عید غدیر سے متعلقرہبر معظم کے 30 بیانات

ترتیب و تنظیم: سید محمد حسن رضوی

06/12/2025

عیدِ اللہ اکبر:

عید غدیر ، عیداللہ اکبر ہے اور باقی سب اسلامی عیدوں سے بالاتر ہے۔[1]

Table of Contents

روزِ ہدایت و حکومت:

ہدایت اور حکومت کے سلسلے میں امت اسلامی کی ذمہ داری کو غدیر کے واقعے میں معین کیا گیا۔[2]

روزِ عظمت اسلام

غدیر کا واقعہ اسلام کی عظمت اور اس کی جامعیت کی نشانی ہے۔[3]

عید اکبر:

غدیر کی مبارک عید اللہ تعالیٰ کی طرف سے عنایت شدہ سب سے بڑی عید ہے جو تاریخ اسلام کی بہت ہی اہم اور امت کے لیے راہ کو معین کرنے والی عید ہے۔[4]

غدیر مسئلہ اسلامی

غدیر ایک اسلامی مسئلہ ہے، فقط شیعہ سے مربوط مسئلہ نہیں ہے۔[5]

غدیر حاکمیت عدل

غدیر میں جس عظیم مطلب کو بیان کیا گیا ہے وہ تمام مسلمانوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ کیونکہ غدیر میں بتایا گیا کہ عدل کی حاکمیت ہوگی، فضیلت اور اللہ تعالی کی ولایت کی حاکمیت ہوگی۔[6]

دشمن کی مایوسی کا دن:

غدیر وہ دن ہے جس دن دشمن دین سے مایوس ہو گئے۔ ایسا دین میں کیا اضافہ ہوا کہ جس سے دشمن مایوس ہو گیا؟ غدیر کے دن اسلامی معاشرے کی رہبریت کے مسئلہ کو حل کیا گیا، اور اس دن اسلامی معاشرے کی امامت کا نظریہ کھل کر و حکومتی نظام کو پیش کیا گیا۔[7]

اسلام کا ضابطہِ سیاست

عید غدیر کے دن اسلام کا ایک قاعدہ و ضابطہ تعیین کیا گیا۔ رسول اللہﷺ نے آخر عمر میں امامت و ولایت کا قاعدہ وضع فرمایا۔[8]

روز نظام امامت

بشر نے مختلف اقسام کے حکومتی نظاموں کا تجربہ کیا ہے۔ اسلام ان حکومتوں، سپر طاقتوں، اور اقتدار پرستوں کو قبول نہیں کرتا۔ اسلام صرف نظام امامت کو قبول کرتا ہے۔ اسلام کا قاعدہ یہ ہے۔ عید غدیر اسی مطلب کو بیان کرتی ہے۔[9]

تکمیل زحماتِ انبیاءؑ

رسول اللہﷺ نے ۲۳ سال مجاہدت فرمائی۔ ایسی کیا اہم بات تھی کہ جو انجام نہ پاۓ تو گویا یہ ۲۳ سالہ زحمت بھی قبول نہیں، جیساکہ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے  : > وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَه‏‏‏؛اور اگر آپ نے یہ کام نہ کیا تو آپ نے اپنی رسالت کو نہیں پہنچایا <  [10] یہ کوئی فرعی بات تو نہیں ہو سکتی تھی بلکہ یہ بہت ہی اہم بات تھی اور وہ امامت کو بطورِ نظام قائم کرنے کی بات تھی۔[11]

نعمت اسلام و نعمت ہدایت

سورہ مبارکہ مائدہ کی آیت کریمہ ہے : > الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتي‏‏‏؛اآج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت کو تمام کر دیا ہے <  [12] یہ آیت کریمہ اس مطلب پر صراحت کے ساتھ دلالت کرتی ہے کہ یہ نعمت، نعمت اسلام، نعمت ہدایت، بشریت کو صراط مسقیم دکھانے کی نعمت صرف اس وقت تمام اور کامل ہو سکتی ہے جب پیغمبر گرامیﷺ کے بعد راہ اور نقشہ امت کے لیے واضح ہو۔[13]

