وحدت الوجود علماء کی نظر میں
تحریر: آیت اللہ حسن رمضانی
تدوین وترتیب: سید محمد حسن رضوی
04/07/2025
وحدتِ وجود کا مسئلہ عرفانِ نظری کے اہم مسائل میں سے ہے جس نےصدر المتألّہین کے توسط سے حکمتِ متعالیہ تک رسائی حاصل کی اور فلسفی شکل اختیار کر لی۔ اگر ہم حکمتِ متعالیہ کے دائرے میں رہتے ہوئے اس مسئلہ کی تحلیل کرنا چاہیں تو عرفانی بنیادوں پر اعتماد کیے بغیر تحلیل نہیں کی جا سکتی۔ وحدتِ وجود اور کثرتِ وجود کوئی حسّی چیز نہیں ہے جسے حواسّ کے ذریعے حل کیا جا سکے بلکہ یہ ایک امرِ معقول ہے۔ کیونکہ ہم بہت سے موارد میں اس کو ظاہر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس پر کثرت کا حکم لگا دیتے ہیں جبکہ اس پر وحدت حاکم ہوتی ہے۔اسی طرح بعض اوقات ہم ایک چیز پر وحدت کا حکم لگاتے ہیں جبکہ وہاں کثرت موجود ہوتی ہے، مثلاً ہم اس جسم کو ظاہری طور پر واحد سمجھتے ہیں حالانکہ یہ کثیر مالیکیولز، ایٹمز، الیکٹرانز وغیرہ سے مل کر بنا ہے یا ایک شخص متعدد آئینوں کے درمیان کھڑا ہو تو آئینے میں اس کی متعدد صورتیں بننے کی وجہ سے اس پر کثرت کا لگے گا جبکہ وہ ان آئینوں کے درمیان فردِ واحد ہے اور باقی سب اس فردِ واحد کے عکس کا پَرتَو ہیں۔ اگر اس ایک فرد کو ہٹا دیا جائے تو یہ تمام کثرتیں ختم ہو جائیں گی۔ پس وحدتِ وجود اور کثرت وجود کو ظاہری حواسّ کے ذریعے ثابت یا ردّنہیں کیا جا سکتا۔
Table of Contents
Toggleوحدتِ وجود کے مسئلہ کی تحقیق و جستجو کے دوران کبھی اس نظریہ کے صحیح تصور سے بحث کی جاتی ہے اور کبھی اس کی تصدیق اور اثبات سے۔ لہٰذا سب سے پہلے اس نظریہ کا صحیح تصور کرنا ضروری ہے اور اس کےبعد صحیح تصدیق اور حکم لگانے کے مرحلہ کو آسانی سے انجام دیا جا سکتا ہے۔ قابل افسوس بات یہ ہے کہ وحدتِ وجود کے مخالفین اور اس کو تنقید کا نشانہ بنانے والے اصلاً اس نظریہ کا صحیح معنی اور تصور نہیں سمجھتے اور غلط تصور بنا کر مختلف قسم کے ابہامات اور شبہات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ اس مقام پر خود اصلِ نظریہ کا صحیح تصور کرنا ضروری ہے۔
وحدت الوجود کے چار مختلف معانی
وحدت الوجود ایک اصطلاح ہے جس کے مختلف معانی بیان کیے گئے ہیں اور اسی اعتبار سے وحدت الوجود کے عنوان سے کئی نظریات ہمارے سامنے آ جاتے ہیں۔ ان تمام معانی میں عرفاء اور عرفانِ نظری میں فقط ایک نظریہ قبول ہے جو ہماری تحریر میں چوتھا نظریہ بنتا ہے۔ ذیل میں وحدت الوجود سے مربوط چار نظریات مختصر پیرائے میں پیش کیے جاتے ہیں:
پہلا نظریہ: ہر قسم کی کثرت کا انکار
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وحدتِ وجود سے مراد مطلق طور پر تمام کثرتِ خلقت کا انکار ہے۔ اس طرح سے کہ وحدتِ وجود پر اعتقاد کا مطلب ہر قسم کی کثرت کا انکار ہے اور وحدتِ محض کی حاکمیت ہے۔ بقیہ کثرت کے بارے میں جو کچھ کہا جاتا ہے اور پیش کیا جاتا ہے وہ سب کا سب وہم اور خیال ہے اور پھر اس وحدت وجود کے اس معنی کو اس جامی کے اس شعر سے منسلک کر دیا جاتا ہے جس کا بذاتِ خود فنّی اور صحیح معنی موجود ہے:
