حقائق اور تمثلِ اعمال کے  چند واقعات

حقائق اور تمثلِ اعمال کے  چند واقعات

درس: شرح فصوص الحکم (فارابی)

استاد: حيدر ضيائى

تحرير: سيد محمد حسن رضوی

لفظِ تمثل قرآنی لفظ ہے جوکہ سورہ مریم آیت ۱۷ میں ذکر ہوا ہے، جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے:{  فَاتَّخَذَتْ مِن دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا  }[1] امام باقرؑ سے روایت میں وارد ہوا کہ جب جناب مریمؑ محراب میں عبادت کے لیے تشریف لے گئیں تو ان کے لیے جناب جبریلؑ ایک کامل بشر کی صورت میں متمثل ہوئے۔ [2] روایاتِ اہل بیتؑ میں یہ لفظ کثرت سے وارد ہوا ہے۔ علماءِ عرفان نے اس لفظ کو تحقیقی طور پر بیان کیا ہے اور انسان کے مختلف عوالم میں مراحلِ ارتقاء سے تمثل کا گہرا تعلق جوڑا ہے۔ علماء عرفان کی تشریحات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے ایک عالمِ مثال یا عالم خیال خلق کیا ہے جس کو عالم ملکوت یا عالم برزخ بھی کہتے ہیں۔ اس عالم ملکوت یا عالم خیال میں حقائق اور انسانی اعمال متمثل ہوتے ہیں۔ عالم مثال دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے: ۱۔ عالم مثال متصل، ۲۔ عالم مثال منفصل۔ [3] عالم مثال متصل سے مراد انسان کے نفس سے متصل قوتِ خیال ہے جس میں تمثل واقع ہوتا ہے۔ جبکہ عالم منفصل ہماری ذات اور ہمارے نفس سے جدا ایک جہاں ہے جس کو قوس صعودی کے اعتبار سے عالم برزخ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس میں بھی اشیاء’’ مُتَمَثِّل ‘‘ہوتی ہیں۔ [4] اس حقیقت کی تائید قرآن کریم کی متعدد آیات اور کثیر روایات اہل بیتؑ سے ہوتی ہے۔ اس تحریر میں ہم اس امر کی حقیقت کو آئمہ اطہارؑ سے نقل ہونے والے مختلف واقعات کے ذیل میں ملاحظہ کریں گے۔ البتہ ان واقعات کو بیان کرنے سے پہلے تمثل کے لغوی اور اصطلاحی معانی پیش خدمت ہیں۔

تمثل کے لغوی معانی:

تمثل عربی زبان کا لفظ ہے جس كے اصلی حروف ’’م-ث-ل‘‘ ہے ۔ لغت میں اس کا لغوی معنی ایک شیء کا دوسری شیء کے مناظر اور مشابہ ہونا ہے۔ اسی سے یہ لفظ مختلف صرفی ابواب میں استعمال ہوتا ہے۔ کلمہِ مثال بھی اسی سے مشتق ہے کیونکہ مثال میں اصل معنی کو کسی خاص پہلو اور جہت سے کسی دوسرے معنی سے مشابہ قرار دیا جاتا ہے۔ [5] تمثل قرآنی لفظ ہے جس کا معنی بیان کرتے ہوئے راغب اصفہانی ذکر کرتے ہیں کہ تمثل یعنی تصور، صورت کشی ہونا۔ [6] پس ’’مثل‘‘ ایک شیء کی دوسری شیء سے شباہت اور مماثلت کے لیے آتا ہے اور اسی سے جب کلمہِ تمثل استعمال ہوتا ہے تو اس کا مطلب ایک شیء کا صورت و شکل اختیار کرنا اور تصویر میں ڈھلنا ہے۔

ایک قاضی کا واقعہ:

الکافی میں امام باقرؑ سے واقعہ نقل ہوا ہے جس میں امامؑ فرماتے ہیں:  >{ عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا }{عَنْ سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ}{ وَ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ جَمِيعاً عَنِ ابْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الثُّمَالِيِّ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ }×{ قَالَ: كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ قَاضٍ كَانَ يَقْضِي بِالْحَقِّ فِيهِمْ فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ‏ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: إِذَا أَنَا مِتُّ فَاغْسِلِينِي وَ كَفِّنِينِي وَضَعِينِي عَلَى سَرِيرِي وَغَطِّي وَجْهِي، فَإِنَّكِ لَا تَرَيْنَ سُوءاً، فَلَمَّا مَاتَ فَعَلَتْ ذَلِكَ، ثُمَّ مَكَثَتْ بِذَلِكَ حِيناً، ثُمَّ إِنَّهَا كَشَفَتْ عَنْ وَجْهِهِ لِتَنْظُرَ إِلَيْهِ فَإِذَا هِيَ بِدُودَةٍ تَقْرِضُ مَنْخِرَهُ، فَفَزِعَتْ مِنْ ذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ أَتَاهَا فِي مَنَامِهَا فَقَالَ لَهَا أَفْزَعَكِ مَا رَأَيْتِ قَالَتْ أَجَلْ لَقَدْ فَزِعْتُ فَقَالَ لَهَا أَمَا لَئِنْ كُنْتِ فَزِعْتِ مَا كَانَ الَّذِي رَأَيْتِ إِلَّا فِي أَخِيكِ فُلَانٍ أَتَانِي وَ مَعَهُ خَصْمٌ لَهُ فَلَمَّا جَلَسَا إِلَيَّ قُلْتُ اللَّهُمَّ اجْعَلِ الْحَقَّ لَهُ وَ وَجِّهِ الْقَضَاءَ عَلَى صَاحِبِهِ فَلَمَّا اخْتَصَمَا إِلَيَّ كَانَ الْحَقُّ لَهُ وَ رَأَيْتُ ذَلِكَ بَيِّناً فِي الْقَضَاءِ فَوَجَّهْتُ الْقَضَاءَ لَهُ عَلَى صَاحِبِهِ فَأَصَابَنِي مَا رَأَيْتِ لِمَوْضِعِ هَوَايَ كَانَ مَعَ مُوَافَقَةِ الْحَقِّ؛} <.[7]

