عام اور خاص کے مخصوص صیغے

سوال مقدر اور جواب

صاحبِ کفایہ یہاں ایک سوال کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اگر كُلّ جیسے الفاظ عموم کے ساتھ مختص ہیں تو کیا وجہ ہے کہ یہی کلمات بعض اوقات خصوص کے لیے استعمال ہوتے دکھائی دیتے ہیں، مثلا آپ کہتے ہیں:  زَيدٌ كُلّ النّاسِ کہ ’’زید‘‘ کل کے کل لوگ ہے؟مصنف اس کا جواب دیتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ان کلمات کا خصوص کے لیے استعمال ہونا کسی قسم کا منافات نہیں رکھتا کہ یہ کلمات عموم کے لیے استعمال ہوں۔  ایسا ممکن ہے کہ لفظِ  کُلّ خصوص میں مجازًا استعمال ہو اور عموم میں حقیقۃً۔ البتہ مجاز کے لیے جب بھی لفظ استعمال ہوتا ہے اس کو قرینہ صارفہ کی ضرورت پیش آتی ہے جبکہ لفظ کا حقیقی{ معنی میں استعمال کسی قرینے کا محتاج نہیں ہوتا۔سکاکی} اور مشہور کے درمیان مجاز کی اقسام میں اختلافِ نظر موجود ہے جس کا اجمالی جائزہ پیشِ خدمت ہے

۱۔ مجاز مشہور کی نظر میں

مجاز کے باب میں مشہور کا نظریہ ہے کہ ایک لفظ قرینہ صارفہ اور علاقہ معتبر کی موجودگی میں غیر موضوع لہ میں استعمال ہوتا ہے۔ اہل ادب نے ذکر کیا ہے کہ مجاز کی تین اقسام ہیں:مجاز کے باب میں مشہور کا نظریہ ہے کہ ایک لفظ قرینہ صارفہ اور علاقہ معتبر کی موجودگی میں غیر موضوع لہ میں استعمال ہوتا ہے۔ اہل ادب نے ذکر کیا ہے کہ مجاز کی تین اقسام ہیں:مجاز کے باب میں مشہور کا نظریہ ہے کہ ایک لفظ قرینہ صارفہ اور علاقہ معتبر کی موجودگی میں غیر موضوع لہ میں استعمال ہوتا ہے۔ اہل ادب نے ذکر کیا ہے کہ مجاز کی تین اقسام ہیں:

۱۔ مجاز مشہور کی نظر میں

مجاز کے باب میں مشہور کا نظریہ ہے کہ ایک لفظ قرینہ صارفہ اور علاقہ معتبر کی موجودگی میں غیر موضوع لہ میں استعمال ہوتا ہے۔ اہل ادب نے ذکر کیا ہے کہ مجاز کی تین اقسام ہیں:مجاز کے باب میں مشہور کا نظریہ ہے کہ ایک لفظ قرینہ صارفہ اور علاقہ معتبر کی موجودگی میں غیر موضوع لہ میں استعمال ہوتا ہے۔ اہل ادب نے ذکر کیا ہے کہ مجاز کی تین اقسام ہیں:مجاز کے باب میں مشہور کا نظریہ ہے کہ ایک لفظ قرینہ صارفہ اور علاقہ معتبر کی موجودگی میں غیر موضوع لہ میں استعمال ہوتا ہے۔ اہل ادب نے ذکر کیا ہے کہ مجاز کی تین اقسام ہیں:

Scroll to Top