ولایت فقیہ ایک ایرانی نظریہ نہ کہ اسلامی نظریہ

کتاب: ولايت فقيه، آيت الله جوادى آملى

تدريس: سيد محمد حسن رضوی 

گذشتہ اقساط میں بیان کردہ  روایات عمومی اور اجتماعی امور سے تعلق رکھتی ہیں۔یہاں یہ مسئلہ پیش آتا ہے کہ  اجتماعی امور کون کونسے ہیں؟یہ معنی واضح ہے کہ کسی بھی قوم یا ملت کے مشترکہ مسائل اجتماعی مسائل کہلاتے ہیں، جیساکہ عوما ایک ریاست میں اس قوم سے متعلق مسائل کو اجتماعی مسئلہ کہا جاتا ہے۔ اجتماعی مسائل کے مقابلے میں انفرادی مسائل آتے ہیں جس سے مراد ایک شخص یا ہر فرد کا اپنا ذاتی مسئلہ ہے جو دوسروں سے تعلق نہیں رکھتا۔ دینِ اسلام نے انسان کی اجتماعی و انفرادی ہر دو مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے شرعی ضوابط و قوانین بنائے ہیں۔

فقہاءِ شیعہ میں دو تفکر:

ولایت فقیہ عمومی سے مراد کسی بھی علاقہ یا قصبہ یا ریاست میں نیابتِ امام مہدیؑ میں کسی عادل فقیہ کا عملی طور پر حکومت قائم کر کے اجتماعی مسائل کو حل کرنا اور اسلامی سرحدوں کی حفاظت کرنا اور الہٰی قوانین کو جاری کرنے کی مسلسل کوشش کرنا ہے۔ فقہاء تشیع میں اصل مسئلہ ایک ٹکراؤ کا ہونا ہے جس کے نتیجہ میں بعض امور غیر متوازن نظر آتے ہیں۔ ایک اہم مسئلہ یہ ہے  کہ امت اسلامیہ بالخصوص مکتبِ اہل بیتؑ سے منسلک طبقہ کے انفرادی مسائل پر تو فتاوی اور احکامِ شرعیہ سالہاسال سے بیان کیے گئے ہیں۔ جبکہ اجتماعی پہلو کے اکثر بیشتر مسائل سے کاملاً غفلت برتی گئی ہے ہے۔ حتی مسئلہ تو یہاں تک جا پہنچا کہ جب وطن یا سرحد کی حفاظت بات آئے، ظالم کے خلاف قیام کے حالات پیش آئیں ، دشمن کی طرف سے حملہ اور مختلف سازشوں کا جال بچھایا جائے تو بہت سے فقہاء اس نوعیت کے اجتماعی مسائل میں یا خاموش سادھ لیتے ہیں یا کسی قسم کے تبصرے سے گریز کرتے ہیں لیکن جب اجتماعی مسائل میں تقلید کا مسئلہ در پیش ہو ، یا رؤیتِ چاند کا مسئلہ پیش آئے یا خمس جوکہ حاکمِ شرعی کا منصبی حق ہے کی بات آئے تو بہت سے فقہاء اپنے آپ کو بعنوانِ حاکمِ شرع پیش کر دیتے ہیں !!

