تفسیر انفسی اور انسان کے مراحل اخلاقی

تفسیر انفسی اور انسان کے مراحل اخلاقی

تحرير: شیخ کریم ہمتی

تدوین و ترتیب: حافظ محمد تقی 

04/04/2025

انسانی وجود کے مختلف پہلوؤں کو   قرآن کریم بیان کرتا ہے۔ سورہ یونس میں انفسی تفسیر میں حقیقی غم اور اسے دور کرنے کے طریقے بیان کیے گئے ہیں۔ جس طرح  فیکٹری  مصنوعات تیار کرتی ہے اور اس کے بعد ان مصنوعات کے استعمال کا طریقہ کار تعلیم دینے کے لیے ایک کتابچہ آمادہ کرتی ہے تاکہ انسان ان مصنوعات کے استعمال کو جان سکے  اور اس سے بہترین فائدہ اٹھا سکے۔ اسی طرح یہ کائنات اور انسان بھی اللہ کی فیکٹری کی تخلیق ہے۔  اللہ سبحانہ نے اپنی اس تخلیق کے لیے قرآن کریم نامی کتاب نازل کی ہے تاکہ بشریت اس کتاب سے بہترین فائدہ اٹھائے اور زندگی گزارنے کا سلیقہ سیکھے۔اللہ تعالی نے کتاب کے ساتھ ساتھ اس کتاب کی وضاحت اور تشریح کرنے کے لیے اپنا نمائندہ بھیجا جسے  انسان کامل کہا جاتا ہے۔ یہ انسان کامل اللہ کے ساتھ خاص تعلق رکھتا ہے اور اپنی الہٰی خصوصیات کی بناء پر کتاب کو بہترین طریقے سے سمجھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس انسان کامل سے فائدہ اٹھانے کے لیے صرف اس کی باتوں پر کان دھرنا  کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر کے اس قرآن کو سیکھنا اور اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔

ارسالِ رسل اور انزالِ کتب کا فلسفہ :

جس طرح ایک فیکٹری سے کوئی مشین آتی ہے تو اس کے ساتھ اس مشین کو چلانے کے لیے ایک کتابچہ بھی دیا جاتا ہے اور مشین کو چلانے اور کتابچہ سمجھانے کے لیے فیکٹری کی جانب سے فرد بھی بھیجا جاتا ہے۔ اسی تشبیہ سے ہم اللہ تعالیٰ کی جانب سے ارسالِ رسل اور انزالِ کتب کا فلسفہ سمجھ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کوتمام مخلوقات میں سب سے  افضل خلقت بنایا ہے اور اس پیچیدہ مشینری کو  اشرف المخلوقات قرار دیا ہے۔  کائنات کی سب سے بہترین تخلیق انسان ہے۔ پہلا انسان بطورِ  پیغمبرزمین پر اترا اور   اللہ تعالیٰ نے بشریت کی ہدایت کے لیے کتاب بھی اتاری اور کتاب سمجھانے کے لیے پیغمبر بھی بھیجا تاکہ انسان اس کے مطابق زندگی بسر کر سکے۔انسانیت کبھی کتاب کے بغیر نہیں رہی اور یہ کتاب مختلف اَدوار اور حالات کے مطابق عروج و زوال سے گزرتی رہی ہے۔یہاں تک کہ دینِ الہٰی کامل و تمام ہوا اور اللہ تعالی  کے نزدیک اصل دین ’’اسلام‘‘ قرار پایا، جیساکہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے:بے شک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔ [1] اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کر کتابوں میں جس موضوع کو زیادہ زیرِ بحث لایا گیا ہے وہ خود انسان ہے۔ یہ کتابیں علمِ الہٰی اور کائنات کے حقائق کو بیان کرتی ہیں۔ پیغمبر اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کتاب کو وصول کرتا ہے اور امت کے درمیان اسے بیان کرتا ہے تاکہ امت اس کو فکری و عملی طور پر اختیار کرے۔ وجودی طور پر ایک پیغمبر جتنا بلند ہو گا کتاب کے حقائق سے اسی قدر زیادہ آگاہ اور آشنا ہو گا۔ رسول اللہ ﷺ چونکہ طہارتِ محض ، عبودیتِ محض اور اعتدالِ محض تھے اس لیے یہ توان اور استطاعت رکھتے تھے کہ وہ تمام حقیقت کے جامع قرار پائیں۔ لہٰذاآنحضرت ﷺ آخری نبی قرار پائے جن کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ رسول اللہ ﷺ نے اللہ سبحانہ کی جانب سے جو کتاب بطورِ وحی وصول کی اسے قرآن کریم کہتے ہیں۔

