اخلاص

اخلاص

تدوین:بلال حسین

ترجمہ:

اخلاص کی اصل ،دوسروں کے پاس موجود تمام چیزوں سے ناامیدی ہے۔

شرح حديث:

اخلاص اور خلوص نیت ایک بہت عظیم مسئلہ ہے جس پر قرآن مجید کی آیات اور روایات معصومین میں بہت زیادہ تازور دیا گیا ہے۔صرف مخلص افراد ہی کی فکر و نیت ، عمل اور اخلاق قابل اہمیت ہے اور صرف وہی لوگ اجر عظیم اور رضوان الٰہی کے مستحق ہوتے ہیں۔اگر ہماری کوشش ، اعمال اور اخلاقی امور غیر خدا کے لئے ہوں تو ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے، اور خدا کے نزدیک اس کا کوئی ثواب نہیں ہے۔جو شخص اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے تو قرآن مجید کے فرمان کے مطابق اس کو اپنی حالت اور گفتگو کی اصلاح کرنا چاہئے، اور تمام امور میں خداوندعالم کی پناہ میں چلا جائے، اور اپنے دین اور تمام دینی امور میں خلوص خدا کی رعایت کرے، اور ریاکاری اور خودنمائی سے پرہیز کرے، اپنے دینی فرائض میں صرف اور صرف خدا سے معاملہ کرے، تاکہ اہل ایمان کی ہمراہی حاصل ہوجائے، اس سلسلہ میں درج ذیل آیہ شریفہ بہت زیادہ قابل توجہ ہے:

{اِلاَّ الَّذِینَ تَابُوا وََاصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاﷲِ وََاخْلَصُوا دِینَہُمْ لِلَّہِ فَاُوْلَئِکَ مَعَ الْمُؤْمِنِینَ وَسَوْفَ یُؤْتِ اﷲُ الْمُؤْمِنِینَ َاجْرًا عَظِیمًا }[2]
علاوہ ان لوگوں کے کے جو توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کر لیں اور خدا سے وابستہ ہوجائیں اور دین کو خالص اللہ کے لئے اختیار کریں تو یہ صاحبان ایمان کے ساتھ ہوں گے اور عنقریب اللہ ان صاحبان ایمان کو اجر عظیم عطا کرے گا۔

الاَلِلَّہِ الدِّینُ الْخَالِصُ.…[3]

آگاہ ہو جاؤ کے خالص بندگی اللہ کے لئے ہے…۔

جو شخص ریاکاری ،خود نمائی اور شرک کا گرفتار ہو تو بارگاہ خداوندی سے اس کا کوئی سروکار نہیں ہے۔

… {فَاعْبُدْ اﷲَ مُخْلِصًا لَہُ الدِّینَ }.[4]

…لہٰذا آپ (پیغمبر اکرم) مکمل اخلاص کے ساتھ خدا کی عبادت کریں۔

جن لوگوں کے اعمال میں اخلاص نہیں ہوتا ان کے اعمال خدا کی نظر میں ہیچ ہوتے ہیں لیکن خلوص کے ساتھ اعمال انجام دینے والوں کے اعمال کا خریدار خداوندمہربان ہے۔

…{وَلَنَا َاعْمَالُنَا وَلَکُمْ َعْمَالُکُمْ وَنَحْنُ لَہُ مُخْلِصُونَ.}[5]
(اے پیغمبرﷺ! بدکار اور مشرکین سے کہو)ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے تمہارے لئے اعمال اور ہم تو صرف خدا کے مخلص بندے ہیں۔

ریاکاری کی وجہ سے عمل باطل ہوجاتا ہے اور اس کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے، لیکن اخلاص سے عمل میں اہمیت پیدا ہوتی ہے اور اخلاص کے ذریعہ ہی آخرت میں جزائے خیر اورثواب ملنے والا ہے۔

توبہ کرنے والے کے لئے اپنی نیت کی اصلاح کرنا اور اپنے ارادہ کو خدا کی مرضی کے تابع قرار دینالازم و ضروری ہے تاکہ توبہ کا درخت ثمر بخش ہوسکے۔

اخلاص پیدا کرنے کا طریقہ خدا اور قیامت پر توجہ اور اولیاء الٰہی کے حالات پر غور و فکر کرنا ہے، اور انسان اس بات کا معتقد ہو کہ جنت و جہنم کی کلید خدا کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ہے، اور انسان کی سعادت و شقاوت کا کسی دوسرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حضرت رسول خدا ﷺ  اخلاص کے فوائد کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں:

{مَا اَخْلَصَ عَبْدلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ اَرْبَعِینَ صَباحاً اِلّا جَرَتْ یَنابِیعُ الْحِکْمَةِ مِنْ قَلْبِہِ عَلیٰ لِسانِہِ}[6]

جب کوئی بندہ چالیس دن تک خدا کے لئے اخلاص سے کام کرے تو خداوندمہربان اس کی زبان پر حکمت کا چشمہ جاری کردیتا ہے۔

 

حضرت امام صادق علیہ السلام کا ارشادہے:

{اِنَّ الْمُؤمِنَ لَیَخْشَعُ لَہُ کُلُّ شَیْئٍ وَیَھابُہُ کُلُّ شَیْئٍ ثُمَّ قالَ:اِذاکانَ مُخْلِصاً لِلّٰہِ اَخافَ اللّٰہُ مِنْہُ کُلَّ شَیْئٍ حَتّیٰ ھَوامَّ الْاَرْضِ وَ سِباعَھاوَ طَیْرَ السَّمائ }[7]بحار الأنوار ،علامہ مجلسی، جلد : 67 ، صفحہ: 305

بے شک’ مومن انسان ‘کے لئے ہر چیز خاشع و خاضع ہے اور سبھی اس سے خوف زدہ ہیں، اس کے بعد فرمایا: جس وقت مومن انسان خدا کا مخلص بندہ بن جاتاہے تو خداوندعالم اس کی عظمت اور ہیبت کو تمام چیزوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے، یہاں تک کہ روئے زمین پر وحشی درندے اور آسمان پر اڑنے والے پرندے بھی اس کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں۔

حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے:

{سَبَبُ الْاِخْلاصِ الْیَقینُ۔}[8]

یقین وایمان کے ذریعہ اخلاص پیدا ہوتا ہے۔

{اَصْلُ الْاِخْلاصِ الْیَأْسُ مِمّا فِی اَیْدِی النّاسِ۔}[9]

اخلاص کی اصل ،دوسروں کے پاس موجود تمام چیزوں سے ناامیدی ہے۔

{مَنْ رَغِبَ فِیما عِنْدَ اللّٰہِ اَخْلَصَ عَمَلَہُ۔}[10]

جو شخص خداوندعالم کی رحمت و رضوان اور بہشت کا خواہاں ہے اسے اپنے عمل میں اخلاص پیدا کرنا چاہئے۔

Scroll to Top