روزے کی حالت میں سوئمنگ پول میں نہانا

روزے کی حالت میں سوئمنگ پول میں نہانا

سوال :

کیا سوئمنگ پول میں نہانے سے روزہ باطل ہو جاتا ہے؟

جواب:

[رہبر معظم امام خامنہ ای ]:
احتیاط واجب کی بنا پر پورا سر پانى ميں ڈبونے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ۔ اگر سوئمنگ پول ميں اس طرح نہائے كہ پورا بدن سر سميت پانى كے اندر چلا جائے تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا ۔ لیکن اگر پورا بدن سر سمیت پانی میں نہیں ڈبوتا تو نہا سکتے ہیں۔[1]

 

[آیت اللہ العظمی علی حسینی سیستانی]:
روزے کی حالت میں اپنا سر بدن سمیت پانی میں ڈبو دینے سے روزہ باطل نہیں ہوتا،اس لیے شرعی طور پر سوئمنگ پول میں نہانا حرام نہیں ہے۔[2]البتہ شدید کراہت رکھتا ہے۔[3]

[آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی]:
اگر اس طرح سے نہاتا ہے کہ پورا بدن سر سمیت پانی میں چلا جاتا ہے تو روزہ باطل ہو جاۓ گا۔[4]

[آیت اللہ العظمی وحید خراسانی]:
سوئمنگ پول میں اس طرح سے نہانا کہ پورا بدن سر سمیت پانی میں ڈبو دے تو حرام ہے اور روزہ باطل ہے۔[5]

Scroll to Top