الحمد لولیّہ

(علم عرفان، کتاب: تمہید القواعد ابن ترکہ)

مقدمہِ کتاب
تدریس: آیت اللہ حیدر ضیائی
تدوین: سید محمد حسن رضوی

الحمد لولیّہ:

حمد فقط اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے اور{ بقیہ کے ساتھ بالعرض۔ یہاں ولی سے مراد اللہ سبحانہ ہے۔ اس رسالہ میں عرفاء کے منہج پر مسئلہ ِتوحید بیان کیا گیا ہے۔ روشِ عرفاء پر توحید کا بیان مشکل اور سخت ہے جس تک} افکارِ ناظرین یعنی فلاسفہ اور مجادلین یعنی علماءِ کلام (اہل سنت) نہیں سمجھ پاتے۔

علامہ حسن زادہؒ بیان کرتے ہیں کہ تالیف و تصنیف میں فرق ہے۔ تصنیف سے مراد وہ تحریر ہے جو خود اور جدید مطالب پر مشتمل ہو جبکہ تالیف مختلف کتب سے اخذ کر کے لکھی جاتی ہے۔ ان سطور میں قرینہ سے مراد مقدمہ ہے اور الواجب تقدیمہ سے مراد ہر شیء سے پہلے بسم اللہ اور حمد و درود سے شروع کرنا ہے۔ اس رسالہ میں دو چیزوں سے بحث ہو گئی:

۱۔ توحید حقیقی کی شناخت

۲۔ موحّد حقیقی کی شناخت

صناعت ِتعلیم سے مراد یہاں براعۃ الاستہلال ہے جوکہ علم بدیع کی ایک اصطلاح ہے۔ تمام اشیاء کا کمال اس کے وجود سے ہے۔ حقیقت ِمطلقہ وجودیہ کا اثبات اس رسالہ میں مقصود ہے۔ بقیہ موجودات وجود نہیں ہیں بلکہ وہ اس وجود کے مظاہر ہیں۔ حقیقت ِوجود ان تمام موجودات میں ظہور رکھتا ہے لیکن وجودِ انسانی یعنی ذاتِ رسالت مآب ﷺ میں تمام بطور اتم ظہور رکھتا ہے۔

عقل و عشق

عشق سے مراد راہِ محبت سے معرفت ِالہٰی ہے۔ بعض نے یہ اعتراض کیا ہے کہ عشق کلمہ ِمستحسن نہیں ہے اس لیے یہ قرآن کریم میں نہیں وارد ہوا۔ عشق کا مطلب شدتِ محبت ہے جوکہ خود منفی لفظ نہیں ہے لیکن اس کو منفی معنی میں مختلف اشعار میں استعمال کیا گیا ہے۔ الکافی میں امام صادقؑ سے روایت وارد ہوئی ہے کہ أفضل العبادۃ من عشق ۔۔۔ اسی طرح سفینۃ البحار میں جناب سلمان کے لیے روایت میں آیا ہے کہ أعشقت الجنۃ ۔

عرفاء عقل کو کامل قرار دیتے ہیں لیکن راہِ قلب کو کامل تر کہتے ہیں۔ پس حکماء کا پہلا اعتراض کہ عرفاء مرض کا شکار ہیں جوکہ صحیح نہیں ہے۔ چار افراد ایسے ہیں جنہوں نے عرفانی مطالب کو برہانی و استدلالی قالب میں ڈھال کر پیش کیا ہے:

۱۔ ابن سینا: انہوں نے کتاب اشارات و تنبیہات، نمط آٹھ و نو اور دس میں عرفانی مطالب کو برہانی قالب میں ڈھال کر پیش کیا ہے۔

۲۔ ابن ترکہ: انہوں نے اسی کتاب تمہید القواعد میں عرفانی معارف کو برہانی طریقہ سے تحریر کیا ہے۔

۳۔ ابن فنّاری: انہوں  نے کتاب مصباح الانس جوکہ عرفانِ نظری کی سب سے آخری کتاب شمار ہوتی ہے میں نظری مطالب کو برہانی قالب میں پیش کیا ہے

۴۔ ملا صدرا: انہوں نے حکمتِ متعالیہ کے عنوان سے عرفانی نظریات کو برہانی کر کے تفصیل سے بیان کیا ہے۔

