جِنّوں کا پانی پلانا
{اسلامی داستانیں: داستان نمبر ۱۲۲}
ترجمه: عون نقوی
شیخ محمد بن یعقوب کلینی نے اپنی سند سے نقل کیا ہے کہ امام باقرؑ فرماتے ہیں:
Table of Contents
Toggleچند مومنين كسى سفر پر نكلے۔ دور دراز علاقے ميں ان كا پينے كا پانى ختم ہو گيا اور شديد پياس ميں مبتلا ہوگئے۔ يہاں تك كہ مرنے كے قريب آگئے، اسى دوران ايك بوڑھے شخص کو دیکھا جوسفيد لباس ميں تھا جو ان كے نزديك آ رہا ہے۔ جب قريب آيا تو ديكھا كہ اس كے ہاتھوں ميں ايك بڑى مشك ہے جو پانى سے بھرى ہوئى تھى۔ ان مومنين نے پيٹ بھر كر پانى پيا اور سيراب ہو گئے۔ پھر اس بوڑھے شخص سے پوچھا كہ آپ كون ہيں؟ اس بزرگ نے كہا كہ ميں جنات سے ہوں اور ميں نے رسول اللہﷺ كے ہاتھ پر بيعت كى ہوئى ہے اور ميں نے رسول اللہﷺ سے سنا تھا كہ مومن مومن كا بھائى ہوتا ہے اور ايك مومن دوسرے مومن كا رہنما ہوتا ہے پس جب كوئى اس كا مومن بھائى ہلاك يا گمراہ ہو رہا ہو تو دوسرے مومن كا حق بنتا ہے كہ اپنے مومن بھائى كى مدد كرے۔ پس ميرے ہوتے ہوۓ تم لوگ تباہ نہيں ہو سكتے۔[1]







