پھر اللہ اللہ کہنا اس سے سلب ہو جائے گا۔
مثنوی میں مولانا ایک جگہ بیان کرتے ہیں:
کتنا مخلص ہے وہ جو دُعا میں نالہ و زاری کرتا ہے
حتی اس کے اخلاص کا دھواں آسمان تک جاتا ہے
اس کی آہ و پکار عرشِ بریں تک پہنچتی ہے
گنہگاروں کے کراہنے سے اٹھنے والی خوشبو کی طرح
تب فرشتے خدا کے حضور گریہ و زاری کرتے ہوئے کہتے ہیں
کہ اے ہر دُعا کو قبول کرنے والے اور پناہ دینے والے !
تیرا مومن بندہ تضرع اور عاجزی کر رہا ہے
تیرے سوا اس کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے
تو تو بیگانوں/نافرمانوں کو بھی عطا کرتا ہے
اور ہر خواہش مند تجھ ہی سے امید رکھتا ہے
تب حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہ دینا اس کی ذلت کی وجہ سے نہیں
عطا میں تاخیر کرنا ہی دراصل اس کی مدد کرنا ہے
ہمیں مومن کا نالہ و زاری پسند ہے
اسے کہو کہ تضرع جاری رکھے ،یہی اس کی عزت افزائی ہے
میں نے ہی اسے غفلت سے نکالا
اور اپنی طرف لانے کے لیے اسے حاجت مند بنایا
یہی حاجت ہے جو اسے بالوں سے پکڑ کر
میرے کوچے تک کھینچ لائی ہے
اگر میں اس کی حاجت فوراً پوری کر دوں
تو وہ آزاد ہو جائے گا
پھر اسی کھلونے (دنیا) میں مگن ہو جائے گا
اگرچہ وہ دل و جان سے نالے کرتا ہے، اے پناہ دینے والے !
لیکن اس شکستہ دل اور خستہ سینہ بندے کو پکارنے دو
مجھے اس کی آواز بہت بھلی لگتی ہے
اس کا خدایا خدایا کہنا اور یہ راز و نیاز مجھے پسند ہے
روایات کا مفہوم بھی یہی ہے کہ باری تعالیٰ مومن کے نالے کو پسند فرماتا ہے۔ لہٰذا جب کوئی مومن کسی چیز کی درخواست کرتا ہے تو اللہ اسے فوراً نہیں دیتا، خواہ وہ اس کے حق میں مصلحت ہی کیوں نہ ہو۔ اگر مصلحت نہ ہو تو بالکل نہیں دیتا اور اگر مصلحت ہو تو بھی بسا اوقات تاخیر فرماتا ہے تاکہ اس کا اللہ اللہ کہنا تکرار ہوتا رہے اور وہ بلندی کی طرف کھینچا جائے۔ اسی طرح روایت میں آیا ہے کہ مجھے مانگنے والے کی آواز، اس کا خدایا خدایا کہنا اور اس کی راز و نیاز بہت پسند ہے ۔
سائلین کی اقسام:
عطیاتِ الہٰی کے اعتبار سے سائلین کے تین گروہ بنتے ہیں:
۱۔ وہ گروہ جس کے سوال کرنے کا محرک استعجالِ طبیعی ہے۔ استعجال یعنی جلد بازی اور طبیعی یعنی انسانی مزاج۔ استعجالِ طبیعی سے مراد جلد بازی کرتے ہوئے اللہ سے ایسی چیز کا مانگنا ہے جس کا ابھی وقت نہیں آیا، کیونکہ اس کی عطا کا ابھی وقت نہیں ہوا۔
۲۔ دوسرے گروہ کا محرک احتیاط پسندی تھا۔ انہوں نے سنا ہے کہ اللہ نے کچھ درخواستوں کو زبان سے مانگنے پر مشروط کر رکھا ہے۔ لہٰذا یہ امکان موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرار دیا ہے کہ یہ بندہ مانگے تو میں اسے عطیات سے نوازوں گا۔ اس لیے وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کی خواہش کا تعلق بھی اسی سے نہ ہو۔ اس لیے وہ احتیاطاً اللہ تعالیٰ سے اپنی خواہش کا سوال کرتے ہیں۔