امت کی مدیریت کا پیغام

غدیر کے واقعے میں دو حقیقت پنہاں ہیں۔ ایک حقیقت امیرالمومنینؑ کا رسول اللہﷺ کے بعد امت کا بعنوان امام منصوب ہونا۔ اور دوسری حقیقت رسول اللہﷺ کے بعد حکومت، سیاست اور امت کی مدیریت و امامت کے مسئلے کا واضح ہونا۔[14]

مکتب تشیع کا رکنِ اصلی

 غدیر پر اعتقاد، ولایت اور امامت پر اعتقاد جو مذہب تشیع کا اصلی رکن ہے۔ ہمیں اس مسئلے کو دیگر کلامی مسائل کی طرح مسلمانوں کے درمیان اختلافی مسئلہ نہیں بننے دینا چاہیے۔[15]

اسلام کی حقانیت کا دن

 اگر مسلمانانِ عالم حقیقت میں رُشد اور وافی ہدایت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پورے جہان اسلام کے لیے واقعہ غدیر اس ضرورت کو پورا کر سکتا ہے۔ یہ ایک عظیم واقعہ تھا، اس کے واقع ہونے اور رسول اللہﷺ سے ان کلمات کے صادر ہونے کا کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔[16]

اسلام کی بقاء کا ضامن

اگر تاریخی نگاہ سے اسلام کو دیکھا جاۓ اور حوادث صدرِ اسلام کو تحلیل کیا جاۓ تو غدیر کا موضوع ایک ایسا موضوع بنتا ہے کہ اگر جس طرح سے اس کے لیے تدبیر کی گئی تھی اس پر امت عمل کر لیتی تو کوئی شک نہیں کہ بشر کی تاریخ اور اس کا مسیر بدل جاتا اور آج کا انسان جہاں پر کھڑا ہے اس سے بہت آگے ہوتا۔[17]

روزِ غدیر گمراہی سے نجات

غدیر کا مسئلہ ان مسائل میں سے ہے کہ اگر ہم اس پر غور و فکر کریں تو آج کے اسلامی معاشرے اور بالخصوص ہمارے ملک و قوم کے مسائل کو حل کرنے میں بہت مدد کر سکتا ہے۔ کیونکہ غدیر پر فکر کرنے سے ہم اصلی راہ کو گم نہیں کریں گے۔[18]

روزِ میزان و معیار

 غدیر کا مسئلہ ہمارے لیے ایک شاخص، معیار اور میزان کی حیثیت رکھتا ہے۔ قیامت تک کے لیے مسلمان اس معیار اور میزان کو اپنے سامنے رکھیں اور امت اسلامی کی عمومی ذمہ داری اور راہ کو غدیر کے ذریعے معین کریں۔[19]

روز معرفت ولایت

شیعہ کو ولایت پر افتخار کرنا چاہیے اور غیر شیعہ کو بھی چاہیے کو ولایت کو پہچاننے کی کوشش کرے۔[20]

روز اتحاد و نجات

اگر ہم اسلامی اتحاد کی بات کرتے ہیں اور اس نظریے پر پایبند کھڑے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم غدیر جیسے مسئلے کو فراموش کر دیں گے۔ غدیر اسلام کا اہم ترین، پیشرفتہ ترین، اصلی اور نجات بخش ترین مسئلہ ہے۔ غدیر کو فراموش نہیں ہونے دینا چاہیے۔[21]

اسلام کا سیاسی چہرہ

جو لوگ اسلام کو اجتماعی مسائل سے دور سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام کا سیاسی مسائل سے کوئی واسطہ نہیں۔ اور چاہتے ہیں کہ اسلام کو صرف ذاتی مسائل اور انسان کی خصوصی زندگی سے مربوط دین قرار دیں۔ اسلام کو سیکولر نگاہ سے دیکھنا چاہتے ہیں ان سب کا جواب غدیر ہے۔[22]

