اسماء حسنی کا حقیقی وجود ہونا
تحریر: سید محمد حسن رضوی
03/23/2025
قرآن کریم میں اللہ سبحانہ کی صفات و اسماء کا کثرت سے تذکرہ وارد ہوا ہے۔ یہ اسماء و صفات الفاظ و کتابت کی صورت میں ہمارے سامنے تحریر ہیں جنہیں ہم الفاظ کی شکل میں تلاوت کرتے ہیں اور ان سے لفظ و لسانی تعلق قائم کرتے ہیں۔ اللہ سبحانہ کے اسماء ایک مرتبہ لفظی اور ظاہری ادائیگی کے اعتبار سے مطلوب ہیں اور ایک مرتبہ ہر اسم کی جو وجودی حقیقت ہے اس حقیقت سے مخلوقات کا ارتباط ، تعلق اور وجودی ربط مدنظر ہے۔اسمِ الہٰی کو اگر ہم آیات و روایات کے تناظر میں دیکھیں تو اس کی ایک تقسیم اسمِ لفظی اور اسمِ حقیقی کے طور پر کی جا سکتی ہے۔ اسم لفظی کی تاثیر اور اس سے متعلق احکام کو پہلے ملاحظہ کرتے ہیں اور اس کے اسم کو حقیقتِ وجود کے تناظر میں ملاحظہ کرتے ہیں۔
Table of Contents
Toggleاللہ تعالیٰ کے اسم سے متعلق احکامِ شرعیہ :
دین اسلام نے جس شریعت کو تاقیامت آنے والے انسانوں کے لیے مشعل ِ راہ اور سلیقہِ زندگی قرار دیا ہے اس نے کئی ایسے فقہی شرعی احکام ذکر کیے ہیں جن کا حلال ہونے کی اہم شرط ان پر اللہ تعالیٰ کا اسم (نام) پڑھنا یا ذکر کرنا ہے۔ اس مقامِ پر ان الفاظ سے ادائیگی اور لفاظی کا تعلق قائم کرنا ضروری ہے۔ پس اسماءِ الہٰی کا ایک مرتبہ یا مرحلہ ان کے ظاہری کلمات اور الفاظ سے تعلق قائم کرنا ہے تاکہ عبادت انجام پائے یا بعض اشیاء کا حلال ہونا ثابت ہو۔ اس مطلب کی طرف قرآن کریم کی متعدد آیات اشارہ کرتی ہیں جیساکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہوتا ہے: { فَكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كُنْتُمْ بِآياتِهِ مُؤْمِنين؛ پس جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے اس سے تم لوگ کھاؤ اگر تم اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہو۔} [1]
اسی طرح متعدد آیاتِ مبارکہ ہیں جن میں اسمِ اللہ کا ذکر پڑھا گیا ہو تو اس سے کھانے کی تلقین اور ہدایت ہے۔ انہی میں سے ایک آیت کریمہ ہے:: { الَّذينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلاَّ أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ وَلَوْ لا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوامِعُ وَ بِيَعٌ وَ صَلَواتٌ وَ مَساجِدُ يُذْكَرُ فيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثيراً وَ لَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزيزٌ؛ }وہ لوگ جو ناحق اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے مگر وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ربّ اللہ ہے اور اللہ لوگوں میں سے بعض کو دیگر بعض سے دُور نہ کرتا تو عیسائیوں کی خانقاہیں (صوامع) اور گرجے (بیع) اور اہل یہود کے عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مساجد جن میں اللہ کا اسم (نام) کثرت سے ذکر کیا جاتا ہے منہدم کر دی گئی ہوتیں اور اللہ ہر صورت میں اس کی نصرت و مدد کرتا ہے جو اس کی مدد کرتا ہے ، بے شک اللہ قوی عزیز ہے [2]
