محمد بن علی ماجیلویہ
محمد بن علی ماجیلویہ
آپ کا شمار چوتھی صدی ہجری کے بلند پایہ محدثین اور شیخ صدوق کے مشایخ میں ہوتا ہے۔ شیخ صدوق کے مشایخ کی وثاقت کے بارے میں علماء رجال نے تفصیلی بحث کی ہے اور اس بارے میں مختلف نظریات کتبِ رجالیہ میں پائے جاتے ہیں۔:
Table of Contents
Toggle| ۱۔ نام : | محمد بن علی ماجیلویہ [1] | ||||||||||
| ۲۔ کنیت: | وارد نہیں ہوئی ۔ | ||||||||||
| ۳۔لقب/ نسبت: | قمی [2] | ||||||||||
| ۴۔ رجالی حیثیت: |
| ||||||||||
| ۵۔طبقہ: | چوتھی صدی ہجری کے بزرگ محدث اور شیخ صدوق کے مشایخ میں سے ہیں۔ | ||||||||||
| ۶۔ تبصرہ: | علامہ مامقانی نے تحریر کیا ہے کہ قرائن سے آپ کی وثاقت ثابت ہے۔ ان قرائن سے مراد شیخ صدوق کا آپ سے کثرت سے روایات لینا ، آپ کے نام کے ساتھ کثرت سے رضی اللہ عنہ اور رحمہ اللہ لکھنااور مشایخ ِاجازہ میں سے ہونا ہے جس کی بناء پر آپ توثیق سے مستغنی اور بے نیاز ہیں اور آپ کی وثاقت علماء رجال کے بیانات کی محتاج نہیں ہے۔ [5] تستری نے شیخ الاجازہ ہونے کی بناء پر آپ کی توثیق بیان کی ہے۔[6] |