عرفاء کا اپنا طریق عقلی و برہانی نہیں ہے بلکہ وہ حقیقت تک تزکیہ یعنی تخلیہ و تصفیہ اور مکاشفات و مشاہدات کی راہ سے رسائی حاصل کرتے ہیں۔ پس عرفاء عقل کے منکر نہیں بلکہ حقیقت تک رسائی کے لیے اس کو کافی نہیں سمجھتے اور راہِ دل کو راہِ عقل سے بالاتر قرار دیتے ہیں۔ اشعار میں حکماء و عرفاء کا یہ جھگڑا بہت بیان ہوا ہے، جیساکہ ابو المجد سنائی کا شعر ہے:

عقل در کوی عشق نابیناست

عاقلی کار بوعلی سیناست

شیخ بہائی کا شعر ہے:

تا کی ز شفاش شفاطلبی؟

وز کاسہ ی زہر دوا طلبی!!

عرفاء کا کہنا ہے کہ ہم حقائق کو کشف و شہود کے ذریعے درک کرتے ہیں۔علامہ حسن زادہ آملیؒ بیان کرتے ہیں کہ حکماء نے عرفاء کو اس لیے مریض کہا ہے کہ کیونکہ عرفاء نے اپنے اشعار میں عقل و عشق کا کثرت سے موازانہ کیا ہے اور عقل و اہل عقل کی مذمت کی ہے۔ عرفاء عقل کی مذمت نہیں کرتے بلکہ وہ عقل کو آخری مرحلہ قرار نہیں دیتے اور معرفت ِالہٰی میں عقل کو کافی نہیں سمجھتے۔ عرفاء کی نظر میں معرفت کے لیے راہِ دل کا کھلنا ضروری ہے۔ حکماء یہاں سوء ظن کا شکار ہوئے اور انہوں نے عرفاء کی اس پر شدید مذمت کی ہے۔ قرآن کریم نے ان مراحل کو ذکر کیا ہے۔ بعض آیات تدبر و تعقل کا درس دیتی ہیں اور بعض آیات نے فرقان اور تقوی کی اساس میں حصولِ تعلیم کو بیان کیا ہے اور یہی راہِ قلب ہے۔

عاشق کبھی تھکتا نہیں ہے کیونکہ عشق کی وجہ سے اسے تھکاوٹ یا درد محسوس نہیں ہوتا۔ حضرت اویس قرنیؓ لمبے سجدوں اور رکوع سے تھکتے نہیں تھے۔ امام حسینؑ اور ان کے اصحاب کربلا میں حالت ِعشق میں تھے جس کی وجہ سے تلوار اور نیزے کے درد کو آسانی سے جھیل گئے۔اگر عبادت کے طولانی ہونے کی ودہ سے انسان پر تھکاوٹ کے آثار ظاہر ہونے لگیں تو اس کا مطلب ہے کہ دل مرحلہ ِ عشق تک نہیں پہنچا۔ بہت سے لوگوں کو نماز یا عبادات بوجھ محسوس ہوتی ہیں جسے وہ جلد از جلد اتارنا چاہتے ہیں!! ان کے مقابلے میں اولیاءِ اللہ تھوڑی سی عبادت کے فوت ہونے پر شدید غمگین ہوتے تھے، جیساکہ امام خمینیؒ کی ایک نمازِ شب قضاء ہو گئی جس پر دیر تک امام خمینیؒ گریہ کرتے رہے۔

پہلا شبہ: فلسفی کا عارف پرسُوءِ مِزاج کا اعتراض

عارف وحدتِ شخصی وجود کا قائل ہے اور اس کا دعوی ہے کہ وہ وحدتِ شخصی کی حقیقت تک کشف و شہود کے ذریعے پہنچا ہے۔ کشف و شہود مختلف قسم کی ریاضتوں کے نتیجہ میں برپا ہوتا ہے اور ریاضت میں راتیں بیداری میں اور دن بھوک، پیاس میں گزرتے ہیں۔