ان آیاتِ کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسماءِ حسنی سے ایک تعلق لفظی اور ظاہری ہے اور یہ بھی انسان زندگی پر اثر انداز ہے جیساکہ حلال گوشت جانور کے ذبح کرنے کے لیے اللہ کا اسم ذکر کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح عبادت خانوں میں بالخصوص نماز، دعا، مناجات وغیرہ پر مشتمل عبادات میں ظاہری الفاظ سے تعلق قائم کرنا یا ان کی ادائیگی باعثِ ثواب اور واجبات کی ادائیگی کا ذریعہ ہے۔ حتی بعض احکامِ شرعیہ کے مطابق بغیر اسماءِ حسنی الہٰی کے الفاظ و کلمات کو ادا نہیں کر سکتے۔ اسی طرح انہی ظاہری کلمات کی ادائیگی کے ذریعے نذر، قسم اور عہد شرعی حیثیت اختیار کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی کے ظاہری اور لفظی اثر کا انکار نہیں کیا جا سکتا ورنہ یہ تمام پہلو ادھارے اور بے اثر رہ جاتے۔
اسماء حسنی کا وجودی حقیقت ہونا:
اللہ تعالیٰ کے تمام اسماءِ حسنی کا لفظی پہلو ہونے کے ساتھ ایک حقیقت پہلو بھی ہے کیونکہ یہ اسماء جس ہستی کے ہیں وہ ہستی کائنات کی خالق و مالک اور حقیقی وجود رکھتی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں تمام وجود اس کے محتاج اور حقیر و فقیر حیثیت کے مالک ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء کا حقیقی وجود بتاتا ہے کہ جن اسماء کو پڑھتے یا لکھتے ہیں وہ درحقیقت اسماءِ اسماءِ اسماء ہیں۔ اس کے حقیقی وجود ہونے پر ہمارے پاس قرآن کی متعدد آیات ہیں جو اشارہ کرتی ہیں کہ اللہ سبحانہ کے اسماء کی حقیقت کائنات میں ان کا حقیقی وجود ہے، جیساکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہوتا ہے: { تَبارَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلالِ وَ الْإِكْرام؛بابرکت ہے آپ کے ربّ کا اسم (نام) جو(رب) جلال و اکرام وعزت والا ہے ۔} [3] اسی طرح سورہ اعلیٰ میں ارشاد ہوتا ہے: { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى؛اپنے ربِ اعلیٰ کے اسم (نام) کی تسبیح کیجیے ۔} [4] واضح سی بات ہے کہ اسمِ لفظی کی تسبیح بغیر توجیہ کے معنی نہیں رکھتی جبکہ اگر اللہ تعالیٰ کا اسم حقیقی وجود رکھتا ہو تو اس اسم کی عظمت و جلالت کو ملاحظہ کر کے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کی جا سکتی ہے۔
اسم ذاتی اور اسم فعلی میں فرق:
حکیم سبزواریؒ اپنی کتاب شرح الاسماء الحسنی میں تحریر کرتے ہیں: > الاسم عند العرفاء هو حقيقة الوجود مأخوذة بتعيّن من التعيّنات الصّفاتيّة من كمالاته تعالى او باعتبار تجلّ خاصّ من التجلّيات الإلهيّة؛عرفاء کے نزدیک ’’اسم‘‘ وہ حقیقتِ وجود ہے جو یا تو اللہ تعالیٰ کے کمالات میں سے تعیُّناتِ صفاتیہ میں سے ایک تعیُّن سے اخذ کیا گیا ہے یا تجلیاتِ الہٰیہ میں سے تجلیِ خاص کے اعتبار سے اخذ کیا گیا ہے < [5] یہاں تجلیِ خاص سے مراد اللہ سبحانہ کا اسمِ فعلی ہےجبکہ کمالاتِ الہٰیہ میں سے تعیناتِ صفاتیہ سے مراد اللہ سبحانہ کا اسمِ ذاتی ہے۔ یہ اسم فعلی ماہیتِ ممکنہ پر ظاہر ہوتا ہے جیساکہ عقلِ کلّی کی ماہیت۔ اس کے مقابلے میں اسمِ ذاتی اللہ سبحانہ کی صفتِ وجوبی ذاتی کے مفہوم کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔
علامہ حسن زادہ آملیؒ بیان کرتے ہیں کہ اسم وہ ذات ہے جو کہ مقید ہے ، یعنی وہ ذات جو کسی معین صفت سے متصف ہے جیسے رحمن، اللہ سبحانہ کی ذات کے لیے رحمت ثابت ہے ، اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے قہر ثابت ہے جسے وہ قہار کہلاتا ہے ۔ پس اسم ہویّت اور وجود کے اعتبار سے عینِ مسمّی ہے لیکن معنی اور مفہوم کے اعتبار سے مسمی کا غیر ہے۔ ہم جو لفظی طور پر اسماء پڑھتے ہیں یہ اسماء الاسماء ہیں۔[6] لہٰذا جب بھی عینِ ذات یعنی حقیقتِ وجود کو صفاتِ کمالیہ میں سے کسی ایک صفتِ معین کے ساتھ اخذ یا ملاحظہ کیا جائے تو اس کو اسمِ ذاتی کہتے ہیں۔ اسی طرح جب بھی ذات کو تجلیات میں سے کسی تجلیِ خاص کے اعتبار سے ملاحظہ کیا جائے تو اس کو اسمِ فعلی کہتے ہیں۔[7] یہاں سے واضح ہوتا ہے کہ اسم عینِ مسمّی ہے جیساکہ صدر الدین قونوی نے تحریر کیا ہے۔
اسم اور مسمّی میں فرق:
لغت کے اعتبار سے اسم اور مسمّی میں واضح فرق ہے۔ مسمّی سے مراد وہ ذات ہے جس کی طرف اسم کے ذریعے اشارہ کیا جاتا ہے۔ اسم کے لغوی معنی بلندی اور علامت کے ہیں۔ ہماری بحث سے سازگار اسم کا دوسرا لغوی معنی یعنی علامت ہے۔ اسم اپنے مسمّی کی علامت بنتا ہے، مثلاً اگر ایک بچہ پیدا ہوا ہے تو آپ اس بچہ کی طرف نشاندہی کرنے اور اسے پکارنے کے لیے ایک نام (اسم) تشکیل دیتے ہیں جس سے ہمیشہ اس بچے کو پکارا جاتا ہے۔
عرفاء نے اسم اور مسمی کو ایک اور انداز سے بیان کیا ہے۔ عرفاء کے نزدیک اگر حقیقتِ وجود (یعنی ذاتِ اقدس) کوکسی بھی تعیُّن اور تشخص کے ملاحظہ کیا جائے یعنی ذات اقدس کو فقط اور فقط لا تعیُّن کے اعتبار سے ملاحظہ کریں تو حقیقتِ وجود کو ’’ مسمّی ‘‘ کہتے ہیں۔ لیکن اگر حقیقتِ وجود (ذاتِ اقدس ) کو تعیُّن کی شرط کے ساتھ ملاحظہ کیا جائے تو ذات مع تعیُّن اسم کہلاتا ہےجبکہ بذاتِ خود تعیُّن صفت کہلاتا ہے۔یہاں سے عرفاء کے نزدیک اسم اور صفت میں فرق واضح ہو جاتا ہت۔ تعیُّن کوصفت کہا جاتا ہے جبکہ تعیّن کے ہمراہ حقیقتِ وجود کو اسم کہا جاتا ہے۔ پس اسم ایک وجودہے لیکن تعیُّن کے ہمراہ۔
اسم کا عینِ مسمی اور غیر مسمی ہونا:
