ماہ رمضان میں سفر
سوال :
ماہ رمضان میں روزے کی حالت میں جان بوجھ کر سفر کرنے کا کیا حکم ہے جب کہ نیت یہ ہو کہ سفر پر جا کر فقط روزہ قصر کروں گا۔
جواب:
[رہبر معظم امام خامنہ ای]:
ماہ رمضان میں شرعی طور پر سفر کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر سفر اس نیت سے کرے کہ روزہ قصر ہو، مکروہ ہے۔[1]
Table of Contents
Toggle[آیت اللہ علی سیستانی]:
ماہ رمضان میں سفر کرنا شرعی طور پر ممانعت نہیں رکھتا۔ لیکن جان بوجھ کر روزہ قصر کرنے کی نیت سے سفر کرنا مکروہ ہے۔ تاہم کفارہ نہیں بلکہ رمضان کے بعد ہر ایک روزہ کے بدلے فقط ایک روزہ قضا کے طور پر رکھنا ہوگا۔[2]
[امام خمینیؒ]:
ماہ رمضان میں سفر کرنے میں کوئی حرج نہیں حتی اگر روزے کو قصر کرنے کی نیت سے بھی سفر کرے تب بھی جائز ہے۔ لیکن ۲۳ روزے گزرنے سے پہلے سفر کرے تو مکروہ ہے مگر یہ کہ بہت ہی ضروری کام ہو۔[3]
[آیت اللہ وحید خراسانی]:
شرعی طور پر ماہ رمضان میں سفر کرنا حرام نہیں مکروہ ہے۔ چاہے روزہ قصر کرنے کی نیت سے سفر کرے یا کسی اور امر کی وجہ سے۔ مگر یہ کہ کوئی ضروری امر درپیش ہو یا مثلا حج کا سفر کرنا ہو۔[4]
[آیت اللہ مکارم شیرازی]:
ماہ رمضان میں سفر کرنا شرعی طور پر حرام نہیں ہے۔ لیکن اگر روزے سے بچنے کے لیے سفر کرے تو مکروہ ہے۔[5]