• فلسفی وحدتِ شخصی کا مخالف ہے اور عرفاء کے نظریہ وحدتِ شخصی کو ریاضتوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے سوءِ مزاج کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ فلسفی کا کہنا ہے کہ ہم حقائق کو برہان کی زبان سے حاصل کرتے ہیں جبکہ ان عرفاء کے پاس نہ برہان ہے اور نہ حقیقی عرفان۔ فلسفی کی نظر میں عرفاء ریاضتیں کر کر کے جب مریض ہو جاتے ہیں اور ان کا مزاج اختلال و بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے تو انہیں ہر چیز ایک نظر آنے لگتی ہے۔ لہٰذا بھوک پیاس اور شب بیداری مزاج میں خرابی پیدا کرتی ہے جس کی وجہ سے عارف کی قوتِ ادراکیہ خراب ہو جاتی ہے اور متعدد وجودات میں وحدتِ شخصی جیسے گمانات کا اظہار کرنے لگتا ہے۔ یقیناً جب ادراکی قوت میں خلل پیدا ہو جائے تو کمالات اور یقین پر استوار علم تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ عرفاء کو نہ عقلی بات سمجھ آتی اور نہ وہ عقل کو قبول کرتے ہیں۔

پہلے شبہ کا جواب :

عارف اس شبہ کا جواب علت اور معلول میں سنخیت سے دیتا ہے۔ اس طرح سے کہ عارف کو وحدتِ شخصیِ وجود کا قطع و یقین حاصل ہے جوکہ مشہور فلاسفہ کے مطابق کیف ِنفسانی کے باب سے ہے جبکہ سوءِ مزاج کیف ِطبیعی ہے جس کا تعلق مادی جسم سے ہے۔چونکہ علت اور معلول میں سنخیت ضروری ہے لہٰذا کیفِ طبیعی یعنی سوءِ مزاج کسی صورت کیف ِنفسانی جوکہ علم ہے کی علت نہیں ہو سکتا۔

پس عارف کو وحدتِ شخصی وجود کا جو قطع حاصل ہے وہ کیف نفسانی ہے اور جسم میں مزاجی خلل کیف ِجسمانی ہے اور کیف نفسانی و کیف جسمانی میں سنخیت نہیں پائی جاتی۔ فلسفی اصول ہے کہ علت اور معلول میں سنخیت کا ہونا ضروری ہے۔ لہٰذا سوءِ مزاج کی وجہ سے پیدا ہونے والا کیفِ طبیعی کسی کیفِ نفسانی یعنی علم کی علت نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ فلسفی کی بات علت و معلول میں سنخیت کے قاعدہ کی رُو سے باطل ہے۔

شبہ دوم: عارف کا یقین مرض کا نتیجہ

فلسفی اس مقام پر عارف کو جواب دیتا ہے کہ میں علت و معلول میں سنخیت کی بات نہیں کر رہا ہوں بلکہ میرا کہنا یہ ہے کہ جو قطع ویقین تم نے حاصل کیا ہے اس کی علت مرض اور اختلالِ مزاج ہے۔ فلسفی برہانِ اِنّی سے استدلال قائم کرتے ہوئے عارف کے وحدتِ شخصی کو معلول قرار دیتا ہے جس کی علت عارف کا مریض ہونا ہے۔ برہان کی دو قسمیں کی جاتی ہیں:

۱۔ برہانِ اِنّی

۲۔ برہانِ لِمّی

فلاسفہ برہانِ انّی سے استفادہ کرتے ہیں جبکہ عرفاء برہانِ لِمّی سے استفادہ کرتے ہیں۔ برہانِ اِنّی وہ استدلال ہے جس میں معلول سے علت تک پہنچا جاتا ہے جبکہ برہانِ لمّی میں علت سے معلول کی طرف آیا جاتا ہے۔ فلسفی اس مقام پر وحدتِ شخصیِ وجود کے نظریہ کو معلول قرار دیتا ہے جس کی علت عارف کا ریاضتوں کی وجہ سے سوءِ مزاج اور قوتِ ادراکیہ میں خلل کا واقع ہونا ہے۔ اس مطلب کو فلسفی آنکھ کے پردوںکی مثال سے سمجھتا ہے کہ جس طرح آنکھ کے پردوں میں خلل اور خرابی سے چیزیں صحیح دکھائی نہیں دیتیں اسی طرح ریاضتوں کی وجہ سے ادراکی قوت میں خلل پیدا ہونے کی وجہ سے حقیقت صحیح طرح درک نہیں ہو پاتی جس کا یہ عرفاء شکار ہیں۔

