انسانی طبع کی سرکشی
کتاب: ولايت فقيه، آيت الله جوادى آملى
تدريس: سيد محمد حسن رضوی
تدوين: عون نقوی
تاریخ بشریت اس چیز کی شاہد ہے اور آج ہم اپنی آنکھوں سے بھی دیکھتے ہیں کہ انسان کی طبع طغیان گر ہے۔ انسانی طبع ہمیشہ اس چیز کی طرف مائل رہی ہے کہ دوسروں کے اموال اور نفوس پر تجاوز کرے۔ سب سے پہلے انسان حضرت آدمؑ کا زمانہ دیکھ دلیں، قابیل نبی خداؑ کا بیٹا ہے اور جانتا ہے کہ خدا نے اس کے بھائی کی قربانی قبول کر لی ہے اور اس کی قبول نہیں ہوئی واضح آیات دیکھ کر بھی اپنے بھائی کو قتل کر دیتا ہے۔ اسے اپنی شکست قبول نہیں اور برتری چاہتا ہے۔ اس کے اندر ’’ھل من مزید‘‘ کا شعلہ بھڑکا ہوا ہے وہ کسی بھی مقام پر پہنچ جاۓ راضی نہیں ہوتا۔ اور قناعت پسند نہیں۔
Table of Contents
Toggleفطرتِ انسانی کا تقاضا
طبیعتِ انسان اور اس کی طغیان گری، انسان کی ذات کا ایک پہلو ہے۔ اسی انسان کے اندر فطرت بھی اللہ تعالی نے رکھ دی ہوئی ہے۔ انسان فطری طور پر توحید پرست، دین خواہ اور حق و عدل کو پسند کرتا ہے۔ اس لیے آپ چاہے ملحد ترین معاشرے کا انسان بھی لے آئیں وہ بھی سچ کو پسند کرے گا اور جھوٹ سے متنفر ہوگا، حقیقی اور درست باتوں کو ماننا پسند کرے گا اور بے بنیاد غلط باتوں کو ماننے سے انکار کرے گا۔ ظلم سے نفرت کرتا ہوگا اور عدل و انصاف کو پسند کرتا ہوگا۔ اگر اس کی فطرت ابھی باقی ہے اور آلودہ نہیں ہوئی تو یقینا حق قبول کرے گا۔ مگر یہ کہ فسق و فجور اور طبیعت انسانی کا اس پر اتنا تسلط ہو گیا ہے کہ فطرت دب گئی ہے اور اسے آسانی سے نہیں بیدار کیا جا سکتا۔ فطرت انسانی کے حوالے سے قرآن کریم میں وارد ہوا: « فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنيفاً فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْها ».پس (اے نبی) یکسو ہو کر اپنا رخ دین (خدا) کی طرف مرکوز رکھیں،(یعنی) اللہ کی اس فطرت کی طرف جس پر اس نے سب انسانوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی تخلیق میں تبدیلی نہیں ہے۔[1]
انسانی طبعیت و مزاج
اللہ تعالی نے انسان کو جب خلق کیا تو اس کو محدود ذات عطا کی۔ پس ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک محدود ذات کو نا محدود آزادی میسر آئے۔ انسان کی ذات محدود ہے لہذا اس کی آزادی بھی محدود ہے اور اس کے نتیجہ میں اس کا ارادہ اور اختیار ہر دو محدود ہیں۔ ایسا ممکن نہیں ہے کہ ایک فرد جو معاشرے کا حصہ ہے اسے نامحدود آزادی دے دی جاۓ، کیونکہ اگر اس کو مطلق آزادی دے دی جائے تو معاشرہ ہرج و مرج کا شکار ہو جاۓ گا۔[2]
مقصد بعثث
نہج البلاغہ میں امیرالمومنینؑ کا فرمانا ہے کہ تمام انبیاء کرامؑ کی بعثت کا مقصد یہ تھا کہ وہ آئیں اور عقل کے دفینوں کو ابھاریں۔[3] انسانوں کے اندر فطرت کا خزینہ دفن ہے، یہ دفائن انسان کو الہی انسان بنا سکتے ہیں۔ انبیاء کرام آ کر کوئی نئی چیز نہیں سکھاتے بلکہ جو چیز انسان کے اندر پہلے سے موجود ہے اس کی طرف متوجہ کراتے ہیں اگر کوئی اس کی طرف متوجہ ہو جاۓ تو وہ الہی انسان بن جاتا ہے لیکن اگر فطرت کے اوپر گناہوں کی تہیں بچھ گئی ہیں تو وہاں پھر نبی چاہے معجزے بھی دکھائیں آگے ماننے کے لیے تیار نہیں۔
انسانی طبع کی مذمت
ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر انسان فطرت کی بجاۓ اپنے طبیعی میلان کی طرف بڑھتے ہیں، انسان پر فطرت کی بجاۓ طبیعت حاکم ہے اور طبیعت کی کوئی حد اور باؤنڈری نہیں جو انسان کو محدود کر سکے اس کی طبیعت کو اصلا راضی نہیں کیا جا سکتا وہ جتنا زیادہ حاصل کر لے پھر بھی اسے مزید چاہیے۔ اور اگر انسان کی طبیعت کاملا اس پر حاکم ہو جاۓ تو دنیا کا کوئی بھی قانون یا شرع اسے محدود نہیں کر سکتا۔ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کی طبعِ طغیان گر کو دیکھتے ہوۓ دنیا کے ہر معاشرے میں انسان کے لیے محدودیتیں قرار دی جاتی ہیں اور اسے مقید کیا جاتا ہے کہ آپ نے اس حد میں رہنا ہے اگر اس حد سے باہر نکلے تو آپ کو مقرر قانون کے مطابق جوابدہ ہونا پڑے گا۔ چاہے مشرقی معاشرہ ہو یا مغربی، ترقی یافتہ ممالک کو دیکھ لیں یا جہانِ سوم کے ممالک، حتی الحادی ترین معاشرے میں بھی انسان کو قانون کا تابع ہونا پڑتا ہے۔
انسان آزاد یامقید
خداوند متعال نے انسان کو آزادِ مطلق قرار نہیں دیا اور اسے حق نہیں دیا کہ جو اس کا دل کرے کر گزرے۔ آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ مکمل طور پر اسے رہا کر دیا جاۓ، ایسی آزادی کو نہ تو عقل مانتا ہے، فطرت مانتی ہے، دین مانتا ہے اور نہ انسانی معاشرے۔ انسان آزاد ہوتے ہوۓ بھی اخلاقی طور پر، حقوقی، اقتصادی، سیاسی، اور عسکری قید و قیود کا پابند ہوتا ہے۔ اگر انسان اخلاقی تقاضے پورے نا کرے یا کسی بھی معاشرے میں سیاسی حقوق یا دوسروں کے اقتصادی حقوق کا خیال نہ کرے اسے مجازات کیا جاتا ہے۔ اور اگر اسے سزا نہ دی جاۓ ایسا معاشرہ ہرج و مرج کا شکار ہو جاتا ہے۔ [4]