ملک الموت کا متمثل ہونا:

الکافی میں امام باقرؑ سے روایت منقول ہے جس میں امام ؑ فرماتے ہیں: > {أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْوَانَ عَمَّنْ رَوَاهُ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ × قَالَ: لَمَّا اتَّخَذَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا × أَتَاهُ بُشْرَاهُ بِالْخُلَّةِ، فَجَاءَهُ مَلَكُ الْمَوْتِ‏ فِي صُورَةِ شَابٍّ أَبْيَضَ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً وَدُهْناً، فَدَخَلَ إِبْرَاهِيمُ × الدَّارَ، فَاسْتَقْبَلَهُ خَارِجاً مِنَ الدَّارِ، وَكَانَ إِبْرَاهِيمُ× رَجُلًا غَيُوراً، وَكَانَ إِذَا خَرَجَ فِي حَاجَةٍ أَغْلَقَ بَابَهُ وَأَخَذَ مِفْتَاحَهُ مَعَهُ ثُمَّ رَجَعَ فَفَتَحَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مِنَ الرِّجَالِ فَأَخَذَهُ بِيَدِهِ، وَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ مَنْ أَدْخَلَكَ دَارِي ؟ فَقَالَ: رَبُّهَا أَدْخَلَنِيهَا، فَقَالَ: رَبُّهَا أَحَقُّ بِهَا مِنِّي، فَمَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ: أَنَا مَلَكُ الْمَوْتِ‏ فَفَزِعَ إِبْرَاهِيمُ ×، فَقَالَ: جِئْتَنِي لِتَسْلُبَنِي رُوحِي ؟ قَالَ: لَا وَلَكِنِ اتَّخَذَ اللَّهُ عَبْداً خَلِيلًا فَجِئْتُ لِبِشَارَتِهِ‏، قَالَ : فَمَنْ هُوَ لَعَلِّي أَخْدُمُهُ حَتَّى أَمُوتَ؟ قَالَ: أَنْتَ هُوَ، فَدَخَلَ عَلَى سَارَةَ ، فَقَالَ لَهَا: إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى اتَّخَذَنِي خَلِيلًا؛  }<.[8]

حضرت عیسی کے لیے بستی کا متمثل ہونا:

امام جعفرصادقؑ سے روایت منقول ہے جس میں امامؑ فرماتے ہیں:  >{ عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْعَبَّاسِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جَنَاحٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَلِيٍّ الْكُوفِيِّ عَنْ مُهَاجِرٍ الْأَسَدِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ× قَالَ: مَرَّ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ × عَلَى قَرْيَةٍ قَدْ مَاتَ أَهْلُهَا وَطَيْرُهَا وَدَوَابُّهَا، فَقَالَ: أَمَا إِنَّهُمْ لَمْ يَمُوتُوا إِلَّا بِسَخْطَة، وَلَوْ مَاتُوا مُتَفَرِّقِينَ لَتَدَافَنُوا، فَقَالَ الْحَوَارِيُّونَ: يَا رُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُحْيِيَهُمْ لَنَا فَيُخْبِرُونَا مَا كَانَتْ أَعْمَالُهُمْ فَنَجْتَنِبَهَا، فَدَعَا عِيسَى × رَبَّهُ فَنُودِيَ مِنَ الْجَوِّ أَنْ نَادِهِمْ، فَقَامَ عِيسَى × بِاللَّيْلِ عَلَى شَرَفٍ مِنَ الْأَرْضِ ، فَقَالَ: يَا أَهْلَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ فَأَجَابَهُ مِنْهُمْ مُجِيبٌ لَبَّيْكَ يَا رُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ ، فَقَالَ: وَيْحَكُمْ مَا كَانَتْ أَعْمَالُكُمْ ؟ قَالَ: عِبَادَةُ الطَّاغُوتِ وَحُبُّ الدُّنْيَا مَعَ خَوْفٍ قَلِيلٍ وَ أَمَلٍ بَعِيدٍ وَغَفْلَةٍ فِي لَهْوٍ وَلَعِبٍ، فَقَالَ: كَيْفَ كَانَ حُبُّكُمْ لِلدُّنْيَا ؟ قَالَ: كَحُبِّ الصَّبِيِّ لِأُمِّهِ إِذَا أَقْبَلَتْ عَلَيْنَا فَرِحْنَا وَسُرِرْنَا، وَإِذَا أَدْبَرَتْ عَنَّا بَكَيْنَا وَحَزِنَّا، قَالَ: كَيْفَ كَانَتْ عِبَادَتُكُمْ لِلطَّاغُوتِ ؟ قَالَ: الطَّاعَةُ لِأَهْلِ الْمَعَاصِي، قَالَ: كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ أَمْرِكُمْ ؟ قَالَ:}

