مرد کا خاتون کی جانب سے نیابتی حج

مرد کا خاتون کی جانب سے نیابتی حج

سوال :

کیا مرد عورت کی طرف سے اور عورت مرد کی طرف سے نیابتی حج کر سکتے ہیں؟

جواب:

[رہبر معظم امام خامنہ ای]:
حج کی نیابت میں ہمجنس ہونا ضروری نہیں ہے ۔ اس لیے ایک مرد کسی عورت کی جانب سے یا ایک عورت کسی مرد کی طرف سے نیابتی حج انجام دے سکتے ہیں۔[1]

[آیت اللہ العظمی علی سیستانی]:
ہاں !ایک دوسرے کی طرف سے نیابتی حج انجام دے سکتے ہیں۔[2]

[آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی]:
شرعی طور پر کوئی حرج نہیں۔ مرد عورت کی طرف سے اور عورت مرد کی طرف سے نیابتی حج ادا کر سکتے ہیں اور بہتر یہ ہے کہ مرد کی طرف سے مرد اور عورت کی طرف سے عورت نیابتی حج کرے۔[3]

Scroll to Top