شبہِ دوم کا جواب:

عارف دوبارہ فلسفی کو جواب دیتے ہوئے کہتا ہے کہ وحدتِ شخصی ِوجود کو سمجھنے کے لیے مادی آلات کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ادراکات کے مراتب ہوتے ہیں، جیساکہ خود فلاسفہ بیان کرتے ہیں کہ ادراک کے چار مراتب ہیں:

۱۔ حسی

۲۔ خیالی

۳۔ وہمی

۴۔ عقلی

• مادی آلات کا حسی سے تعلق ہے۔ حکماءِ مشاء کے مطابق خیالی اور وہمی ادراکات کے لیے بھی مادی حواس و آلات، جیسے آنکھ اور کان کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ان آلات میں خلل یا خرابی آ جائے تو بلا شک و شبہ ان سے صحیح ادراک نہیں ہو سکے گا۔ عارف کا کہنا ہے کہ وحدتِ شخصیِ وجود ایک امر عقلی و کلّی ہے جس کا تعلق ادراکِ عقلی سے ہے اور عقلی ادراکات کے لیے مادی آلات کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لہٰذا فلسفی کا یہ استدلال باطل اور بے معنی ہے کہ عارف آلاتِ ادراک میں خلل واقع ہو گیا ہے !! کیونکہ وحدتِ شخصیِ وجود کو عقل بغیر آلات کے درک کرتی ہے۔ وحدتِ شخصی حس و خیال و وہمیات سے قابل ادراک نہیں ہے۔

شبہ سوم: ادراکِ کلیات اور مادی آلات

فلسفی کہتا ہے کہ ہم فرض کرتے ہیں کہ وحدتِ شخصیِ وجود ایک کلی امر ہے   لیکن یہ بات درست نہیں ہے کہ تمام کلیات مادی آلات کے واسطے کے بغیر درک ہوتے ہیں۔ کلیات عملِ تجرید ہے جس میں بہت سی کلیات کو مادی آلات کی مدد سے درک کیا جاتا ہے کیونکہ جب خارج میں متعدد جزئیات کا مشاہدہ کیا جاتا ہے تو ان کے شخصی امتیازات کو نظر انداز کر کے ان میں پایا جانے والا مشترک مفہوم لے لیا جاتا ہے جس کی وجہ سے کلیات کا ادراک ہوتا ہے، مثلاً زید، عمرو اور بکر وغیرہ سے ان میں پایا جانے والا مشترک مفہوم حیوانِ ناطق ہے جو ادراکِ کلّی ہے۔ پس جن جزئیات سے کلّی کو حاصل کیا جاتا ہے ان جزئیات کا ادراک مادی آلات کے ذریعے ہوتا ہے۔ لہٰذا کلیات کا ادراک جزئیات کے مشاہدے پر منحصر ہے اور جزئیات مادی آلات سے دیکھی جاتی ہیں۔ چنانچہ ریاضتوں کی وجہ سے سوءِ مزاج نے عرفاء میں مرض پیدا کر دیا جس کی وجہ سے وہ جزئیات کو صحیح ادراک نہیں کر پاتے اور نتیجہ میں کلیات کے ادراک سے قاصر رہتے ہیں اور  وحدتِ شخصی جیسے نظریات اختیار کر بیٹھتے ہیں۔

یا اخوان التحصیل:

تحصیل یا محصِّل سے مراد اہل نظر ، اہل فکر و استدلال یعنی فیلسوف ہے۔ مصنف ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے اہل نظر و استدلال وحدتِ شخصی کی خبر تمہیں ہونی چاہیے۔ بعض اوقات انسان عقل و نظر سے ان حقائق کو جان لیتا ہے لیکن وہم و خیال راہزن ہیں جس کی وجہ سے یہ حقائق ان سے پوشیدہ ہو جاتے ہیں، جیساکہ میت سے افراد ڈرتے ہیں جبکہ عقل کہتی ہے کہ وہ زندہ تھا تو کچھ ضرر نہیں پہنچاتا تھا، اب تو مردہ ہے کیسے ضرر پہنچا سکتا ہے۔ وہم حقیقت میں اس میت سے خوف کا باعث بنتا ہے۔ اسی طرح یہ مطالب وہم کی وجہ سے اہل عقل کے لیے پوشیدہ ہو جاتے ہیں۔ ان مطالب کے لیے ظرفیت کا ہونا ضروری ہے، جیساکہ شیرخوار بچے کو روٹی دیں تو وہ اس کے گلے میں پھنس جائے گی اور وہ مر جائے گا۔ اس لیے اس سطح تک پہنچنا ضروری ہے کہ ان مطالب کو سمجھ سکیں۔