۳۔ تیسرا گروہ وہ ہے جن کا مانگی جانے والی چیز سے کوئی سروکار نہیں ہوتا، کیونکہ ان کی اصلاً اپنی خواہش کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔ اگرچہ وہ خواہش کا اظہار کرتے ہیں لیکن اصل میں وہ اللہ اللہ کرنے میں مگن ہیں۔ ان کا مقصد صرف حکم الہٰی اُدعُوني پر عمل کرنا ہے۔ یہی لوگ عبد ِمحض اور اللہ تعالیٰ کے خالص بندے ہیں۔ ان کی زبانِ حال اور زبانِ قال یہ ہے:
نہ میں جنت چاہتا ہوں، نہ حور، نہ نہریں
اے زاہد ! یہ سب تجھے مبارک
میں تو صرف یار (خدا) کو چاہتا ہوں
ان کی تمام تر خواہش صرف اللہ ہے، اللہ کے سوا کچھ نہیں۔ چاہے وہ دنیاوی معاملہ ہو یا اخروی، وہ کوئی مطالبہ نہیں رکھتے۔
بادشاہو! جنت کی سلطنت اپنے پاس رکھو
میں عالی ہمت درویش تو صرف دیدار چاہتا ہوں
تیسرا گروہ کا اصل ہدف و مقصد فقط لقاء اللہ ہوتا ہے جس کے حصول کے لیے ہر دَم سعی و کوشش کرتے رہتے ہیں۔ لہٰذا ان کی زبانِ حال یہ ہے:
خدایا! زاہد تجھ سے حور مانگتا ہے، اس کی کوتاہی تو دیکھ
وہ تو جنت سے تیرے پاس بھاگتا ہے، اس کا شعور تو دیکھ
ان کی زبانِ حال سنائیؒ کے بقول یہ ہے:
تیرے در پر آ کر خوب و زشت کا کیا کروں ؟!
جب تو خود موجود ہے تو جنت کا کیا کروں ؟!
حضرت علامہ حسن زادہ آملیؒ کے بقول:
زاہد کیوں جنت کی ہوا میں مست ہے ؟!
وہ جنت بنانے والے سے کیوں غافل ہے؟!
علامہ حسن زادہؒ جب یہ بیان کرتے تو ساتھ یہ کہا کرتے تھے کہ اگر جنت میٹھی ہے تو جنت بنانے والا تو اس سے شیرین تر ہے۔ کبھی علامہ ؒاس طرح نقل کرتے کہ اپنی ہمت بلند رکھو، جب بھی درگاہِ ربوبی میں رجوع کرو، تو اللہ سے خود اللہ کو مانگو۔ اگر اللہ مل گیا تو مریض کو شفاء بھی مل گئی، اللہ مل گیا تو پریشانیوں کا حل بھی مل گیا اور اسی طرح سب کچھ مل گیا۔ اس تیسرے گروہ کی زبانِ حال سعدیؒ کے اس قصے سے ظاہر ہوتی ہے:
ایک شخص کسی درویش کے پاس بیٹھا تھا
اس نے پوچھا کہ تم دوزخ کی تمنا کرتے ہو یا جنت کی؟
درویش نے کہا : مجھ سے یہ ماجرا نہ پوچھ
میں تو اس چیز کی تمنا کرتا ہوں
جو میرا آقا و مولا میرے لیے پسند کرے
تیسرا گروہ اللہ تعالیٰ سے مانگتے ضرور ہیں لیکن اس کی بارگاہ میں اپنی تمنا اور خواہش کی تعیین نہیں کرتے کہ مجھے یہ دے اور وہ نہ دے۔ تیسرے گروہ کی دعا اور اللہ اللہ کرنا نہ تو طبیعی و جلد بازی کی وجہ سے ہوتا ہے اور نہ ہی کسی امکان و احتیاط کی وجہ سے۔ بلکہ ان کا مقصد صرف اللہ کے اس حکم کی تعمیل ہے:
اُدعُونِي أَستَجِب لَکُم.
