باپ کا اپنے بچوں کو مارنا

باپ کا اپنے بچوں کو مارنا

تحریر: سید محمد حسن رضوی

01/16/2024

سوال :

بچے جو ماں پاب کی پٹائی کا شکار یوتے ہیں اور تھپڑ کھاتے ہیں اگر وہ پٹائی دیت کی حد تک پہنچ جائے تو کیا وہ بچوں کے مقروض ہیں؟

جواب:

[[آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای]]: والد کا بچے کو مارنا اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ اسے اتنا نا مارے کہ دیت واجب ہو جاۓ۔مثلا اتنا مارے کہ جسم سیاہ یا سرخ ہو جائے تو دیت واجب ہو جاۓ گی۔[1] [[آیت اللہ العظمی علی حسینی سیستانی]]: دیت واجب ہے، باپ کے بارے میں یہ ہو سکتا ہے کہ وہ اسے نفقہ کے علاوہ کے خرچ میں حساب کر لے۔[2]

Scroll to Top