اللہ سبحانہ کے اسماء کی حقیقت
استاد: آیت اللہ ہادی عباسی خراسانی
تحریر: سید محمد حسن رضوی
03/20/2025
اسماءِ الہٰی کا موضوع انتہائی اہمیت کا حامل موضوع ہے کیونکہ اسماءِ الہٰی انسان اور خدا کے درمیان بنیادی رکن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالی نے آدم ؑ اور ان کی نسل سے ہم پیدا ہوئے۔ اس پیدائش کے پیچھے ہدفِ خلفت عبادت ہے، جیساکہ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے: { وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلاَّ لِيَعْبُدُون؛اور میں جن و انس کو فقط اپنی عبادت کے لیے خلق کیا ہے۔} [1] پیدائشِ انسانی کا فلسفہ عبادت ہے۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا، انسان کو تخلیق کے لیے منتخب کیا ہے۔ انسان کو اس تخلیق کا جواب دینا چاہیے۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان اپنی تخلیق کا کیسے جواب دے؟ جواب میں کہا جائے گا کہ اپنے اسم کے ذریعے تخلیق کا جواب دے سکتا ہے۔
Table of Contents
Toggleانسان کو انسان بنانی والی چیزیں:
پس ضروری ہے کہ ہمیں جانیں کہ اسم کی جگہ کہاں ہے؟ اسم وہ تشخص ہے جو انسان کو ملتا ہے۔ انسان کو انسان بنانے والی تین چیزیں ہیں:
۱) خدا کے ساتھ انس: اللہ تعالیٰ کے ساتھ اُنس انسان کو عابد بناتا ہے۔
۲) انسان کا خود کے ساتھ انس: خود کے ساتھ اُنس انسان کو عارف بناتا ہے اور معرفتِ نفس دیتا ہے۔
۳) انسان کا دوسروں کے ساتھ انس: دوسروں کے ساتھ اُنس انسان کو متخلق (اخلاق سے آراستہ) بناتا ہے
ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ان تینوں انس کو عملی طور پر اختیار کریں۔ اسمائے الہٰی کے موضوع میں اسم وہ چیز ہے جو ان تینوں انس کو مہیا کرتا ہے۔
اسماء کا حقیقی ہونا :
لفظی اسماء حقیقت میں اسماءِ حقیقی کے نام ہیں۔ اس جہان اور خلقت کے ربّ نے ہمیں اسم کے ساتھ عالم و آدم نے ہمیں اسم کے ذریعے متشخص کیا ہے۔ متشخص کرنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس اسم کے ذریعے پیدا کیا ہے،اللہ تعالیٰ نے اس اسم کے ذریعے ارتباط قائم کیا ہے اور اسی اسم کے ذریعے ہمیں پکارا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ نے ہماری طرف اپنی آیات بھیجی ہیں ، جیساکہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے: { شَهْرُ رَمَضانَ الَّذي أُنْزِلَ فيهِ الْقُرْآنُ؛ماہِ رمضان وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا } [2] ماہ مبارک رمضان کی تعریف یہ ہے کہ اس مہینے میں اللہ تعالی آیات نازل ہوئی ہیں۔ ذاتِ الہٰی نے یہ آیات بھیجی ہیں۔ ان آیات کو ماہِ مبارک رمضان میں وصول کیا گیا ہے، یعنی ماہِ رمضان آیاتِ الہٰی کے نزول کا ظرف ہے اور یہ آیاتِ الہٰی نفسِ انسانی کی پالایش گاہ میں پرورش پاتی ہیں۔
سورہ اعراف میں ارشادِ باری تعالی ٰ ہوتا ہے: { وَلِلَّهِ الْأَسْماءُ الْحُسْنى فَادْعُوهُ بِها؛اور اللہ کے لیے اسماِ حسنی ہیں پس ان کے ذریعے اسے پکارو } [3]سورہ اعراف ان لوگوں کی سورہ جو عالمِ آخرت اور عالم ہستی میں جانے پہچانے جاتے ہیں۔ اس سورہ مبارکہ میں ذاتِ باری تعالی کے اسماء حسنی کا تذکرہ آیا ہے ان اسماء کے ذریعے اللہ سبحانہ کو پکارا جائے۔