اُدۡعُونِي ایک حکم الہٰی ہے جس کے مطابق باری تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ مجھ سے دعا کرو۔ اس حکم کو سر آنکھوں پر رکھتے ہوئے یہ تیسرا گروہ اسی قرآنی حکم پر لبیک کہنا اپنے لیے اسی طرح ضروری سمجھتے ہیں جیسے وہ نماز و روزہ کے حکم پر عمل کرنا اپنا وظیفہ سمجھتے ہیں۔ ان کی نظر میں نماز و روزہ کی طرح یہ بھی ایک واجب حکم ہے جسے بجالانا ضروری ہے۔
عبد ِمحض کا مانگنا
اگر ان تینوں جماعتوں کا آپس میں موازنہ کیا جائے تو سب سے بلند یہی تیسرا گروہ ہے جوکہ اللہ تعالیٰ کے خالص بندے ہیں۔ اگر کوئی اللہ کی اطاعت کسی مراد یا کسی عہدے کے حصول کے لیے کرے، تو وہ اللہ تعالیٰ کا خالص بندہ نہیں ہے، بلکہ وہ اپنی اس خواہش کا بندہ ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
أَفَرَأَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ.
کیا تم نے اسے دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا الٰہ بنا لیا۔
جناب سعدیؒ فرماتے ہیں:
اگر دوستی میں تیری نظر دوست کے احسان پر ہے
تو تو اپنی ذات کے قید میں ہے، دوست کی محبت میں نہیں
میں کسی کے قریب جاؤں، اس سے عقیدت ظاہر کروں تاکہ کل کو اگر میں کسی مشکل میں پھنس جاؤں تو یہ افسر میرا کام کر دے؛ تو پھر میں اسے نہیں چاہتا، میں تو خود کو اور اپنے مفاد کو چاہتا ہوں۔ یہ اولیاء کے طریقے کے خلاف ہے جو اللہ سے اللہ کے سوا کچھ اور مانگیں۔ شیخ بہائیؒ کی ایک کتاب نان و حلوا۔ نان و حلوا کا مطلب ہے جس میں سب کچھ مل جائے۔ اس کتاب میں ہے:
اے نیک فطرت! نان و حلوا کیا ہے؟
یہ تیری وہ عبادتیں ہیں جو جنت کے لیے ہیں
اہل دین کے نزدیک یہ دین کو کم کرنا ہے
کہ عبادت میں حق سے مزدوری مانگی جائے
اے فقیر! جا کر حدیث مَا عَبَدتُكَ کو سمجھ
اور اسے مردوں کے شاہ(علیؑ) کے کلام سے سیکھ
امام علیؑ سے منقول روایت میں وارد ہوا ہے:
إِلَهِی مَا عَبَدتُكَ خَوفاً مِن نَارِكَ وَلَا طَمَعًا فِی جَنَّتِكَ بَل وَجَدتُكَ أَهلاً لِلعِبَادَةِ فَعَبَدتُكَ.