انسان کے وجودی مدارج

کلی طور پر انسان کے  وجودی  مراتب درج ذیل ہیں :
۱۔ مرتبہِ جسمانی: اس سے مراد انسان کا مادی جسم ہے جس کے ذریعے وہ اپنے ظاہری اعمال انجام دیتا ہے۔
۲۔ مرتبہِ مثالی:اس مراد انسان کو مادہ سے عاری مرتبہ ہے جہاں انسان رنگ و صورت کو درک کرتا ہے۔ اسے اصطلاح میں خیال بھی کہا جاتا ہے۔ انسان کی اخلاقی اوصاف اور ملکات و عادات یہیں مستقر ہوتی ہیں۔
۳۔ مرتبہِ عقلی: اس سطح پر انسان کے عقائد، نظریات اور یقینیات مستحکم ہوتے ہیں۔
۴۔ مرتبہِ قلب  و سرّ و خفی اور اخفی:یہ چار مراتب انسان کے اعلیٰ ترین مراتب شمار ہوتے ہیں جو فی الحال ہماری بحث سے خارج ہیں۔

انسان کے پہلے تینوں مراتب (جسمانی، مثالی اور عقلی) باہمی طور پر ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ہمارے اعمال ہمارے اخلاق و عادات پر اور ہمارے اخلاق و عادات ہمارے افعال و اعمال پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے اخلاقی اوصاف کا گہرا اثر ہمارے اعتقادات پر اور اعتقادات کا گہرا اثر ہماری اخلاقیات پر پڑتا  ہے ۔

قرآن کریم اور تین مراتبِ وجودی کا تعارف:

انسان کی زندگی میں بنیادی  چیز عقائد ہیں جو  انسان کی پوری ہستی سے تعلق رکھتے ہیں۔  اگر عقائد کو شکل و صورت دینا چاہیے تو ایک انسان کے تمام اعتقادات اور راسخ افکار اس کے اخلاق و عادات اور نفسانی ملکات کی شکل میں مجسم ہو کر سامنے آتے ہیں اور مادی جسمانی وجود میں اعمال کی صورت میں  ظاہر ہوتے ہیں، مثلاً ملکہِ سخاوت ہمارا  مثالی وجود ہو جو عملی  طور پر عطا کرنے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔لہٰذا جو کتاب انسان کو صحیح طور پر متعارف کروانا چاہتی ہے، اسے انسانی وجود کے تینوں شعبوں   کو بخوبی پیش کرنا چاہیے اور ہر شعبہ  کے لیے ایک مناسب برنامہ کا اہتمام کرنا چاہیے ۔شرعی احکام افعال کے شعبہ میں قرار پاتے ہیں (حلال و حرام، کام کے آداب وغیرہ) جن میں سے بعض حرام و واجب ہیں تو بعض مکروہ اور مستحب۔احکام شرعیت  درحقیقت ایک طرح کا سافٹ ویئر ہیں جو ہمارے افعال کے دائرے میں نصب ہوتے ہیں۔احکام شرعی  دین کی ابتدائی سطح ہیں۔ دین کی درمیانی سطح اخلاقی آیات اور روایات ہیں جو انسان کے لیے اخلاقی صفات کی وضاحت کرتی ہیں اور ہر ایک کے لیے افراط ، تفریط اور اعتدال کو بیان کرتی ہیں۔ دین کا یہ پہلو ہماری مثالی پہلو کی اصلاح کی کوشش کرتا ہے تاکہ ان کی پابندی سے ہماری مثالی شکل انسانی اور نورانی ہو نہ کہ شیطانی شکل و صورت۔ اس سطح پر بھی ہمارے لیے اخلاقی واجبات اور محرمات ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ ہمیں اخلاقی محرمات سے بچنا چاہیے اور اخلاقی حلال کی پابندی کرنی چاہیے تاکہ ہماری مثالی شکل انسانی ہو۔عقلی دین کا دائرہ کار ایک ایسا شعبہ ہے جہاں دین مخصوص پروگراموں کے ذریعے اس کی نگرانی کرتا ہے، تاکہ ہمارا عقیدہ درست ہو اور ہماری عقلی حقیقت کی صحیح تشریح ہو سکے۔اس لیے ہم انسان اور قرآن کریم   جو اس انسان کی رہنمائی کرنے والی کتاب ہے  دونوں کم از کم تین شعبوں پر مشتمل ہیں، جیسا کہ ہم نے بیان کیا۔اب سوال یہ ہے کہ انسان سازی کے بارے میں  کتاب (قرآن کریم ) میں یہ تمام داستانیں کیوں ہیں؟”