قرآنِ ناطق اور قرآنِ صادق میں فرق:
اللہ تعالیٰ نے اس لیے اپنی آیات بھیجی ہیں تاکہ وہ قرآن بن جائیں اور آیاتِ کریمہ کو اس لیے تھاما جاتا ہے تاکہ وہ دعا بن جائیں۔ آیات اور قرآن قرآنِ ناطق ہیں اور ہماری دعا قرآنِ صادق ہے۔ پس قرآن اور دعا کے تعلق پر دقت کرنی چاہیےاور دیکھنا چاہیے کہ قرآن کریم میں تدبر و تفکر کیسے دعا بنتا ہے۔ بلند و بالا قرآن کی آیات رسول اللہ ﷺ کے وسیلے سے لوگوں پر پڑھی گئی اور قرائت کی گئی ہیں۔ہمارا وظیفہ یہ ہے کہ ہم اپنی استطاعت کے مطابق آیاتِ قرآنی قراءت و تلاوت کریں اور انہیں سمجھنے کی تگ و دو کریں کیونکہ آیاتِ الہٰی کا سمجھنا ہمیں حتماً ایک حقیقت تک پہنچاتا ہےاور وہ حقیقت یہ ہے کہ جب ہم آیات پڑھتے ہیں تو ہم کچھ چاہتے ہیں اور ہماری یہی چاہت دعا بن جاتی ہے۔
کتابی دعا اور قلبی دعا میں فرق :
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم مفاتیح الجنان اور دعاؤں کی کتابوں سے جو کچھ پڑھتے ہیں فقط وہ دعا ہے!! جبکہ ایسا نہیں ہے بلکہ کتابوں میں درج یہ دعائیں علامت و نشانِ دعا ہے جسے الفاظ اور نامِ دعا کہا جا سکتا ہے۔ حقیقت میں نزولِ آیات کے وقت جو انسان کے دل میں اترتا ہے اس سے انسان کے اندر ایک خواہش، چاہت اور ضرورت پیدا ہوتی ہے۔ اس خواہش اور ضرورت کو دعا کہتے ہیں۔ دعا انسان وجودی ظرفیت ہے ۔ ہر شخص کی دعا خود اس کے ساتھ خاص ہے۔ دعا دوئی اور جدائی نہیں رکھتی بلکہ ہر شخص اپنی وجودی ظرفیت کے مطابق اپنے خاص نوعیت کی دعا رکھتا ہے۔
ہمارا نفس جتنی زیادہ آمادگی رکھے گا آیات الہٰی کو زادہ بہتر اور بالاتر طریقے سے حاصل کر سکے گا۔ آیاتِ الہٰی میں ہم جتنا زیادہ غور و فکر کریں گے ہمارے نفس میں اتنی گنجائش اور وسعت بڑھے گی۔ علامہ حسن زادہ آملؒی فرماتے ہیں کہ حتماً نفس کی معرفت حاصل کیجیے ۔ ان کی مراد یہ ہے کہ نفس کے ساتھ اُنس حقیقت میں تمام ارتباطات اور تعلقات کی اساس وبنیاد ہے۔ اگر ہم اپنے نفس سے انسیت کی صحیح مدیریت کریں تو ہم اللہ تعالیٰ سے انس کو منظم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور اگر اس طرح ہم اپنے اور دیگران کے ساتھ انسیت کو بھی صحیح مدیریت اور منظم کر سکتے ہیں۔ یہ معرفت نفس کے اہم معنی میں سے ایک ہے۔
انسان اور کائنات کی بنیاد انس پر ہے۔ انس معرفتِ نفس کے دائرے میں گردش کرتا ہے۔ اسماء الہٰی کی شرح تک پہنچنے کے لیے ہمیں منصوبہ بندی اور اپنے آپ کی مدیریت کی ضرورت ہے۔ ہر شخص اپنے وجودی نظام میں اپنے ہی دسترخوان پر بطور مہمان حاضر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات آتی ہیں اور نفسِ سعید پر ڈیرہ ڈال لیتی ہیں اور ایک سعید نفس کو آمادہ اور تیاری کرتی ہیں اور اس طرح نفسِ مستعد تشکیل پاتا ہے ۔ جس کا گھر جتنا وسیع ہوتا ہے اس پر برف بھی اتنی زیادہ پڑتی ہے۔