{ بِتْنَا لَيْلَةً فِي عَافِيَةٍ وَأَصْبَحْنَا فِي الْهَاوِيَةِ، فَقَالَ: وَمَا الْهَاوِيَةُ ؟ فَقَالَ: سِجِّينٌ ، قَالَ: وَمَا سِجِّينٌ؟ قَالَ: جِبَالٌ مِنْ جَمْرٍ تُوقَدُ عَلَيْنَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، قَالَ: فَمَا قُلْتُمْ وَمَا قِيلَ لَكُمْ ؟ قَالَ: قُلْنَا رُدَّنَا إِلَى الدُّنْيَا فَنَزْهَدَ فِيهَا قِيلَ لَنَا كَذَبْتُمْ ، قَالَ: وَيْحَكَ كَيْفَ لَمْ يُكَلِّمْنِي غَيْرُكَ مِنْ بَيْنِهِمْ؟ قَالَ: يَا رُوحَ اللَّهِ إِنَّهُمْ مُلْجَمُونَ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ بِأَيْدِي مَلَائِكَةٍ غِلَاظٍ شِدَادٍ وَإِنِّي كُنْتُ فِيهِمْ وَلَمْ أَكُنْ مِنْهُمْ، فَلَمَّا نَزَلَ الْعَذَابُ عَمَّنِي مَعَهُمْ فَأَنَا مُعَلَّقٌ بِشَعْرَةٍ عَلَى شَفِيرِ جَهَنَّم‏ لَا أَدْرِي أُكَبْكَبُ فِيهَا أَمْ أَنْجُو مِنْهَا، فَالْتَفَتَ عِيسَى ×‏ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ، فَقَالَ: يَا أَوْلِيَاءَ اللَّهِ أَكْلُ الْخُبْزِ الْيَابِسِ بِالْمِلْحِ الْجَرِيشِ‏ وَالنَّوْمُ عَلَى الْمَزَابِلِ خَيْرٌ كَثِيرٌ مَعَ عَافِيَةِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَة؛ } <.[9]

اہل بیت اطہار کا متمثل ہونا:

سیدیر صیرفی نے امام جعفر صادقؑ سے روایت نقل کی ہے جس میں سدیر کہتے ہیں:  >{ عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَدِيرٍ الصَّيْرَفِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ ×، جُعِلْتُ فِدَاكَ، يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ هَلْ يُكْرَهُ الْمُؤْمِنُ عَلَى قَبْضِ رُوحِهِ ؟ قَالَ: لَا وَاللَّهِ إِنَّهُ إِذَا أَتَاهُ مَلَكُ الْمَوْتِ لِقَبْضِ رُوحِهِ جَزِعَ عِنْدَ ذَلِكَ ، فَيَقُولُ لَهُ مَلَكُ الْمَوْتِ: يَا وَلِيَّ اللَّهِ لَا تَجْزَعْ فَوَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّداً ’ لَأَنَا أَبَرُّ بِكَ وَأَشْفَقُ عَلَيْكَ مِنْ وَالِدٍ رَحِيمٍ لَوْ حَضَرَكَ افْتَحْ عَيْنَكَ فَانْظُرْ، قَالَ: وَيُمَثَّلُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ’‏ وَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ وَفَاطِمَةُ وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ وَالْأَئِمَّةُ مِنْ ذُرِّيَّتِهِمْ ^، فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ وَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ وَفَاطِمَةُ وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ وَالْأَئِمَّةُ ^ رُفَقَاؤُكَ، قَالَ: فَيَفْتَحُ عَيْنَهُ فَيَنْظُرُ، فَيُنَادِي رُوحَه‏ مُنَادٍ مِنْ قِبَلِ رَبِّ الْعِزَّةِ فَيَقُولُ: يا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ إِلَى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ، ارْجِعِي إِلى‏ رَبِّكِ راضِيَةً بِالْوَلَايَةِ مَرْضِيَّةً بِالثَّوَابِ، فَادْخُلِي فِي عِبادِي يَعْنِي مُحَمَّداً وَأَهْلَ بَيْتِهِ وَادْخُلِي جَنَّتِي، فَمَا شَيْ‏ءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنِ اسْتِلَالِ رُوحِهِ وَاللُّحُوقِ بِالْمُنَادِي‏؛  }<.[10]۔

Scroll to Top