مستحب قربانی میں ایک سے زائد افراد کا شریک ہونا

مستحب قربانی میں ایک سے زائد افراد کا شریک ہونا

سوال :

سوال: جو افراد حج کے لیے مشرف نہیں ہو سکے ان کے لیے قربانی کرنا واجب ہے یا مستحب؟ اور اگر ان کے لیے قربانی کرنا مستحب ہے تو ایک قربانی میں ہم چند افراد شریک ہو سکتے ہیں؟

جواب:

[رہبر معظم امام خامنہ ای]:
جو افراد حج کے لیے مشرف نہیں ہوۓ ان کے لیے قربانی کرنا مستحب ہے۔ مستحب قربانی میں ایک سے زائد افراد شریک ہو سکتے ہیں۔[1]

[آیت اللہ العظمی سیستانی]:
جو افراد حج پر نہیں جا سکے ان پر قربانی کرنا مستحب ہے۔ مستحب قربانی میں ایک یا ایک سے زائد افراد شریک ہو سکتے ہیں۔[2]

[آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی]:
ایسے افراد پر قربانی کرنا مستحب ہے۔ مستحب قربانی میں ایک سے زائد جتنے افراد شامل ہونا چاہیں شریک ہو سکتے ہیں۔[3]

Scroll to Top