وجود از لحاظِ مفہوم بدیہی ہے اور از لحاظِ تحقق بدیہی ہے۔ اس لیے مصنف نے تحقق وجود پر بحث نہیں کی بلکہ وجود کی صفات پر بحث کی ہے۔ سب سے پہلا مسئلہ جسے مصنف نے بیان کیا ہے وہ مفہومِ وجود کا مشترکِ معنوی ہونا ہے۔ اگر وجود کو مشترک لفظی قرار دیا جائے تو اس سے اجتماعِ نقیضین لازم آتا ہے کیونکہ العالم موجود میں موجود کسی اور معنی میں ہے اور العالم لیس بموجود میں کسی اور معنی میں ہو تو ہر دو قضیہ درست قرار پائیں گے جبکہ کوئی عاقل اس کو قبول نہیں کرتا کیونکہ یہ اجتماعِ نقیضین ہے۔ عرفاء کی نظر میں نہ حقائق متباینہ کا نظریہ درست ہے اور نہ حقیقت ِوجود ذو مراتب صحیح ہے بلکہ حقیقت وجود ذو مظاہر صحیح نظریہ ہے۔

معارفِ ذوقیہ سے مراد وہ معارف جنہیں چکھا ہے نہ کہ فقط سنا ہے۔ معارفِ ادارائی کو ذوقی کہتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں معارفِ دانائی ہے جسے فقط تعقل کیا گیا ہے، مثلاً ایک شخص کو گردے میں درد ہے ، ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے کہ گردے میں درد ہے۔ ڈاکٹر مریض کے مرض کو دیکھ کر جانتا ہے کہ اسے درد ہے لیکن مریض اور ڈاکٹر ہر دو کے علم میں فرق ہے۔ مریض کو درد کا علم دارائی ہے جبکہ ڈاکٹر کو درد کا علم دانائی ہے۔ شیطان کیمونسٹ نہیں تھا بلکہ عالم دانائی تھا جیساکہ قرآن کریم میں اس نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت، عزت اور روزِ قیامت کا اقرار کیا ہے۔ شیطان فقط دانا تھا اس لیے فقط دانائی کافی نہیں ہے بلکہ دارائی ضروری ہے۔ اس لیے وحدتِ وجودِ شخصی کا علم کمالاتِ حقیقیہ پانے والوں کو ہے جوکہ معارف کو دانائی نہیں بلکہ دارا یعنی پائے ہوئے ہیں۔

اخوانِ تحصیل یعنی اہلِ نظر اور بصیرت رکھنے والوں کے لیے مخصوص کرنا اس وجہ سے ہے کہ ان کی فطری استعداد معارفِ ذوقی (باطنی و وجدانی معارف) کو حاصل کرنے کے لیے زیادہ قریب ہے، اور وہ کمالاتِ حقیقی کے فیض سے بہرہ مند ہونے کے زیادہ اہل ہیں، کیونکہ وہ خیالی صورتوں اور حسی جزئیات سے بلند ہو کر عقلی معانی اور کلی معارف کی طرف ترقی کر چکے ہیں۔ وہ تقلیدات جو انسان کو جزئی وہمّی احکام اور کلی عقلی حقائق کے درمیان خلطِ مبحث میں مبتلا کر دیتی ہیں، اور جن کے باعث عقل کبھی یقینی و عقلی امور کے ساتھ ساتھ ظنی و وہمی امور کو بھی قبول کر لیتی ہے۔ تاہم، باوجود اس کے کہ وہ عقل و نظر میں ترقی یافتہ ہیں، وہ کامل حقیقی تکمیل سے پھر بھی محروم رہ جاتے ہیں، کیونکہ وہ کمال کو صرف انہی جزئی اصطلاحات اور مفاہیم کے حصول تک محدود سمجھتے ہیں۔ جو بدنی آلات اور جسمانی قویٰ کے ذریعے حاصل ہوتی ہیں۔ یہ سب اُس وقت فنا ہو جاتی ہیں جب عنصری زندگی (مادی وجود) ختم ہو جاتی ہے۔ اسی لیے ان کی یہ عقلی و فکری ترقی انہیں مکمل فائدہ نہیں دیتی۔ اور آخر میں کمالِ حقیقی کے ساتھ بقاءِ ابدیہ کے ذکر سے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اصل کمال وہ ہے جوہمیشہ باقی رہنے والا اور روحانی ہو، نہ کہ وہ جو صرف جسم و عقلِ جزئی کے دائرے میں محدود ہے۔