اسماء الہٰی تشخص کی اساس پر ہیں اور تشخص معرفت کی اساس پر ہے اور معرفت جزئیات سے شروع ہوتی ہے نہ کہ کلیاتِ علم یعنی تصور و تصدیق سے اس کا آغاز ہوتا ہے۔ معرفت جزئیات سے شروع ہوتی ہے۔ بلکہ جتنا ہم جزئی ہوں گے اتنا عرفان اور معرفت بلند ہوگی اور جتنا ہم اپنے وجود کے گوشوں اور مختلف زاویوں تک رسائی حاصل کریں گے ہمارا نفس اتنا گشادہ اور منبسط تر ہوگا۔ پھر یہ نفس جتنا گشادہ اور وسیع تر ہوگااتنے اس کے کمالات بیشتر اور زیادہ ہوں گے، اس بے رنگ صفحہ کی مانند جس پر تمام تشخصات پڑاؤ کرتے ہیں۔
اسماء کے تمام ارتباط و ربط کے راز، اسراراور رموز کو بحثِ اسماء کہتے ہیں۔ ہم جب بچے کا نام رکھتے ہیں تو یہ فقط ایک نام ہے ۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ بچے کا اچھا نام رکھیں۔ بچے کا پہلا حرف ماں باپ کے لیے اچھا نام ہو، تو یہ اس لیے ہے کہ اس کا بسیط نفس کھل جائے اور اس کا بسیط نفس غسل سے کھل جائے۔ لہٰذا، اسماء کی شرح خاص طور پر الٰہی درگاہ میں پہلا حرف تخلیق کا نقطہ ہے اور آخری حرف بھی تخلیق کا نقطہ ہے۔
اسماء الٰہی کا بحث سب سے شریف، بہترین، بلند ترین، پہلا، برتر، نیک ترین، یقینی ترین اور سب سے زیادہ قابل اعتماد موضوع ہے۔ اگر ہم سیر و سلوک کے بارے میں پوری یقین دہانی کے ساتھ بات کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اسماء الٰہی سے شروع کرنا چاہیے۔ علامہ حسن زادہ آملی نے فرمایا: “سیر و سلوک کا پہلا، آخری اور بلند ترین قدم معرفت نفس ہے۔” اور اس معرفت نفس کا موضوع آیات رب ہیں۔ آیات رب کا موضوع سب سے بلند ہے، اور آیات رب انسان کے مطلوب نفس میں ظاہر ہوتے ہیں اور معرفت کا فضاء کھولتے ہیں۔ خدا نے ہمیں اتنا عزت دی ہے، اور یہ عزت اور تکریم اس بات میں ہے کہ اس نے ہمارے مقدر کو ہمارے ہاتھ میں دے دیا ہے۔
اگر اس کی معرفت آ گئی، تو انسان کی معرفت آ گئی۔ اگر اس کی معرفت آ گئی، تو رب کی معرفت آ گئی۔ یہ وہ معرفت ہے جو موجود ہے۔ اگر ہم اس کے نفس کو پہچان لیں، تو ہم اس کے رسول کو پہچان لیں گے۔ اگر ہم رسول کو پہچان لیں، تو ہم حجت کو پہچان لیں گے۔ اگر ہم حجت کو پہچان لیں، تو ہم راستہ اور طریقہ کو پہچان لیں گے۔ ہم صراط مستقیم پر ہیں، اور تمام کائنات صراط مستقیم پر ہے۔ جو لوگ صراط مستقیم پر نہیں ہیں، وہ انسان نہیں ہیں۔ ہمیں انس حاصل کرنا چاہیے، اور انس خدا سے شروع ہوتا ہے۔ انسان کی پہلی تشخص اس کی اپنی ذات ہے، اس کی اپنی شخصیت ہے۔ ہم نے یہ جملہ بارہا کہا ہے، اور پھر دہراتے ہیں: ہمارے خیالات ہمارے اعمال اور کردار کو بناتے ہیں، اور ہمارے اعمال ہماری عادات کو بناتے ہیں۔ ہماری عادات ہماری شخصیت کو بناتی ہیں، یعنی ہماری شخصیت اور تشخص ہماری اس آخری سلسلے میں ہے۔ اسی لیے اگر ہم کسی معاشرے کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اس کے فکر اور سوچ کو درست کرنا ہوگا۔ اگر کسی انسان یا معاشرے کی سوچ درست ہو جائے، تو اس کا عمل اور کردار درست ہو جائے گا۔ اگر اس کا عمل اور کردار درست ہو جائے، تو اس کی عادات درست ہو جائیں گی۔ اگر اس کی عادات درست ہو جائیں، تو اس کی شخصیت ظاہر ہو گی۔







