مستحب روزہ توڑنا سوال : میرا سوال یہ ہے کہ کیا مستحب روزہ توڑنا جائز ہے؟ مثلا ماہ رجب یا شعبان کا روزہ رکھا اور دوپہر کو بغیر کسی وجہ کے توڑدیا،کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ جواب: [آیت اللہ العظمی علی حسینی سیستانی]:مستحب روزہ جب چاہيں كھول سكتے ہيں ۔ مستحب روزہ كو پورا كرنا واجب نہيں ہے ۔[1] Table of Contents Toggle مستحب روزہ توڑناسوال :میرا سوال یہ ہے کہ کیا مستحب روزہ توڑنا جائز ہے؟ مثلا ماہ رجب یا شعبان کا روزہ رکھا اور دوپہر کو بغیر کسی وجہ کے توڑدیا،کیا ایسا کرنا جائز ہے؟جواب:↑1آفیشل ویب سائٹ آیت اللہ سیستانی۔↑2آفیشل ویب سائٹ آیت اللہ مکارم شیرازی۔سوال [آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی]:مستحب روزے کو پورا کرنا واجب نہیں ہے۔اگر کوئی شخص مستحب روزہ رکھتا ہے اگر چاہے تو اسے توڑ سکتا ہے۔[2] منابع: ↑1 آفیشل ویب سائٹ آیت اللہ سیستانی۔ ↑2 آفیشل ویب سائٹ آیت اللہ مکارم شیرازی۔ Email یہاں سوال پوچھیں سوال سوال جواب فقہی سوال جواب عقائدی سوال جواب مہدویت نظریہ مہدویت شبہات کے جوابات تاریخی شبہات سیاسی شبہات عقائدی شبہات اسلامی سیاست اصول سیاست سیاست امام علی از نہج البلاغہ سیاست آئمہ اہل بیت (ع) ولایت فقیہ عقائدی اور سیاسی پہلو فقہی پہلو سیرت و تاریخ اصول تاریخ گھرانے کے مسائل ازدواجی مسائل جوانوں کے مسائل اسلامی داستانیں قصص انبیاء (ع) قصص ائمہ اطہار (ع) Hamburger Toggle Menu