مصنف (ابوحامد) نے اپنی وصیت کا خطاب اخوان التحصیل، اہلِ نظر/فلاسفہ سے مخصوص کیا ہے۔ عام لوگ اپنے مشہودات کو دیکھتے ہیں اور وحدت شخصی وجود کو قبول نہیں کرتے، جبکہ اہل نظر، اہلِ فکر و استدلال میں وہ استعداد موجود ہے کہ وہ یہ حقائق حاصل کر سکیں۔

مصنف کی نظر میں کمالِ حقیقی سے مراد وحدت شخصی وجود تک پہنچنا ہے۔ مصنف اہل تحصیل کو ان لوگوں سے ممیز کرتے ہیں جو محض دانا ہیں، کیونکہ کمالِ حقیقی کے لیے حقائق کی دارائی (معارف ذوقیہ) ضروری ہے، محض دانائی (علم) کافی نہیں ہے۔ شیطان صرف دانا تھا مگر دارا نہیں تھا۔

  عارف کا مبنا اس سے مختلف ہے۔ وہ وجود کو حقیقتِ واحدہ ذات مظاہر میں ظہور کرنے والی حقیقت مانتے ہیں۔ عارف نہ تو حقائقِ متباینہ (جدا جدا حقائق) کو قبول کرتے ہیں اور نہ ہی ملا صدرا کے مراتب کو، بلکہ وہ ذاتِ مظاہر کے قائل ہیں۔

مصنف (ابوحامد) اپنی وصیت کا خطاب اخوان التحصیل (اہلِ نظر) سے مخصوص کرتے ہیں۔ ان سے مراد اہلِ فکر، اہلِ استدلال اور فلاسفہ ہیں۔ یہ لوگ عقلی دلائل اور برہان کے ذریعے حقائق کو سمجھنے کی استعداد رکھتے ہیں اس لیے یہ اس قابل ہیں کہ ان سے وحدت شخصی وجود (جسے مصنف کمالِ حقیقی سمجھتے ہیں) کے بارے میں بحث کی جا سکے۔ عام لوگ اپنے مشہودات (ظاہری مشاہدات) کی بنیاد پر چلتے ہیں اور ان کے لیے وحدت شخصی وجود کو قبول کرنا ناممکن ہے۔

مصنف اہلِ تحصیل کو کمالِ حقیقی کے حصول کی دعوت دیتے ہیں۔ تاہم، وہ اس راہ میں موجود ذہنی رکاوٹوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اگرچہ انسان عقلی دلائل سے کسی حقیقت پر یقین (قطع) حاصل کر لے، لیکن وہم و خیال اسے اس یقین سے دستبردار کروا دیتے ہیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ انسان عقل سے یہ جانتا ہے کہ مردہ نقصان نہیں پہنچا سکتا، مگر وہم کی وجہ سے اسے تنہائی میں خوف محسوس ہوتا ہے۔

اس لیے کمال کے لیے ضروری ہے کہ انسان تقلیدات اور وہمی جزئی احکام کی قید سے آزاد ہو جائے اور عقل کے کلی احکام کو قبول کرے۔ کمالِ حقیقی کے لیے حقائق کو صرف جاننا (دانائی) کافی نہیں، بلکہ ان حقائق کا دارا ہونا (معارفِ ذوقیہ) ضروری ہے۔ عارف کے اصطلاح میں ذوق، دارا ہے، جبکہ علم صرف دانائی ہے۔ شیطان باوجود اس کے کہ مبداء و معاد کا دانا تھا (یعنی خالقیت باری تعالیٰ کو قبول کرتا تھا)، لیکن وہ دارا نہیں تھا، لہٰذا وہ نجات حاصل نہ کر سکا۔ مصنف ان فلاسفہ پر تنقید کرتے ہیں جو کمالِ حقیقی تک نہیں پہنچ پاتے:

وہ کمال کو محض اصطلاحات جزئیہ کو حاضر کرنے تک محدود سمجھتے ہیں۔ ان کا علم حسی ادراکات اور جسمانی قوتوں پر منحصر ہوتا ہے۔ چونکہ یہ قوتیں مادی آلات (جسم) کی مرہونِ منت ہوتی ہیں۔ لہٰذا جب بدن مبتلائے موت ہو کر یہ آلات ختم ہو جاتے ہیں، تو ان کا علم بھی بے فائدہ ہو جاتا ہے۔ مصنف فرماتے ہیں: ما نفعهم ذالک التلقی (اس علم نے ان کو کوئی نفع نہ دیا)

وجود کا پہلا حکم: اشتراکِ معنوی

مصنف وجود کے احکام پر بحث کا آغاز کرتے ہیں کہ وجود بدیہی ہے جوکہ واضحات میں سے ہے۔ لہٰذا اس سے مزید گفتگو کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بعد مصنف وجود کا پہلا حکم اس کا مشترکِ معنوی ہونا بیان کرتے ہیں اور وجود کے مشترکِ لفظی ہونے کی نفی کرتے ہیں۔

اگر وجود کو مشترک لفظی مانا جائے تو اس سے اجتماعِ نقیضین لازم آتا ہے کیونکہ اگر یہ کہا جائے کہ العالم لیس بموجود تو یہ اشتراکِ لفظی کی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے اور اس طرح العالم موجود درست کہلائے گا جس سے لازم آتا ہے کہ وجود کی نفی اور اثبات ہر دو ممکن ہے۔ جبکہ کوئی عاقل یہ قبول نہیں کرتا کہ یہ دونوں متضاد قضایا یعنی العالم لیس بموجود اور العالم موجود بیک وقت صادق ہوں!! لہٰذا یہ ثابت ہوتا ہے کہ وجود مشترکِ معنوی ہے۔

اگرچہ ملا صدرا (حکمتِ متعالیہ) اور عرفا دونوں وجود کو مشترک معنوی مانتے ہیں، لیکن ان کی تشریح میں فرق ہے۔ حکمت متعالیہ کی نظر یہ ہے کہ وجود حقیقتِ واحدہ ذات مراتب ہے ، یعنی ایک ہی حقیقت جس میں درجات اور مراتب ہیں۔ مصنف کی نظر میں وجود حقیقتِ واحدہ ذات مظاہر ہے (ایک ہی حقیقت جو مختلف مظاہر میں ظاہر ہوتی ہے)۔ وجود کا مشترک معنوی ہونا اقرب الاحکام الحقیقۃ ہے اور یہ مناط سایر الاحکام (باقی تمام احکام کی بنیاد) ہے، دوسرے احکام، جیسے وجوب (لازمی ہونا) اور وحدت (یکتائی) وجود کے مشترک معنوی ہونے پر متفرع ہوں گے۔

اصالت و اعتباریت وجوداو ماہیت:

وجود اور ماہیت کی اصالت کے بارے میں چار احتمال ہیں:

۱۔ ہر دو اصیل ہیں۔ یہ نہیں ہو سکتے۔

۲۔ دونوں اصیل نہیں ہیں۔ اس سے سوفسطائیت لازم آتی ہے۔

۳۔ مشاء کی طرف نسبت دی جاتی ہے کہ ماہیت اصیل اور وجود اعتباری ہے۔ اعتباری سے مراد یہاں معقولات ثانوی فلسفی ہے جوکہ خارج سے انتزاع کی جاتی ہے۔

۴۔ حکمت متعالیہ کے مطابق وجود اصیل ہے اور ماہیت اعتباری ہے۔

۵۔ عرفاء وجود کو اصیل اور ماہیت کو اعتباری کہتے ہیں۔

مشاء کا کہنا ہے کہ حقائق آپس میں متباین ہیں جن سے ایک مفہومِ عام بنامِ وجود انتزاع کیا جاتا ہے اور ان حقائق کے اوپر مفاہیم تشکیکی صورت میں حمل ہوتا ہے۔ اس کو اصطلاح میں تشکیکی عامی کہتے ہیں۔