اہل اسلام میں سبب برادری

 آج دشمن چاہتا ہے کہ غدیر کے مسئلے کو اختلافی بنا کر برادر کشی، جنگ اور خونریزی کو ابھارا جاۓ۔ جبکہ غدیر مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور برادری کا باعث بننا چاہیے۔[23]

معاشرے کی سیاست کا اصول

غدیر میں امیرالمومنینؑ کا رسول اللہﷺ کی جانب سے بعنوان ولی امر امت اسلامی مقرر ہونا ایک بہت بڑا واقعہ ہے۔ در حقیقت اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ معاشرے کی مدیریت اور سیاست کو لے کر کتنے حساس تھے اور اس امر میں دخالت کرتے۔[24]

روزِ ولایت

اسلام ایک ایسا جامع دین ہے جس کے پاس سیاسی نظام موجود ہے۔ اسلام میں حکومت کو اسلامی مقررات کے مطابق چلایا جاتا ہے۔ اصطلاح میں یا عرف اسلامی میں اسلامی حکومت کو ولایت کہتے ہیں۔ اور روز غدیر در اصل روزِ ولایت ہے[25]۔[26]

عیدِ سیاست

 عید غدیر در اصل عیدِ ولایت و عیدِ سیاست ہے۔[27]

روزِ اسوہ

اسلامی حکومت کے نمونے (Role Model) کی تبیین در اصل غدیر کا اصلی پیغام ہے۔[28]

امت کی سرپرستی کا دن

 غدیر کا واقعہ ہمارے لیے اس امر کو واضح کرتا ہے کہ اسلام نے حکومت، سیاست اور امت اسلامی کی سرپرستی کو کتنی اہمیت دی ہے۔[29]

حکومت اور حاکمیت کا اصول

 غدیر کو مدنظر رکھتے ہوۓ معلوم ہوتا ہے کہ امت اسلامی پر حکومت کا مسئلہ بہت ہی اہم اور اول درجے کا مسئلہ ہے۔ حکومت اور حاکمیت کی نسبت ہم غیر مربوط نہیں ہو سکتے۔[30]

اہم پانچ معیارات اور شخصیت امام علیؑ

 اسلامی معاشروں اور مسلمان امتوں کی مدیریت کرنے کے معیار یہ ہیں:
۱۔خدا پرستی
۲۔ خدا کی راہ میں مجاہدت کرنا
۳۔ جان اور مال کو اسلام کے لیے فدا کرنا
۴۔ مشکلات اور سختیوں کا مقابلہ کرنا
۵۔ دنیا سے منہ موڑنا۔
ان معیاروں کی چوٹی پر ہم صرف ایک شخصیت کو دیکھتے ہیں اور وہ امیرالمومنینؑ کی ذات ہے۔ یہ غدیر کا سب سے بڑا درس ہے۔[31]

غدیر اساسی ترین عقیدہ

 غدیر کی مناسبت سے ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کے بعد امت اسلامی پر بر حق امام امیرالمومنینؑ تھے۔ شیعہ عقائد کی اصلی ترین اساس یہی عقیدہ ہے۔[32]

استعمار و آمریت کا علاج

 جس حکومت کا غدیر میں اعلان ہوا یعنی ولایت اگر مسلمانوں کے اندر اس نظام کو بیان کیا جاۓ تمام کمزوریاں دور کی جا سکتی ہیں۔ اقتصاد کا علاج، استعمار کا علاج، اور آمریت کا علاج یہی ولایت ہے۔[33]

 
منابع:

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

مائدہ: ۶۷۔

مائدہ: ۳۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

آفیشل ویب سائٹ رہبر معظم۔

Scroll to Top