تفسیر انفسی کا سلوکِ انسانی سے تعلق

ہر علم کا ایک خاص موضوع ہوتا ہے۔ علم فقہ کا موضوع   انسان کے اختیاری افعال و اعمال ہیں۔ علم اخلاق کا موضوع انسان کے خصائل، صفات اور نفسانی کیفیات ہیں۔  حکمت اور عرفان کا موضوع  قرآن کریم  کی انفسی تفسیر اور  آیات و روایات میں موجود قواعد کو کشف کرنا ہے  تاکہ قرآن کریم کو عمیق طور پر سمجھا جا سکے۔ قرآن کریم کی موجودہ تفاسیر تفسیرِ آفاقی کہلاتی ہے ۔ تفسیر ِانفسی کے بانی شیخ اکبر محی الدین ابن عربی ہیں ۔ ان کی روشِ تفسیر کا بنیادی اصول انبیاءؑکے واقعات سے اور قرآنی قصص سے مقصدِ انسان کی حقیقت اور اپنی سرنوشت کو دریافت کرنا ہے۔ انسان ہونے کے ناطے حضرت موسی کلیم اللہؑ بھی ہمارے بھائی ہیں اور فرعون بھی ہمارا بھائی ہے۔ ہم ہر دو کردار کو اختیار کر سکتے ہیں۔  لہٰذا ہم موسیٰ ؑ کی مانند ہو سکتے ہیں اور فرعون کے کردار میں بھی اپنے آپ کو ڈھال سکتے ہیں۔قرآن کریم  کی داستانیں اور روحانی سفر (سلوکِ الہٰی) کی نزاکتوں کو بیان کرتی ہیں۔ اگر ہم انسانی سیر و سلوک کو اختیار کریں تو ہمارے سامنے بھی حضرت موسی کلیم اللہؑ اور فرعون  جیسے واقعات پیش آئیں گے اور ہم حقیقی طور پر اپنے آپ کو ایک فرعون کے مد مقابل پائیں گے۔ قرآن کریم حضرت موسیٰؑ اور فرعون کی واقعہ کے ذریعے ہمیں رہنمائی  کرتا ہے کہ اگر ہم فرعون جیسی طاقت کے سامنے ہوں تو کس عمل سے  نجات پا سکتے ہیں اور غرق ہونے سے بچ سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر ہم نے حضرت موسیؑ کے کردار میں اپنے آپ کو ڈھالنا ہے تو ہمیں کیا کیا عمل انجام دینا ہو گا۔

جیسے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے واقعات جو کہ ہماری کتب میں وارد ہوئے اس سے ظاہر جو معنی اخذ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ : آدم علیہ السلام نے خود چل کر اس درخت کے پاس گئے تھے جس سے اللہ تعالی نے منع کیا تھا پھر اپنے ہاتھوں سے پھل کو توڑا اور کھایا اور پورے وجود سے اس درخت کا سامنا کیا ۔ چنانچہ (اب) وضو فرض کیا گیا تاکہ وہ تمام اعضاء جو آدم علیہ السلام نے ممنوعہ درخت کے استعمال میں لائے تھے، پاک و صاف ہو جائیں۔ یہ آدم علیہ السلام کی داستان درحقیقت ہماری روزمرہ کی کہانی ہے – ہم بھی ہر روز اپنے ہاتھوں، پیروں، چہرے اور دیگر اعضاء سے دنیا کے ممنوعہ درخت کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ لہٰذا نماز کے ذریعے محبوب حقیقی کے حضور حاضر ہونے سے پہلے انہی اعضاء و جوارح کی تطہیرکے لیے وضو ضروری ہے۔ یعنی دنیا کے ساتھ ہمارے انسانی تعلق کا حل “وضو” ہے۔ اور یہ اصول ہم قرآن کی “تفسیر انفسی” (باطنی تشریح) سے اخذ کرتے ہیں نہ کہ محض ظاہری تفسیر سے۔لہٰذا قرآن انسان سازی کی کتاب ہے اور اس کی کہانیوں کو انسان سازی کے عمل کے تناظر میں ہی تفسیر کرنا چاہیے۔ ہمیں ان کہانیوں سے انسان سازی کے اصول اخذ کرنے چاہئیں اور یہی اصول قرآن کے وہ طریقے ہیں جو ہمیں حقیقی انسان بننے میں مدد دیتے ہیں۔ اس انفسی تفسیر میں ہمیں مسلسل اپنے آپ کو دیکھتے رہنا چاہیے کہ ہماری روزمرہ زندگی میں کون سی کہانی ہماری حالت سے مطابقت رکھتی ہے اور کون سی کہانی ہمارے موجودہ حالات پر صادق آتی ہے۔نتیجہ یہ کہ: انفسی تفسیر میں ہم قرآنی حقائق کو اپنے باطن، اپنی نفس کی گہرائیوں، اور اپنی انسانی پرتوں و جہتوں میں تلاش کرتے ہیں اور اللہ تک پہنچنے کے سفر کے لیے قرآن سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔

 
Scroll to Top