حکمت متعالیہ وجود کو اصیل کہتے ہیں اور حقائق کو متباین نہیں بلکہ ایک حقیقت کہتے ہیں جو کئی مراتب رکھتا ہے۔ متعدد مراتب میں ما بہ الاشترک عین ِما بہ الافتراق ہے۔ وجودات آپس میں اختلاف رکھتے ہیں ، جیساکہ ایک وجود شدید اور ایک ضعیف ہے، مثلاً نورِ شمس اور نورِ شمع ایک نور ہے لیکن نورِ شمس کا مرتبہ قوی اور نورِ شمع کا مرتبہ ضعیف ہے۔ اس کو اصطلاح میں تشکیکی خاصی کہتے ہیں۔

عرفاء حقائق کو متباین قبول نہیں کرتے بلکہ وجود کو ایک حقیقت ذو مراتب بھی قبول نہیں کرتے بلکہ عرفاء وجود کو ایک وجود قرار دیتے ہیں جس کے مظاہر ہیں۔ وجود ایک ہے جسے ہر آئینہ اپنی ظرفیت کے مطابق ظاہر کر رہا ہے۔

مشاء، حکمت متعالیہ اور عرفاء کے مقابلے میں شیخ اشراق ہیں جو ماہیت کو اصیل اور وجود کو اعتباری کہتے ہیں۔

مشترک معنوی مشاء اور عارف میں فرق

مشاء کی نظر میں مشترکِ معنوی اس سے جدا ہے جو عارف کی نظر میں مشترکِ معنوی ہے۔ مشاء ایک طرف حقائق متباینہ کے قائل ہیں اور دوسری طرف ان متباین الحقائق وجودات سے ایک مفہومِ عام کیسے انتزاع کیا جا سکتا ہے؟! یہاں مصنف نے مشترکِ معنوی کا معنی ذکر کیا ہے تاکہ فلاسفہ کی بات کو ردّ کر سکیں۔ مشترکِ معنوی مفہومی بحث ہے۔

عارف کی نظر میں مشترکِ معنوی سے مراد سعہِ وجودی اور وجہِ الہٰی ہے، جیساکہ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

فَأَيْنَما تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ . (بقرہ: ۱۱۵)

تم جہاں رک کرو وہاں وجہِ الہٰی ہے۔

شیخ اشراق کی بات بھی درست نہیں ہے۔

۱۔ عارف خارج میں تعدد کا قائل نہیں ہے کیونکہ وجود فقط واجب الوجود ہے اور یہ وجود فراگیر و شامل اور وسعت رکھتا ہے جس ہر شیء کو گھیرا ہوا ہے۔

۲۔ وجود خود واجب ہے۔ صاحب کتاب نے اس مطلب پر ایک برہان ذکر کی ہے: الوجود لا یقبل العدم وکل ما لا یقبل العدم فہو واجب۔ شارح کہتے ہیں کہ ایک برہان اگرچے کافی ہے لیکن میں دیگر براہین بھی ذکر کرتا ہوں۔ شارح نے درج ذیل مزید ۵ براہین ذکر کی ہیں:

برہانِ اول:

صغری: وجودِ مطلق موجود ، بسیط اور غیر معلول ہے۔

کبری:

کبری واضح ہے، صغری کو ثابت کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ صغری میں تین چیزوں کا بیان ہے:

– وجودِ مطلق کا موجود ہونا۔ یہ بدیہی اور واضح ہے۔

– وجود مطلق بسیط ہے۔ اگر بسیط نہ ہو تو اس سے اس کا مرکب ہونا لازم آتا ہے۔

– وجود غیر معلول ہے۔ اگر وجود مطلق معلول ہو تو اسے علت کی ضرورت پیش آئے گی اور علت کے بغیر معلول ہو تو متأخر کا متقدم ہونا لازم آئے گا۔

برہانِ دوم:

اگر وجودِ مطلق واجب نہیں ہے تو یا تو وہ ممکن ہو گا یاممتنع۔ یہ قیاس استثنائی ہے

Scroll to Top