اس مقام پر متکلمین اور عرفاء میں ایک اختلاف پیش آتا ہے۔ احادیث مبارکہ میں صراحت کے ذکر ہے کہ اللہ سبحانہ کا اسم غیر از مسمی ہے۔ اس بناء پر متکلمین قائل ہیں کہ اسماءِ الہٰی مسمی یعنی ذاتِ باری تعالیٰ کا غیر ہیں اور اسم کا عینِ مسمی ہونا صحیح نظریہ نہیں ہے۔ ان کے مقابلے میں عرفاء قائل ہیں کہ اسم عینِ مسمی بھی ہے اور الفاظ کے اعتبار سے اسم غیر از مسمی بھی ہے۔
ہشام بن حکم امام صادقؑ سے نقل کرتے ہیں: >{ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّضْرِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ الْحَكَمِ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ × عَنْ أَسْمَاءِ اللَّهِ وَاشْتِقَاقِهَا اللَّهُ مِمَّا هُوَ مُشْتَقٌّ ، قَالَ فَقَالَ لِي: يَا هِشَامُ اللَّهُ مُشْتَقٌّ مِنْ إِلَهٍ وَالْإِلَهُ يَقْتَضِي مَأْلُوهاً، وَالِاسْمُ غَيْرُ الْمُسَمَّى فَمَنْ عَبَدَ الِاسْمَ دُونَ الْمَعْنَى فَقَدْ كَفَرَ وَلَمْ يَعْبُدْ شَيْئاً وَمَنْ عَبَدَ الِاسْمَ وَالْمَعْنَى فَقَدْ كَفَرَ، وَعَبَدَ اثْنَيْنِ وَمَنْ عَبَدَ الْمَعْنَى دُونَ الِاسْمِ فَذَاكَ التَّوْحِيد؛} ہشام کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادقؑ سے اللہ کے اسماء اور اس کے اشتقاقات کے بارے میں سوال کیا ہے کہ اللہ جس سے مشتق ہے؟ امامؑ نے مجھ سے فرمایا: اے ہشام ، اللہ اِلہ سے مشتق ہے اور اِلہ کا مقتضی ’’مألوہ‘‘ ہے، اور اسم غیر از مسمی ہے، پس جس نے معنی چھوڑ کر اسم کی عبادت کی اس نے کفر کیا اور اصلاً عبادت انجام نہیں دی، اور جس نے اسم اور معنی ہر دو کی عبادت کی اس نے بھی کفر کیا اور دو اشیاء کی عبادت کی، اور جس نے اسم کی بجائے معنی عبادت کی تو یہ (اصل) توحید ہے < [8] اسی طرح عبد الاعلی امام صادقؑ سے الکافی میں روایت نقل کرتے ہیں جس کے اختتام پر امام صادقؑ فرماتے ہیں: > {وَاللَّهُ يُسَمَّى بِأَسْمَائِهِ وَهُوَ غَيْرُ أَسْمَائِهِ وَالْأَسْمَاءُ غَيْرُه؛ } قسم بخدا ! وہ (اللہ) اپنے اسماء سے موسوم ہے اور اس کے اپنے اسماء کا غیر ہےاور اسماء اس کا غیر ہیں < [9] امام صادقؑ سے منقول روایت میں لفظی اسم کا معنی یعنی ذاتِ الہٰی پر دلالت کرنے کی طرف اشارہ ہے جس کے مطابق بلا شک و شبہ اسم غیرمسمّی اور مسمّی غیر اسم ہے۔پس روایت میں اسم کا غیر مسمی ہونا واضح طور پر وارد ہوا ہے۔
حقیقت میں متکلمین نے حدیث کی بنیاد پر جسے اختیار کیا ہے اور جو عرفاء نے پیش کیا ہے دونوں میں اختلاف اور ٹکراؤ نہیں ہے کیونکہ عرفاء کی نظر میں ذاتِ اقدس کو تعیُّن یعنی صفت کے ساتھ ملاحظہ کرنا اسم کہلاتا ہے جوکہ صفت سے جدا نہیں ہے جبکہ متکلمین روایت کی اساس پر جس اسم کی بات کر رہے ہیں وہ اسم لفظی یا کتبی ہے جویقیناً ذاتِ الہٰی اور اس کی صفاتِ وجودی سے جدا ہے کیونکہ لفظی چیز منہ کے مخارج سے ٹکرا کر نکلنے والی ہوا ہے جوکہ یقیناً ذاتِ الہٰی و صفات سے جدا ہے۔ اسی طرح کتبی اسم حقیقت میں کاغذ پر سیاہی کے ذرّات ہیں اور یہ ذرّات یقیناً اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات سے جدا ہیں۔عرفاء جس پہلو سے گفتگو کر رہے ہیں وہ الفاظ یا مخارج سے ٹکرا کر نکلنے والی ہوا یا کتبی الفاظ نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے متعین ہونے کو اسم قرار دے رہے ہیں جوکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ساتھ متصف اور وجودی طور پر موجود ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ بلا تعیُّن ذاتِ اقدس ہے جسے صفت کے طور پر متعین کیا جائے تو اسی وجودِ الہٰی کو صفت سے اتصاف کی صورت میں اسم کہا جاتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کے موجود ہونے کی بناء پر اس کا اسم بھی موجود شمار ہو گا۔
اسماء الہٰی کا اسمِ اسمِ الاسم ہونا:
ہمارے سامنے لکھے ہوئے اسماءِ الہٰی جنہیں ہم اسم قرار دیتے ہیں حقیقت میں اسمِ اسمِ الاسم ہیں۔ اسم کا مطلب علامت ہے جو مسمی پر دلالت اور اس کی طرف رہنمائی کرتا ہے، جیسے ہر ذات کا نام (اسم) اس ذات کی طرف اشارہ کرتا ہے، اسی طرح اسم ہمیشہ ذات یعنی مسمّی کی طرف اشارہ یا رہنمائی کرتی ہے۔ کتبی اور منہ سے نکلنے والے الفاظ ذہن میں موجود معنی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس جہت سے کتبی اور لفظی اسم کا مسمی ذہنی مفہوم ہو گا۔ یہ ذہنی مفہوم حقیقت میں موجود اسمِ الہٰی کی طرف اشارہ اور رہنمائی کرتا ہے، اس اعتبار سے ذہنی مفہوم دوسرا اسم کہلائے گا اور اسم الاسم شمار ہو گا۔ پس ذہنی معنی جس کی طرف علامت یا نشانی یا نشاندہی کر رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی اور وجودی اسم ہے۔ پس عرفاء جسے اسم کہتے ہیں وہ ہماری اصطلاح میں رائج کلمات کے مطابق اسمِ اسمِ الاسم ہے۔ عرفاء کے مطابق ذاتِ الہٰی ایک حقیقت ہے جو تمام نسبتوں اور اضافات کو قبول کرتی ہے اور ان اضافات و نسبتوں کو اسماءِ الہٰیہ کہا جاتا ہے۔چنانچہ اسماء کثیر ہیں لیکن ذات وحدہ لا شریک لہ ہے۔پس اسماءِ لفظی حقیقت میں اسماءِ اسماء الاسماء ہیں۔
ملاصدراؒ نے باب میں جو تحریر کیا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسماء میں کثرت صفات میں کثرت کی وجہ سے آتی ہے اور یہ کثرت فقط صفات کے مراتبِ غیبیہ کی وجہ سے ہے جنہیں مفاتیح یعنی گنجیاں بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کثرت درحقیقت معانیِ عقلیہ ہیں جو وجودِ حق کی طرف توجہ کرنے کی صورت میں لحاظ ہوتے ہیں کیونکہ ذاتِ الہٰی کو عقل میں یا ذہنی طور پر لحاظ کیا جاتا ہے تو یہاں سے یہ معانی انتزاع ہوتے ہیں اور ان سے ذاتِ الہٰی کو متصف قرار دیا جاتا ہے اور اللہ سبحانہ ہی ان تمام معانی عقلیہ کا مصداق قرار پاتا ہے۔