 ولایت فقیہ کا وطنیت قومیت سے بالاتر ہونا

ولایت فقیہ غیبتِ امام مہدیؑ میں الہٰی با شرائط حاکم کی عملی حکومت کا ایک جاذب اور بہترین سیاسی نظریہ ہے جوکہ خالصتاً اسلام و امامت کی تعلیمات سے لیا گیا ہے۔ ولایت فقیہ کا تعلق اسلام اور مسلمین سے ہے کسی قومیت یا وطنیت سے نہیں۔ بلا شک و شبہ جو شخص حاکم بنے گا وہ کسی قوم یا قبیلے میں تو پیدا ہو گا اور اسی طرح جب حکومت بنے گئی تو یقیناً کسی خطے اور سرزمین پر ہو گی۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ قومیت اور سرزمین کو اصل حیثیت دے کر ولایت فقیہ کو مشکوک کرنے لگ جائیں !! ولایت فقیہ کی اصل شرائط اور ذمہ داریوں میں اسی لیے قومیت اور وطنیت کی آمیزش نہیں بلکہ صرف شرائط بیان کی جاتی ہیں کہ وہ شرعی پابند، فقیہ اور عادل و مرد ہونا چاہیے۔ آیت اللہ جوادی آملی فرماتے ہیں کہ فقہی کتابوں میں فقہاء نے امورِ مسلمین کے حوالے سے یہ ضابطہ پیش کیا ہے کہ اس فقیہ کو ان امور کا اختیار حاصل ہو گا جو دیانت دار اور عادل ہے۔ اسی جگہ سے ولایتِ فقیہ کی شرائط میں عدالت، دیانت داری ، شرعیت کا علم اور پابندِ شریعت جیسی شرائط معتبر قرار پائیں۔  ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ولی فقیہ اسلام و مسلمین کا حاکم ہے صرف ایک ملت یا قوم یا وطن کا نہیں ۔ اگر قومیت یا وطنیت کے نظریہ پر کوئی شخص برتاؤ کرے اور دین اس کی نگاہ میں ثانوی حیثیت رکھتا ہو تو وہ شخص عادل شمار نہیں ہو سکتا اور ولی فقیہ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ دشمن اسی لیے قومیت اور وطنیت کے فاسد نظریات کو رواج دیتا ہے تاکہ امت اسلامیہ اس میں تقسیم رہے اور ایک متفق علیہ حاکم اس امت میں جنم نہ لے سکے۔ بالآخر حاکم کسی قوم قبیلے اور سرزمین پر تو پیدا ہو گا لیکن یہ جہت اس کے صرف تعارف کے لیے ہے جبکہ حاکمیت ایک شرعی ذمہ داری ہے جسے نبھانے کے لیے عدالت اور شرعی ضوابط کے ساتھ دن رات محنت زحمت کر کے انجام دینا ہے۔ پس تشیع میں ولایت فقیہ کا منصف  ملیت و قومیت و وطنیت سے بالاتر ہے۔  اگر ولی فقیہ میں دینی نظریہ کے برخلاف قومیت کے افکار کی جھلک آشکار نظر آئے اور وہ اسی قومیت کے عنصر کے تحت تفریق برتے تو یہاں ولی فقیہ کی عدالت ساقط ہو جائے ۔

ولایت فقیہ یعنی ایرانیت کو پاکستانیت پر مسلط کرنا :

عموماً استعماری پروپیگنڈہ اور قومیت کے افکار کے زیر تحت آنے والی ریاستیں یہ گمان کرتی ہیں کہ ایران ولایت فقیہ کے بہانے دیگر ممالک پر قبضہ کرنا چاہتا !! حقیقت اس کے برخلاف ہے کیونکہ اوّل مکتبِ تشیع میں غیبتِ امام زمانؑ میں کسی ملک پر چڑھائی اور قبضہ کا اصلاً تصور نہیں پایا جاتا ۔ ثانیاً اگر ایسا ہوتا تو ایران جو عراق ، شام اور لبنان میں ایک عسکری قوت کے ساتھ وسیع پیمانے پر اختیارات رکھتا ہے وہاں اپنی اجارہ داری دکھاتا اور اس جگہ ایرانیت ہمیں ہر جگہ نظر آتی جبکہ وہاں ایران نے انہی ریاستوں کو آزاد کرانے میں جانوں کے نذرانے پیش کیے اور دفاعی طور پر انہیں مضبوط کیا اور مشکل گھڑی میں جب پوری دنیا مکارانہ سیاست چل رہی تھی اور اپنے مفادات سمیٹ رہی تھی اس وقت ایران اپنے پورے ملک کو داؤ پر لگا کر ان ممالک کے ساتھ استعمار کے خلاف برسرپیکار تھا۔ لہٰذا ولایت فقیہ کا تعارف پوری دنیا میں ظالم کے خلاف مبارزہ اور مظلوم کی حمایت کی صورت میں ہے۔ ایران کی ہر گز مثال طالبان و داعش کی نہیں ہے جو آئے روز پاکستان کے نہتے عوام اور پاکستان کے محافظ اداروں پر حملے کرتے رہتے ہیں اور لشکر کشی کے ذریعے سے جابرانہ حکومت کے خواب دیکھتے ہیں ۔ 

 

