دل کی آنکھ سے خدا کا دیدار

دل کی آنکھ سے خدا کا دیدار

{اسلامی داستانیں: داستان نمبر ۱۱۱}

ترجمه: عون نقوی

شیخ محمد بن یعقوب کلینی نے اپنی سند سے نقل کیا ہے:

ايك خارجی امام باقرؑ كى خدمت ميں حاضر ہوا اور كہا: اے ابو جعفر! كس كى پرستش كرتے ہو؟

امام نے فرمایا: اللہ تعالی کی۔

خارجى: خدا كو ديكھا ہے؟
امام: ظاہرى آنكھيں اس كو نہيں ديكھ سكتيں البتہ قلوب نے حقيقتِ ايمان كى وجہ سے اس كاديدار كيا ہے۔ اللہ تعالیک کی پاک ذات کو قياس اور تشبيہ سے نہيں پہچانا جا سكتا، نہ حواس اسے درك كر سكتےہيں، وہ ہم انسانوں جيسا بھى نہيں ہے بلكہ نشانيوں كے ذريعے پہچانا جا سكتا ہے، وہ اپنى عدالت ميں ظلم نہيں كرتا، وہي خدا لائق پرستش ہے اور تمام جہانوں كا معبودِ يكتا ہے۔

وہ خارجى امام كے جالب و عميق بیان سے مجذوب ہو گيا تھا يہ آيت تلاوت كرتا ہوا محضر امام سے باہر رخصت ہو گیا۔[1][2] اس آیت میں ارشاد باری تعالی ہوتا ہے:

«اللهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسالَتَهُ».

ترجمہ: اللہ (ہی) بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کہاں رکھے۔[3]

 
منابع:

محمدى اشتہاردى،محمد،داستان ہاى اصول كافى، ص۷۳۔

Scroll to Top