تعیُّن سے مراد:
یہاں تعیُّن کے دو معنی مراد لیے جا سکتے ہیں:
۱۔ لفظِ تعیُّن کبھی شخص یا تشخُّص کے معنی میں آتا ہے جس سے مراد وہ شیء ہے جس کی وجہ سے کثیر پر صدق کرنا ممنوع قرار پاتا ہے۔ اس کو ہویّت بھی کہا جاتا ہے اور{ ’’مَنْ لَا هُوَ إِلَّا هُو‘‘} [10] بھی کہا جاتا ہے۔
۲۔ اسی طرح کبھی تعیُّن سے مراد حدّ بندی اور دائرہ تنگ کرنے کے معنی میں ہوتا ہے ۔
ہماری اس گفتگو میں تعیُّن سے مراد دوسرا معنی ہے یعنی حدّ بندی یا دائرہ تنگ کرنا ہے، جیساکہ کہا جاتا ہے اس کے کمال کے اندر وجود سرایت کیے ہوئے ہے جبکہ اس کا تعیّن ایک امرِ اعتباری ہے۔
مقامِ احدیت:
یہاں سے ہمارے سامنے مقامِ احدیت کی اصطلاح روشن ہو جاتی ہے۔ اللہ سبحانہ کے تمام تعیُّناتِ کمالیہ جو اس کے شایانہ شان ہیں اور ان تعیناتِ کمالیہ کے جو جو لوازمات اعیانِ ثابتہ میں موجود ہیں ، جیسے وجودِ مسمّی کے ساتھ اس کے اسماء ہیں ، یہ مقامِ اسماء و صفات ہے کو اصطلاح میں مرتبہِ احدیت کہا جاتا ہے۔اسی طرح وہ موجود جو غیر متعیّن اور فقط لا تعیُّن ہے اسے بھی مرتبہِ احدیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہاں لا تعیُّن سے مراد تعیُّنِ وصفی کو اصلاً ملاحظہ نہ کرنا ہے۔ جبکہ وجود اور ہویّت کے اعتبار سے لا تعیُّن عینِ تشخص ہے اور یہ تعیُّن اور تشخص بذاتہ ہے اور متعین بنفسہ ہے۔ لہٰذا یہ الفاظ و مفاہیم جیسے حیّ ، علیم، قدیر ، متکلم ، سمیع، بصیر وغیرہ اسماء الاسماء ہیں۔
مصطلحِ حصہ:
کلمہِ حصہ ایک عرفانی اصطلاح ہے جس سے مراد اعتباری تغایر ہے، جیساکہ کلّی اور حصّہ کی مغایرت اعتباری ہے کیونکہ تغایر فقط اعتباری اضافت اور نسبت ہے اور جس کی طرف اسے نسبت دی گئی ہے وہ مضاف الیہ خارج میں ہے۔
مصطلح تجلی:
تجلی سے مراد متجلی کا ظہور ہے اور ایک شیء کا ظہور تجلی سے مباینت نہیں رکھتا ۔ حصہ اور تجلی میں صرف یہ فرق ہے کہ کلّی اور حصہ کا اطلاق دنیائے مفہوم میں ہوتا ہے جبکہ تجلی اور متجلی کا اطلاق حقیقتِ خارجی پر ہوتا ہے۔ [11]
اسماءِ الہٰیہ کے ذریعے افاضہِ وجود:
اللہ سبحانہ تمام وجودات کو اسماءِ حسنی کے ذریعے وجود افاضہ کر رہا ہے۔ اسم وہ ذات ہے جسے ایک معنی سے مقید کیا گیا ہے، یعنی ذات کو صفتِ معین سے متصف کرنا اسم کہلاتا ہے، جیسے الرحمن یعنی وہ ذات جس کے لیے رحمت ثابت ہے۔ پس اسماءِ لفظی اسماءِ الاسماء ہیں۔ امام رضاؑ سے منقول روایت ہے: : > {عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ: سَأَلْتُهُ يَعْنِي الرِّضَا × عَنِ الِاسْمِ مَا هُوَ ؟ فَقَالَ: صِفَةٌ لِمَوْصُوفٍ؛} مجمد بن سنان کہتے ہیں میں نے امام رضاؑ سے اسم کے بارے میں پوچھا کہ اسم کیا ہے؟ امامؑ نے فرمایا: موصوف کے لیے صفت کو اسم کہتے ہیں۔ < [12]







