قاعدہ ید
تحریر: سید محمد حسن رضوی
2021-08-20
قاعدہ ید مشہور فقہی قواعد میں سے ہے جس سے علم فقہ کے مختلف ابواب میں تمسک کیا جاتا ہے۔ تمام معاملات کے احکام اسی قاعدہ ید کے گرد گردش کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ قاعدہ باب معاملات کی اہم مباحث میں شمار ہونے لگا ہے۔ اس تحریر میں ہم درج ذیل عناوین کے تحت اس قاعدہ سے بحث کریں گے:
Table of Contents
Toggle- اس قاعدہ کامعنی
- قاعدہ کا منبع و مدرک
- قاعدہ کا شمار امارات میں سے ہے یا اصول عملیہ میں سے؟
- کسی چیز کے ذریعے ید متحقق ہوتا ہے؟
- جب ید ایک شیء سے متعلق ہو جائے تو کیا اس شیء کو بغیر خصوصی اجازت کے فروخت کرنا جائز نہیں ہے جیسے وقف یا جائز ہے؟
- اگر ید پہلے بعنوان ملکیت واقع نہ ہو تو کیا تب بھی حجت ہے؟
- کیا ید منافع اور اعیان ہر دو موارد میں مستقر ہے؟
- کیا فقط ید کا ہونا ملکیت کے اثبات پر بطور شاہد کافی ہے؟
- کیا ید صاحبِ ید کے لیے حجت ہے؟
- چور یا اسی طرح کے دیگر موارد میں ید کی عدم حجیت
- مختلف دعوی جات میں حجیت ید سوائے اس مورد کے جو مستثنی ہے
۱۔ قاعدہ کا معنی:
قاعدہ ید کو ید کہنے کی وجہ
قاعدہ ید اور قاعدہ اخبار ذی الید میں فرق
اس کے مقابلے میں قاعدہ اخبار ذی الید ہے کہ اس سے مقصود یہ ہے کہ کسی شخص کے زیر تسلط ایک شیء ہو اور اس وقت اس کی ملکیت کی تصدیق کی جا سکے جب اس شیء کے احوال میں سے کسی حالت کو بیان کیا جائے مثلا یہ پاک ہے یا نجس ہے ، یا یہ فلاں جنس کی ہے وغیرہ ۔ جب یہ خبر دی گئی اور یہ خبر دینا حجت بنی تو ملکیت کی تصدیق ہوئی۔ اس مورد میں ایک شیء کا کسی کے ہاتھ میں یا زیر تسلط ہونا کافی نہیں ہے اور نہ زیر تسلط ہونا اس کی ملکیت کی علامت بن رہا ہے بلکہ ید کو خبر دینے سے مقید کیا گیا تو ملکیت کی تصدیق ہوئی۔ ان دونوں قاعدہ کے اجمالی تعارف کے بعد ان کے درمیان درج ذیل فرق کو ملاحظہ کیا جا سکتا ہے: ۱۔ دونوں کی دلالت میں فرق ہے۔ قاعدہ ید میں بذاتِ خود’’ ید‘‘ دال ہے جبکہ قاعدہ اخبار ذی الید میں ’’ید کی خبر دینا اور اس کے متعلق بتانا‘‘دال ہے۔ ۲۔قاعدہ ید کا مدلول اور قاعدہ ذی الید کا مدلول مختلف ہے۔ قاعدہ ید کا مدلول ملکیت ہے کیونکہ ’’ید‘‘ امارہ اور علامت ہے ملکیت پر ۔ جبکہ قاعدہ اخبار ذی الید میں مدلول دیگر احوال ہیں۔
قاعدہ ید اور قاعدہ علی الید ما أخذت میں فرق
قاعدہ ید ملکیت پر امارہ ہے کیونکہ ید اور زیر تسلط میں ہونا علامت ہے کہ اس شیء کامالک وہ شخص ہے جس کے زیر تسلط یہ شیء ہے۔ جبکہ قاعدہ علی الید ما أخذت حتی تؤدی سے مراد ید کا ضمانت کا سبب بننا ہے ۔ پس ید کا ضمانت سے تعلق ہو تو یہ دوسرا مستقل قاعدہِ فقہی قرار پاتا ہے۔