پس ولایت فقیہ کا ہر گز مطلب  ایرانیت کو پاکستانیت پر غلبہ دینا نہیں ہے۔ یہ ایک شیطانی وسوسہ ہے کہ ایرانیت کی بات کر کے دین کی حاکمیت اور غلبہ کو قابل اعتراض قرار دے دیا جائے۔ بلا شک و شبہ دشمن اور فکری کمزور حکمکران و منصب دار اپنی سی کوشش کرتے ہیں کہ اسلامی ممالک قومیت کے رنگ کو قوی کریں اور سازشی کئی دھڑے بنا کر باہمی ٹکراؤ اور جرائم انجام دلا کر ثبوت لے کر آئیں کہ دیکھیے ایراینت کی سازش ہمارے وطن میں ہو رہی ہے!! یہ سازشیں اللہ تعالیٰ کے دین کو ناکام نہیں کر سکتیں اور نہ پروپیگنڈہ سے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت ختم ہوتی ہے ۔ اللہ تعالی کا وعدہ ہے کہ زمین کے وارث اللہ سبحانہ کے صالح بندے ہیں۔ پاکستان میں صالح افراد کی حکمرانی اسی ولایت فقیہ کے نظریہ کی جھلک ہے۔ صالح کی حکومت ولایت فقیہ ہے جبکہ دو شروں میں سے ایک شر کا انتخاب اجباری اور اضطراری حکومت ہے۔اگر ولایت فقیہ کا مقصد کسی قوم یا ریاست پر مسلط ہونا ہوتا تو ہر وحدتِ اسلامی کی بات نہ کی جاتی اور فلسطین و لبنان و شام کے مظلومین کے لیے مال و جان کے ساتھ ظالم کے خلاف قیام وجود نہ رکھتا۔ وحدت کی آواز اور شیعہ و سنی کی تفریق کے بغیر مظلوم کی عملی حمایت حقیقت میں امت اسلامیہ کو اپنے مفادات اور اپنی ریاستوں کے تحفظ کی خاطر ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا ہے۔ پاکستان میں ایرانیت کے غلبہ یا تسلط کے لیے ولایت فقیہ کی حمایت نہیں کی جاتی بلکہ پاکستان کے مسائل کا حل، عالمی سطح پر ایک قوت کے طور پر ابھر کر اپنے وطن کے تحفظ کو یقینی بنانے اور اپنے استقلال سے اپنے مفادات کی طرف قدم بڑھانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ تفرقہ باز علماء ، متعصب ناصبی گروہ ، لبرل امریکی برطانوی نواز حکمران و سربراہان حقیقت میں دین کی حاکمیت سے گھبراتے ہیں اس لیے ولایت فقیہ کے خلاف منفی پروپیگنڈہ اور سازشی واقعات کو ہوا دے کر نفرت کی فضاء بنانا چاہتے ہیں۔

ولایت فقیہ اور قومیت کا گمان :

مختلف مذہبی گروہوں اور قومی اداروں میں یہ گمانِ باطل پایا جاتا ہے کہ ولایت فقیہ ایک ایرانی نظریہ ہے اور ہم پاکستانی ہیں اس لیے ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے !! اگر ولایت فقیہ کو فروغ دیا جائے تو اس سے ایرانیت مسلط ہوتی جائے گی جس سے پاکستان کے مفادات اور سالمیت کو خطرہ ہے !! انقلابِ اسلامی سے اب تک واقعات واضح دلیل ہیں کہ یہ محض ایک باطل تفکر اور بدگمانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس حقیقت کا انکار نہیں ہے کہ ایران میں ایرانی قومیت کے عناصر قوی ہیں اور بہت سے مذہبی گروہ بھی قومیت کی اساس پر برتاؤ کرتے ہیں اور ممکن ہے بعض افراد اپنی سیاسی یا مالی قوت کی بدولت قومیت کی اساس پر کام بھی انجام دیتے ہوں ۔ لیکن ان مفاسد کا نظریہِ ولایت فقیہ سے تعلق نہیں ہے کیونکہ شر پسند اور فاسد طبقہ جسے دین اسلام نے منافق کہا ہے رسول اللہ ﷺ اور آئمہ اطہارؑ کے اردگرد بھی تھا۔ ان کے منافقانہ اعمال کی نسبت رسول اللہ ﷺ کو ہر گز نہیں دی جائے گی اور نہ ان مفسدین کی وجہ سے حکومتِ اسلامی اور شریعت کے احکام قابل اعتراض قرار پائیں گے۔ لہٰذا ولایت فقیہ اور ولی فقیہ سے مربوط افراد میں ایسے منافقین کی حرکات کو مذمت کی نگاہ سے دیکھنا ضروری ہے لیکن اس کی نسبت ہر گز ولایت فقیہ یا ولی فقیہ کی طرف نہیں دی جا سکتی۔

