اخلاص کےساتھ اللہ کی عبادت کرنا

اخلاص کےساتھ اللہ کی عبادت کرنا

تدوين :بلال حسين

امام سجادؑ ارشادفرماتےہیں:

{فَأَمَّا حَقُّ اَللَّهِ اَلْأَكْبَرُ فَأَنَّكَ تَعْبُدُهُ لاَ تُشْرِكُ بِهِ شَيْئاً فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ بِإِخْلاَصٍ جَعَلَ لَكَ عَلَى نَفْسِهِ أَنْ يَكْفِيَكَ أَمْرَ اَلدُّنْيَا وَ اَلْآخِرَةِ وَ يَحْفَظَ لَكَ مَا تُحِبُّ مِنْهَا}. [1]

ترجمہ:

تواللہ کاسب سےبڑاحق(تمہارےذمے)یہ ہےکہ تم اس کی عبادت کرو،کسی چیزکواس کاشریک نہ بناؤ،جب تم نےاخلاص  کیساتھ  ایساکیاتواس  نےتمہارےلئےاپنےذمےلیاہےکہ تمہاری دنیااورآخرت کےکام کوسنواردےاوراس(دنیااورآخرت)میں سےجوتمہیں پسندہےاسےتمہارےلیےمحفوظ کرے۔

شرح:

حریت پسندلوگ جنت اورجنت کی نعمتوں کواس لیےطلب کرتےہیں کہ جنت ،اللہ  تعالی کےقرب کی منزل ہےاورنعمتوں کو اس لیے طلب کرتےہیں کہ نعمتیں ایسےبندوں پراللہ تعالی کےلطف وکرم کی نشانی ہیں۔یہ وہی عبادت میں اخلاص ہے جوسب شیطانی وسوسوں کی رسائی سےمحفوظ رہ سکتاہے۔اس سلسلہ میں ابلیس  کی بات   سورۃص آیت نمبر۸۲۔ ۸۳   میں بیان ہوئی ہے قال فبعزتک  {لاغوینھم أجمعین،الا عبادک منھم المخلصین۔} [2] اس نےکہا توپھرتیری عزت کی قسم میں سب کوگمراہ کروں گا،علاوہ  تیرےان بندوں کےجنہیں تونےخالص بنالیاہے۔

لہذا مخلصین  کوشیطان  وسوسہ نہیں کرسکتااورشیطان کےوسوسوں سےتحفظ،خالص عبادت  کےبغیر ممکن نہیں ہے۔قرآن کریم نےبھی خالصانہ عبادت کاحکم دیاہے،سورۃ  بینہ  کی آیت نمبر ۵میں ارشاد الہی ہے{:وماامرواالالیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین حنفاء}۔[3]

حالانکہ انہیں توبس یہی حکم دیاگیاتھاکہ دین کواسی کےلئےخالص کرتےہوئےاللہ تعالی کی عبادت کریں بالکل یکسوہوکر۔لہذاشیطان کی وسوسوں سےبچنا،خالص عبادت کےبغیرممکن نہیں ہے۔سورۃ کہف  کی آیت۱۱۰ میں ارشادالہی ہے{:فمن کان یرجولقاءربہ فلیعمل عملا صالحا ولایشرک بعبادہ احدا}،[4]

لہذا جوبھی اس  اس کی ملاقات کاامیدوارہےاسےچاہیےکہ عمل صالح  کرےاور کسی کواپنےپروردگارکی عبادت میں   شریک  نہ بنائے۔

حضرت لقمان نےاپنےبیٹےسےفرمایا:{أَخْلِصِ اَلْعَمَلَ فَإِنَّ اَلنَّاقِدَ بَصِيرٌ}،عمل کوخالص کروکیونکہ پرکھنے والاہے

ناقداسےکہاجاتاہےجواشرفی وغیرہ کی کھوٹ اورکھراپن پرکھتاہے۔

Scroll to Top