الہٰی! میں نے تیری عبادت تیرے جہنم کے خوف یا جنت کے لالچ میں نہیں کی، بلکہ تجھے عبادت کے لائق پایا، اس لیے تیری عبادت کی ( یہی خالص بندگی ہے)۔
> بیان کرتے ہیں:
اے فقیر! شاہِ مردان سے یہ سیکھ
کہ مزدوری میں عمل پر نظر رکھنا نادانی ہے
قیمت کی خاطر اطاعت کرنا مزدوری ہے، جیسے ایک مزدور صبح سویرے کسی سے معاہدہ کرتا ہے کہ میں آٹھ گھنٹے کام کروں گا اور اتنے پیسے لوں گا۔ اولیاءِ اللہ اور مردانِ خدا ایسے نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا ہے:
بھکاریوں کی طرح مزدوری کی شرط پر بندگی نہ کر
کہ مالک خود بندہ پروری کی صفت جانتا ہے
وہ اللہ کے لیے یہ طے نہیں کرتے کہ کیا دے اور کیا نہ دے۔ اگر وہ زبان سے کچھ مانگتے بھی ہیں تو وہ صرف اللہ کے حکم اُدۡعُونِي کی اطاعت میں ہے؛ باقی وہ سب کچھ اسی پر چھوڑ دیتے ہیں۔ علامہ طباطبائیؒ کے بارے میں ایک واقعہ نقل کیا جاتا ہے کہ وہ عید غدیر کے موقع پر مشہد میں امام رضاؑ کے روضے پر موجود تھے۔ انہوں نے عرض کیا : آقا! آج عید کا دن ہے، ہمیں کچھ عیدی دیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا دوں؟ انہوں نے جواب دیا: میں متعین نہیں کرتا، کیونکہ ڈرتا ہوں کہ کہیں اپنی نادانی میں کم مانگ کر اپنا نقصان نہ کر بیٹھوں!! وہ سب کچھ اللہ اور اس کے ولی کے کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔
پس عبد ِمحض بندگی میں کامل ہوتا ہے اور بغیر کسی ذاتی مفاد کی آمیزش کے اللہ کے تمام احکام کی تعمیل کرتا ہے۔ وہ اپنی خواہش کو اپنے فائدے یا دنیاوی و اخروی ثمرات کے ساتھ نہیں ملاتا۔ وہ ہمیشہ اپنی حقیقت کو پہچانتا ہے اور جانتا ہے کہ اس میں کس چیز کی صلاحیت موجود ہے اور کس چیز صلاحیت کی موجود نہیں ہے۔ چنانچہ جس چیز کی اس میں صلاحیت پائی جاتی ہے، وہ اسے اللہ کی طرف سے مل جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیض کی کوئی حد نہیں ہے۔ علامہ حسن زادہؒ کے بقول اللہ تعالیٰ اپنی فاعلیت یعنی اپنی فیاضی میں کامل ہے۔ لہٰذا ہمیں فقط اپنی قابلیت کی اصلاح کرنی چاہیے تاکہ ہم اس کے فیض کو حاصل کر سکیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہمیں نہیں مل رہا تو اس کا مطلب ہے کہ مسئلہ ہماری طرف سے ہے۔
اولیاءِ اللہ کا اس قدر سوز و گداز حکم ِالہٰی کی تعمیل کی خاطر ہے۔ گذشتہ دونوں گروہوں یعنی طبیعی طور پر جلد باز اور دوسرا احتیاط برتتے ہوئے مانگنے والوں کی تمام تر توجہ مانگی جانے والی چیز پر ہوتی ہے جبکہ تیسرے گروہ کو مانگی جانے والی چیز کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی، فرق نہیں پڑتا مانگی جانے والی چیز متعین ہو،جیسے کوئی اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ مجھے علم دے، مال دے وغیرہ، یا وہ چیز غیر متعین ہو، جیسے کہے کہ جو میرے حق میں بہتر فرما، مجھے عطا فرما دے وغیرہ ۔ تیسرا گروہ مانگی جانے والی چیز سے بے نیاز ہوتا ہے اور تمام تر توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف رکھتا ہے۔ ان کا مانگنا صرف اپنے مالک کے حکم کی تعمیل کی خاطر ہے، کیونکہ وہ اللہ کے ما سوا سے طلب کرنے سے پاک و منزہ ہیں۔ یہ نہ دنیا کے طالب ہوتے ہیں نہ آخرت بلکہ وہصرف صاحبِ آخرت کے طالب ہوتے ہیں۔ان کی ہمت بلند ہوتی ہے:
میں اس ہمت کا غلام ہوں جو اس نیلگوں آسمان کے نیچے
ہر اس چیز سے آزاد ہے جس پر تعلق کا رنگ چڑھا ہو