قومیت کے عناصر صرف دو ریاستوں میں نہیں پائے جاتے بلکہ ہر ریاست اس شیطانی تفکر کی تلخی کو جھیل رہا ہے۔ وطن عزیز میں بلوچ ، پٹھان، پنجابی و سندھی ایسے جھگڑے ہیں جو نہ کوئی ڈیم بننے دیتے ہیں اور صوبائی سطح پر ترقی کی راہ ہموار کرنے دیتے ہیں۔ پاکستان کا مشرقی حصہ فقط اور فقط وطنیت اور قومیت کی اساس پر ہم نے جدا ہو گیا ۔ قابل تعجب بات ہے کہ پاکستان کی تقسیم کبھی بھی مذہبی یا دینی نظریات پر نہیں ہوئی لیکن قومیت اور وطنیت کی اساس پر پاکستان تقسیم ہو گیا۔ بلوچستان میں آئے روز عسکری اداروں پر حملے بلوچی قومی تفکر کا نتیجہ ہے۔ پس ضروری ہے کہ بات حق اور عدل کی جائے نہ کہ قومیت و وطنیت کی۔ حتی وطن کی حفاظت اور وطن کی ضرورت حق اور عدل کی اساس پر ہے۔ ان نظریات سے بہت گہرے طور پر نتائج مختلف ہو جاتے ہیں، مثلاً ایک عسکری ادارہ جب قومیت کی اساس پر کاروائی کرتا ہے تو وہ حق و باطل اور عدل و ظلم کو نہیں دیکھتا اور قومیت کے مشرکانہ نظریہ کی اساس پر مسلمان ہی کو قتل و غارت کی بھینٹ چڑھا دیتا ہے ، جیساکہ صدام ، شاہِ ایران  اور وطن عزیز میں کئی کرنیل و جرنیل کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگین ہیں۔ اس کی بجائے اگر حق و عدل کے نظریات کی اساس پر عسکری ادارے کاروائی کریں تو اس سے عدل و قانون کی بالا دستی قائم ہو گی۔

قومیت کے یہ عناصر ایران میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ایرانیت کی پاکستان پر تسلط کا گمانِ باطل یہاں سے بھی دور ہو جاتا ہے کہ خود ایران میں مختلف قومیں جیسے بلوچ، فارس، ترک، کرد، لور اور عرب موجود ہیں۔ ان قومیتوں کے علاقوں میں انہی کی اقوام سے افراد حکمران بنتے ہیں۔ اگرچے پورے ملک سے اساسی حکمران جیسے صدر وغیرہ ملک کے کسی بھی علاقے سے منتخب ہو سکتے ہیں لیکن ایک صوبہ یا قوم پر عملی طور پر منصب دار انہی اقوام سے متعین کیے جاتے ہیں کیونکہ غیر اقوام کو اس صوبہ یا قصبہ کے لوگ بآسانی قبول نہیں کرتے۔ جب ایک چھوٹے سے علاقہ میں اختیاری حاکمیت کو کئی مشکلات درپیش ہیں تو کیسے تصور کیا جا سکتا ہے کہ وہ ایک پوری ریاست پر قومیت کو مسلط کر دے !! صرف ایران نہیں بلکہ دنیا کے کسی ملک پر کوئی دوسرا ملک اپنی قومیت کو مسلط نہیں کر سکتا۔ اس لیے استعمار قوموں کے اذہان کو غلام بنا کر خود انہی کو استعمال کر کے اپنی اجارہ داری قائم کرتا ہے۔ولایت فقیہ اس مقام پر آزادی اور فکری حریّت کا درس دیتی ہے اور قوموں کا اپنے ارادہ اور استقلال کے ساتھ کسی فکر کو قبول کر کے اسے اپنی ریاست پر قابل عمل کرنے کی قائل ہے۔ اس کے مقابلے میں استعمار سازش کے ذریعے غلامانہ تفکر کسی قوم پر مسلط کرتا ہے اور پھر ذہنی غلام قوم کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس استعماری ظالمانہ سازش کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ملک میں مارنے والا بھی اسی ملک کا ہے اور مرنے والا بھی اسی ملک ہے، پھر مسائل بڑھ جائیں یا امداد کی ضرورت پیش آئے تو جو پیسہ امداد کے نام پر دیا جا رہا ہے وہ بھی اسی ملک کا ہے اور جن کو فقیر قرار دے کر حاکمانہ انداز میں دیا جا رہا ہے وہ بھی اسی ملک کے ہیں !!

Scroll to Top