کُلُّ مَا فِي الکَونِ وهمٌ أَو خِیَالٌ کائنات میں جو کچھ ہے وہ وہم اور خیال ہے أو عکوسٌ في مَرَایَا أَو ظِلَال یا آئینوں میں عکس ہے یا سایہ ہے۔
ہمارے نزدیک وحدتِ وجود کا یہ تصور مردود اور باطل ہے اور ہم اسے عرفا اور فلاسفہ کے نظریات کے مطابق نہیں سمجھتے کیونکہ وہ ہر گز کثرت کا انکار نہیں کرتے۔ عرفاء و حکماء وحدت الوجود کے قائل ہوتے ہوئے کثرت کو تسلیم کرتے ہیں۔
دوسرا نظریہ: حق تعالیٰ کا عینِ اشیاء ہونا:
بعض کا خیال ہے کہ وحدت الوجود کا مطلب حق تعالیٰ کا عین اشیاء اور اشیاءکا عین ِحق تعالیٰ ہونا ہے۔ اشیاء کثیر، فقیر اور ممکن ہیں جنہیں اللہ کے حساب میں ڈال کر کہا جائے کہ اللہ وہی ہے جو یہ سب چیزیں ہیں!! تمام اشیاء اجتماعی طور پر ایک اکائی کی صورت میں ہیں۔ وحدت وجود کا یہ تصور بھی باطل ہ، اور کوئی بھی حکیم یا عارف اس نظریہ کو قبول نہیں کرتا۔
تیسرا نظریہ: وجود کا حلول کرنا
بعض نے یہ تصور کیا ہے کہ وحدت الوجود کا مطلب یہ ہے کہ وجود ہی حق تعالیٰ ہےجوکہ ایک ہے اور یہ وجودِ واحد تمام اشیاء میں حلول اور سریان کے ذریعے جاری و ساری ہے۔ حق تعالیٰ کا اشیاء سے وہی تعلق ہے جو مظروف کا ظرف سے ہے۔ لہٰذا اشیاء مظروف اور اللہ سبحانہ مثل ظرف ہے۔ یہ تصور بھی باطل ہے اور خود عرفاء اور حکماءِ حکمت متعالیہ نے اس نظریہ کو ردّ کیا ہے، جیسا کہ شیخ محمود شبستری نے گلشن رازمیں لکھتے ہیں:
حلول و اتحاد اینجا محال است
حلول اور اتحاد یہاں ناممکن ہے
کہ در وحدت دویی عین ضلال است
کیونکہ وحدت میں دوئی کھلی گمراہی ہے
چوتھا نظریہ: وحدتِ وجود اور اس کی تجلیات
وحدت الوجود کے بارے میں چوتھا نظریہ ہماری نظر میں صحیح ہے جس کے مطابق حقیقتِ وجود صرف ایک ہی ہےلیکن یہ حقیقت تجلی کرتی ہے اور مخلوقات کی کثرت کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک لحاظ سے یہ وجودِ واحد کثرت سے جدا ہےاور دوسرے اعتبار سے کثرت کے ہمراہ ہے اور اس سے جدا نہیں ہے۔حق تعالیٰ ذات کے اعتبار سے حقیقی وحدت رکھتا ہےاور اصل ہےجبکہ مخلوقات کی کثرت نسبی کثرت ہےجو حق تعالیٰ کے مظاہر اور تجلیات ہیں۔ اس بنیاد پر وجود کا اشیاء سے نہ مکمل عینیت کا تعلق ہے اور نہ مکمل جدائی ہے، جیسے ایک شخص متعدد آئینوں کے درمیان متعدد تجلیات دکھاتا ہے۔ ایک اعتبار سے یہ سب عکس اسی ایک ذات کے ہیں کیونکہ سب عکس اس ایک ذات سے متعلق ہیں اور اس کی طرف اشارہ کر رہے ہیں لیکن دوسری جہت سے یہ عکس اس کی ذات سے مختلف ہیں کیونکہ ذات اصل ہے اور باقی سب اس ذات کے مظاہر ہیں، جیسا کہ عبرت نائینی نے فرمایا:
چون نور کہ از مهر جدا هست و جدا نیست
عالم همہ آیات خدا هست و خدا نیست
در آینہ بینید اگر صورت خود را
آن صورت آیینہ شما هست و شما نیست
چونکہ روشنی سورج سے جدا ہے اور جدا نہیں بھی
تمام جہان آیاتِ خدا ہے اور خدا نہیں
آئینہ میں تم دیکھو اگر خود اپنی صورت کو
آئینہ کی صورت تم ہو اور تم نہیں بھی
حق تعالیٰ (یا وجود) تحقق اور وجود کے اعتبار سے واحد ہے، لیکن ظہور اور مظاہر کے اعتبار سے کثیر ہے۔ بعض محققین نے اس بات کو سمجھانے کے لیے نفس اور اس کی قوتوں کی مثال دی ہے، جیسا کہ حاج ملا ہادی سبزواریؒ نے فرمای







